الیگزینڈر گروف

الیگزینڈر گروف

کبوتر

    ترجمہ: کشور ناہید

     

    سب سے خوبصورت کبوتری

    آج صبح صبح مر گئی

    میں نے اس کے ٹھنڈے اور مردار جسم کو اٹھایا

    اور یخ زمین میں دبا دیا

    کبوتر تنہا ہو کر

    بادلوں سے اوپر، دوسرے کبوتروں کے ساتھ اڑنے لگا

    صبح کی روشنی میں اس کے پر گرتی پتیوں کی طرح کی آواز پیدا کر رہے تھے

    اور پھر وہ سب سے الگ، سب سے جدا تھا

    اس کا غم شدید اور بے پناہ تھا

    اس کی غمناک آواز

    آنے والی موت کا نوحہ بنی ہوئی تھی

     

    ہماری زندگیاں بھی یونہی ختم ہو جاتی ہیں

    ہم بھی یونہی تنہا رہ جاتے ہیں

    مگر ہمارے پاس اڑنے کے لیے پر نہیں ہوتے ہیں

    ہم درد کی شدت سے مضطرب زندہ رہنے پر مجبور ہیں