گل رخسار صفی

گل رخسار صفی

زین فروشی

    ترجمہ: علی دیپک قزلباش

     

    زین زریں

    زیب دلدل ہے

    پشت وروسے زرنگار و زرگل .....

    مو سفید سادہ دل، با التفات،

    قیمتی گھوڑے ہیں وارفتہ سب

    سرگرم راہ ہے اب عام نسل

    اب نہیں کوئی، اسپ تازی

    اور نہ چابک سوار.....

    پیادہ رو کو زین بے کار ......

    گرچہ زین بے سوا رو بے سمندر

    ہے اب بھی خاک سے یکسر بلند ......

    بے خریدار ہے مگر

    پھر بھی متاع پیر کا

    زین خالی

    ہے یہاں منتظر شاہسوار