سٹیفان آگسٹن ڈوٹیناس

سٹیفان آگسٹن ڈوٹیناس

آج ہم جدا ہوتے ہیں

    ترجمہ: کشور ناہید

     

    اب ہم نہیں گائیں گے، اب ہم نہیں مسکرائیں گے

    آج اک نئے موسم اور اس کے نئے احساس کی ابتدا ہے

    آج ہم جدا ہوتے ہیں

    ایسے جدا ہوتے ہیں جیسے زمین اور پانی

    جدا، جدا ہوتے ہیں

    ہماری خامشی کا ہر اظہار بالکل قدرتی ہے

    ہم ایک دوسرے سے کہتے ہیں

    ’’یہ اس طرح ہونا چاہیے‘‘

    قریب ہی ایک نیلا سایہ

    ہمارے ذہنوں کی سچائی اور صداقت کی تائید کرنے کے لیے

    بطور شاہد، موجود ہے

    بہت جلد، تم سمندروں کی نیلاہٹوں جیسی ہو گی

    اور میں زمین کے سارے گناہوں کے ساتھ

    زمین جیسا!

    بڑے بڑے پرندے تمہیں آسمانوں میں تلاش کریں گے

    اپنی چونچوں میں وہ تمہارے لیے خوراک اور خوشبوئیں بھر بھر لائیں گے

    لوگ سوچیں گے

    ہم دشمن ہیں

    ہمارے درمیان دنیا ٹھہر جائے گی،

    صدیوں پرانے جنگل کی طرح

    جس میں دھاری دار فر والے خونخوار جانور رہتے ہیں

    کسی کو نہیں معلوم ہو گا کہ ہم اب بھی ایک دوسرے کے قریب ہیں

    ہر شام میری روح

    پانی کے بہاؤ سے کٹے ساحل کی طرح

    تمہارے جسم میں متشکل ہو جاتی ہے

    آج ہم نہ ایک دوسرے کو چومتے ہیں

    نہ ایک دوسرے کے لیے فکر مند ہوتے ہیں

    ہم تو ایک دوسرے کی خواہش بھی نہیں کرتے ہیں

    اک نئے موسم اور اس کے احساس کی ابتدا ہے

    آج ہم جدا ہوتے ہیں

    ایسے جدا ہوتے ہیں

    ایسے جدا ہوتے ہیں، جیسے زمین اور پانی جدا، جدا ہوتے ہیں

    تم بہت جلد، آسمان کا اک عکس بن جاؤ گی

    میں کالا سورج اورزمین بنوں گا

    جلد ہی ہوا اٹھے گی

    ہوا بہت جلد اٹھے گی!