بلاگا دمترووا

بلاگا دمترووا

ایئر ریڈ

    ترجمہ: احمد سلیم

     

    دنیا اچانک ۔ بہت بوڑھی ہو گئی

    ہزار برس کا بھونچال اور طوفان

    ... اسی ایک منٹ میں آیا

    کیا یہ کسی کو راکھ بنانا چاہتے ہیں؟

    بانسوں کے پنگھوڑوں میں سوئے ہوئے بچوں کی صبح کو؟

    یا صفوں پر جو تھکاوٹ بچھی ہے؟

    اورچٹائی پر جو خواب پڑے ہیں؟

    یا کنجوسی سے کھانے کے بعد بچے ہوئے مٹھی بھر چاولوں کو؟

    یا اس دانشمندکو جو رت جگے کاٹتا ہے؟

    یا زخمی سپاہی کی بچی ہوئی ایک ٹانگ کو؟

    یا پھر ڈاکیے کو، اور اس کے خطوں کو؟

    آج ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟

    اس لیے کہ عمر بھر کی اذیتیں انہوں نے اپنے دل پر برداشت کی تھیں

    اور ان کی یہ سوچ بھی انسانی سوچ تھی

    اور سوچوں کے ساتھ لفظ بھی

    اور لفظوں کے ساتھ عمل بھی

    اور اب بھی دنیا یہ تسلیم نہیں کرتی

    کہ یہ بھی انسان ہیں