آس
ترجمہ: احمدفراز
رات کے سرخ انگارے
غلامی کی مار کھائے ہوئے
ہمارے یخ بستہ دلوں کو
خطرے کا اشارہ دے رہے ہیں
رات کی سیاہی میں
انگار آنکھیں چمک رہی ہیں
ہماری زندگیاں
کتنی ہی اذیتوں کے سایوں میں لپٹی ہوئی ہیں
مگر ہماری فطری انسانی امید
مزاحمت
اور نبردآزمائی کے لیے
ہمیں آگے اور آگے
ہنکائے لیے جا رہی ہے