اے۔ ایل ۔ خطیب

اے۔ ایل ۔ خطیب

سانپوں کو کچل دو

    ترجمہ: ادیب سہیل

     

    کچل دو، کچل دو ان سانپوں کو

    جو پھن پھیلائے ناچ رہے ہیں......

    جب انتہائے رقص میں

    میں ایک کامیاب زقند لگانے ہی والا تھا

    کہ میری ریڑھ میں سویا ہوا سانپ سرسرایا

    اور مجھے مبہوت کر گیا

    یہ تشدد کیوں؟

    وہ جو آزاد ہے، آزادی طلب نہیں کرتا

    خواہش کی کنڈلیوں میں گرفتار

    تم دوہرے رقص کرتے ہو

    محبت اور نفرت کا رقص

    تم جتنا زیادہ بچنے کی کوشش کرو گے اور الجھو گے

    الجھتے ہی چلے جاؤ گے

    مجھے کاٹ دو

    مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دو

    ہر ٹکڑا سانپ کا زہریلی سوزن

    تمہارے خون میں دوڑے گا

    تمہارے سفید پھولوں کو قرمزی

    اور تمہارے خواب کو تباہ کر دے گا

    حوا، آدم کی پسلی سے تخلیق ہوئی ہے

    اس کی نال نہیں کاٹی گئی

    باغ عدن میں سانپ کس کی ناف میں خوابیدہ ہے؟

    آدم باغ عدن سے نکالے جانے کا الزام حوا کو دیتا ہے

    اور حوا سانپ کو

    دونوں میں سے کوئی سادہ حقیقت کا سامنا کرنا نہیں چاہتا

    فرائیڈ سے ماقبل کے انگوٹھا چوسنے والے معاصر جو کہیں

    نہ تم شجر ممنوعہ کی خواہش کر سکتے

    نہ ہی وہ آدھی سچائی

    جو جھوٹ سے بھی زیادہ قابل ملامت ہے

    تمہاری معصومیت کی اساس بن سکتی ہے

    کچل دو کچل دو سانپوں کو

    جو پھن پھیلائے ناچ رہے ہیں