رہائی
ترجمہ: ظہیر پراچہ
وہ مجھے اندر لائے
اور شناختی کارڈ پر نقش
میرے نام کے پہلے او رآخری حصے کو غور سے پڑھا
اور پھر مجھے جانے کی اجازت دے دی
...... گویا میں خطاوار نہیں تھا
وہ دونوں رنگروٹ تھے
یقیناً انہوں نے غور سے نہیں دیکھا
یا شاید وہ میری آنکھوں میں روشن شعلوں کو پڑھ ہی نہیں سکے
رہائی کے بعد
میں زنجیروں کو پیچھے چھوڑتا آگے بڑھتا چلا گیا