بیتی رات
ترجمہ: شوکت کاظمی
صبح سویرے میرا کمرہ
کئی پرندوں کی چہکار سے بھر جایا کرتا تھا
میں بوجھل راتوں کی گہری نیند سے اٹھا کرتا تھا
درد بھرے نوحوں میں کتنا غم تھا
اور اذانیں آسمان کو چیرا کرتی تھیں
سوکھے ہونٹوں والے کمسن بچے اٹھتے ہی رویا کرتے تھے
کالے دھندے والے سرحد پار کیا کرتے تھے
اور بارود سے بھری سرنگیں باری باری پھٹتی تھیں
اپنا بچپن انگوروں کی بیلوں میں سرعت سے گزرا تھا
اور ہمیں، خزاں کے موسم ہلکے گہرے دکھ سے بھر جاتے تھے
کہیں انار تھے
اور کہیں انجیر کے بوٹوں کا پانی پائیں باغ کو بھر جاتا تھا
شاید سخت تمازت سے پانی بھی جل اٹھتا تھا
لا تعداد ستاروں والا نیل گگن
اپنے سامنے انواع و اقسام کے میوے دھر دیتا تھا
سر پر آئی رات کا اپنا روپ تھا
تب ہم چاندنی رات کو اس کا خراج ادا کرتے تھے
میں نے ایک ڈراؤنا سپنا دیکھا تھا
ماں اس خواب کی جیسی تیسی بھی تعبیر ہو۔ بتلاؤ
ایک بلند پہاڑ سے
میں اک وادی کی جانب اڑتا جاتا تھا
میرے بازو میرے پہلوؤں سے چمٹے تھے
سر سیدھا تھا اور نگاہیں اوپر کی جانب مرکوز تھیں
چور لٹیرے میرے پیچھے لگے ہوئے تھے
اور میں آگے آگے بھاگ رہا تھا
جب میں خوف کے مارے اپنی آنکھیں موندتا تھا
وہ غائب ہو جاتے تھے
لگتا تھا میری آزادی سلب ہوئی جاتی تھی
میری ماں خوابوں کی تعبیروں کی ماہر تھی
میرا خوف اتر جایا کرتا تھا
میں ہلکا پھلکا اور خرم ہو جاتا تھا
گہری، کالے گولے جیسی، رات کا جال بکھر جاتا تھا