می شیمایوکیو

می شیمایوکیو

نظم

    ترجمہ: احمد سلیم

     

    ہر شام میں اپنی کھڑکی میں کھڑا

    عجیب حادثوں کا انتظار کرتا ہوں

    عجیب بدشگونی کا

    ایک ریتلا جھکڑ گلیوں میں گھومتا ہے

    اور رات کو آسمان پر کہکشاں نظر آتی ہے