ال ریکا ایس گرنس

ال ریکا ایس گرنس

نظم

    ترجمہ: سعادت سعید

     

    بے خیالی میں بل کھاتی گلیوں میں گھومتے آوارگی کی خاطر

    ساکن اندھیرے میں کیوں نہ اپنا دل کھولا جائے

    روشنی کی خاطر

    پرندے پروں کے کمبل سمیٹے ہوئے آسمانوں سے نیچے اترنے لگے ہیں

    قرب و جوار کے مناظر، ہر روز، ہر لمحہ ایک نیا معجزہ

    جو رہتا تو دور ہے لیکن قریب آنا چاہتا ہے

    کیا دانشمندی چہروں سے چھلکتی ہے

    یہ تصور کیسا مضحکہ خیز ہے

    کیا پرندے ہوا ہی میں معلق ہو جائیں؟

    کیا دریا ٹھہر جائیں؟

    کیا چاند کی گردش رک جائے؟

    میں ان تمام اشاروں اور ان کی حاشیہ آرائیوں سے پرے کھڑی

    ان سب سے متشددانہ انداز میں بغل گیر ہونا چاہتی ہوں

    میرا دل کھلا ہوا ہے

    روشنی کی اک کرن کیا تمہی ہو؟

    اے بدقسمت موت کہ جو میری خوش بختی ہو سکتی ہے