ایک دعا جو قبولیت پائے گی
ترجمہ: ظہیر پراچہ
پروردگار! اس سے پہلے کہ مجھے موت آجائے
مجھے مزید مصائب جھیلنے کی قوت عطا کر
مجھے سناٹوں سے کھیلنے کی توفیق دے
اور میرے پاس کچھ نہ رہنے دے ...... حتیٰ کہ خوف بھی
دنیا کو قائم و دائم رکھ
تاکہ سمندر پہلے کی طرح ریت کا بوسہ لیتا رہے
گھاس کی سرسبزی و شادابی کو برقرار رکھ
تاکہ مینڈک اس میں پناہ لے سکیں
اور عاشق اس میں اپنا چہرہ چھپا کر
اپنی محبت کے لیے سسک سکیں
دن پوری تابانی سے چڑھتا رہے
اور یوں لگے جیسے غم و اندوہ کا خاتمہ ہو چکا ہے
اور میری نظموں کو اتنا واضح کر دے
جتنا کھڑکی کا شیشہ
جس سے شہد کی مکھی اپنا سر ٹکرا دیتی ہے