عبدالوہاب البیاتی

عبدالوہاب البیاتی

ایک شہر ناپید کا مرثیہ

    ترجمہ: امجد اسلام امجد

     

    مکھیوں اور لوگوں کی کثرت سےآٹھوں پہر گونجتا یہ مرا

    شہر ہے

    میری آنکھیں اسی کی ہوا میں کھلیں

    اور اس کی فصیلوں پہ پھرتے ہوئے

    میں نے آنکھوں سے اوجھل

    مناظر کو سوچا

    جنہیں دیکھنے کے لیے زندگی بھر سفر کا جہنم سہا

    یہیں میں نے سیکھے محبت کے معنی

    یہیں پر نفس کے پس و پیش کا فرق جانا

    یہیں میں نے دیکھا کہ کیسے گھروں سے بچھڑنے کا غم

    آدمی کو زمیں کی تہوں میں چھپے عالموں کی طرح رولتا ہے

    اسی شہر میں مجھ کو والد نے چیزوں کی پہچان دی

    اور دکھائے مجھے

    دشت میں رقص کرتے سرابوں کے چکر

    لپکتی ہوئی آگ، دریا، امڈتی گھٹاؤں کے لشکر

    نفی اور اثبات کا فرق، نیلے سمندر کے بے انت منظر،

    یہ بتایا مجھے

    کس طرح صبر کرتے ہیں، کیسے بزرگوں کی پاکیزہ روحوں

    سے ملتا ہے فیضان اسی روشنی کا

    بہاروں کی نکھری ہوئی تازگی کا

    جو اب تک نگاہوں میں اتری نہیں

    آستین زمیں میں یا بطن صدف میں کہیں دفن ہے

    اس مسیحا صفت کے لیے منتظر

    جو اسے کھوج کر

    دہر کی تیرگی کو نوید مسرت سے روشن کرے گا

    مرے باپ نے مجھ کو دن رات کے انتظار مسلسل سے واقف کیا

    اور دنیا کے نقشے پہ اس شہر کو ڈھونڈنے کی لگن

    دل کو دی

    وہ طلسمات کا شہر ناپید جو

    ہو بہو

    میرے اس شہر کا عکس ہے

    اس کی آنکھوں کا رنگ اور پھیکی ہنسی بھی اسی شہر سی ہے

    مگر اس کے تن پر جو ملبوس ہے، ریزہ ریزہ نہیں

    خواب کا شہر جو بے ہنر وحشیوں کا ٹھکانا نہیں

    جو نہ ان چیتھڑا پوش آوارہ گردوں کی وحشت سرا ہے

    نہ گرمی کے موسم میں ڈستی ہوئی مکھیوں اور لوگوں کی

    کثرت سے

    آٹھوں پہر گونجتا ہے