نظم
ترجمہ: سعادت سعید
گہرائی کی دہشت
آسمان کی گرفت مضبوط ہے
پانی، شفاف اور بے آواز
سرد، میں اپنے آپ کو سپاٹ بناتی ہوں
زیر آب سیٹی کی مانند
کھلی دھند کی مانند
بے اعصاب
اگر تم پانی کے دباؤ کی صورت ہوتے ہو
میں سر تسلیم خم کرتی ہوں
میری دھڑکن ایک ناہموار پرواز ہے
زیر تہ آواز
میں ایک لمبی ڈبکی ہوں۔ نیچے
اگر تمہارا ذوق مندر کے مقدس ہوا جھونکوں کی مانند ہے، تو میں
اسے نہیں جانتی
میں تو ماتمی انداز سے تمہارے سائے پر
جوان پرندے
پھینکتی ہوں