خستگی
ترجمہ: کشور ناہید
کھیتوں کی اجڑی جوانی اور خزاں کی طرح
افسردگی مجھ میں سمائی ہوئی ہے
ایک بوسہ بھی میری روح تک نہیں پہنچتا ہے
ایک برف پارہ بھی اس زمین کو نہیں چھو سکا ہے
دکھ کا گیت
سب سے زیادہ دکھ بھرا گیت
کرفیو کے وقت
بے بسی اور کسمپرسی کے عالم میں
چڑیوں کی خشک چیخوں سے ابھرتا ہے
یہ زندگی ہے جو دن بدن
لا محدود وسعتوں میں درد کی زنجیر بنتی چلی جاتی ہے
ان درختوں کے درمیان جو جنت کے لیے اگے ہیں
ان پانیوں کے درمیان جو صرف اپنی سطح تک مقید ہیں
ان گلوں اور ریوڑوں کے درمیان جو چراگاہ تک محدود ہیں
ان پتیوں کے درمیان جو ہوا کے دوش پر بکھر جائیں گی
زندگی درد کی زنجیر بنتی چلی جاتی ہے