ایمل ایساک

ایمل ایساک

واپسی

    ترجمہ: کشور ناہید

     

    کسان کام سے واپس، گھروں کو پلٹ رہے ہیں

    ان کے چہروں پر عمر گزرنے کا نوحہ رقم ہے

    ان کے ہل اور ان کے پھل

    رنج و محن کا آئینہ ہیں

    اور چہرے آنسوؤں سے عرق عرق ہیں

    وہ چہرے نیوڑھائے، بے دلی سے چل رہے ہیں

    ان کی روحیں بوجھل ہیں

    اور ان کی جیبیں خالی ہیں

    جیسے ہی وہ ان کی طرف آتے ہیں

    سورج، ایک آدرش کی طرح

    ان پر شعاع افروز ہوتا ہے

    تھکے ہوئے قدموں کے ساتھ چلتے ہوئے

    وہ گھروں کی سمت جاتے ہیں

    ایک کھلی ہوئی بگھی ان کے پاس   سے گزرتی ہے

    جس میں امر اور بیگمات

    زیورات اور خوشبوؤں میں بسے ہوئے ہیں

    جیسے یہ ان کے پاس سے گزرتی ہے

    کسان ہمیشہ کی طرح

    بزدلی کے ساتھ برہم ہوتے ہیں

    ’’زندگی یہی ہے‘‘

    ہم گندم کی فصل اگاتے ہیں

    اور یہ ’’لوگ‘‘ کھاتے ہیں