جنم
ترجمہ: سعادت سعید
بھوک! بھیڑیے کی طرح
اس کی محبت سمندر کی مانند
اس پر برستے بادل کس کی نفرت ہے!
برف میں دور تک جاتے ہوئے قدموں کے نشان اور
ان کے آخری سرے پر وہ بیٹھی ہے
جہاں دھوپ اپنا ماتھا جھکاتی ہے
جہاں زمین و آسمان اپنے ہونٹ باہم پیوست کرتے ہیں
جہاں کائنات ہم آغوش ہوتی ہے
وہ بیٹھی ہے ان پیچھے رہ جانے والے قدموں کے آخری نشانوں پر
اس کا بدن بھاری ہے
ہوا کا ایک جھونکا
بس ایک جھونکا
وہ اس کے ساتھ اڑنے کو تیار ہے