کرتار سنگھ دگل

کرتار سنگھ دگل

نظم

    ترجمہ: سمن کاظمی

     

    میں نے پلکیں بھیڑ رکھی ہیں

    یاد تمہاری آئی ہے

    نیم گرم آنکھوں میں

    آنسو سلگ اٹھے ہیں

    میں نے پلکیں بھیڑ رکھی ہیں

    دنیا میری خالی ہے

    کھڑکی کے رستے کرنوں کے ساتھ

    آجا چاند کی ڈلی

    میں نے پلکیں بھیڑ رکھی ہیں

    بیٹھ تو پاس مرے

    کانوں میں میرے باری باری کہتی جا

    میں ہمیشہ یہیں تو تھی

    ایک ہاتھ کے فاصلے پر

    میں نے پلکیں بھیڑ رکھی ہیں

    کوئی نہیں کوئی نہیں

    دنیا مری خالی ہے

    یاد تری آئی ہے

    نیم گرم آنکھوں میں

    آنسو سلگ اٹھے ہیں

    (پنجابی)