دو بیتی
ترجمہ: علی دیپک قزلباش
( 1)
زباں تیری نہ سمجھے ماں بھی تیری
تجھے بیگانہ سمجھے تیری دھرتی
وہ شاخ باہر از دیوار ہو تم
پھلوں سے جس کی غیروں کا بھلا ہو
( 2)
کبھی ہے صلح، کبھی جنگ میں ہم
ہیں آسودہ، کبھی دل تنگ ہیں ہم
اگرچہ زندگی میں مختلف ہیں
نظر میں موت کی یک رنگ ہیں ہم