وطن دشمنوں کے لہجے کی ایک نظم
ترجمہ: شوکت ہاشمی
اس نگر میں روشنی ممنوع ہے
اس نگر میں تتلیاں بدکار ہیں
اس نگر میں پھول بھی معیوب ہے
اس نگر میں گیت گانا جرم ہے
اس نگر میں مسکراہٹ کفر ہے
اس نگر میں خواب پر تعزیر ہے
اس نگر میں قہقہے قیدی ہوئے
اس نگر میں ہر پرندہ مر ہی جائے
اس نگر میں چاند پر الزام ہے
اس نگر میں کون دیکھے آفتاب
اس نگر میں عورتیں پوری نہیں
اس نگر میں مسکرانا موت ہے
اس نگر میں زندہ رہنا الاماں!
اس نگر میں شعر کہنا الاماں!