ٹوماس ٹرانسٹر

ٹوماس ٹرانسٹر

رات

    ترجمہ: شکیل فاروقی

     

    رات کو گاڑی گزرتی ہے گاؤں سے

    بتی کی چوندھ سے کھڑے ہو جاتے ہیں گھر

    جاگ اٹھتے ہیں، پیاس لگتی ہے

    گھر،دروازے، کھمبے، ٹھالی کھڑے

    اس لمحے جیسے جی اٹھتے ہیں سب کے سب

    وہ جو سوئے ہوئے تھے

     

    کچھ سوئے تھے چین کی نیند

    اور کچھ کے چہرے تنے ہوئے سے تھے

    جیسے لا محدود کو پانے کے لیے بے چین

    نیند بہت گہری، مگر اندیشہ

    کہ کہیں سب کچھ ہی چھوٹ نہ جائے

    پراسراریت کے گزرنے پر

    بند ریل کا پھاٹک

    گاؤں کے پرے سے سڑک دور بنوں کے اندر تک چلی گئی ہے

    اور درخت خاموش کھڑے ہیں، قطار در قطار

    ساکت، چپ سادھے

    ان کا ڈرامائی رنگ

    سرخ، شعلوں جیسا

    پتی پتی الگ

    دہکتی ہوئی

     

    بیداری اور خواب کے درمیان

    ایک بڑا سا حرف

    اپنے آپ کو ٹھونسنا چاہتا ہے

    مگر ایسا کر نہیں پاتا