گھر کی خبریں
ترجمہ: افضل احسن رندھاوا
’’میرے پیارے بیٹے! میں راضی ہوں شکر خدا کا
تیرے واسطے میں دن رات دعائیں کرتی ہوں۔‘‘
’’میرے پیارے بھائی!یہ اک دکھی کر دینے والا فرض ہے
کہ میں تجھ کو بتلاؤں کہ اماں جی فوت ہو گئیں
پچھلی اتوار کو
اک معمولی سی بیماری کے بعد۔‘‘
’’اے میرے چچا زاد! میں اب کافی بڑا ہو گیا ہوں
بھیجو کچھ پتلونیں اور نئے جوتے مجھ کو۔‘‘
’’میرےپیارے! دس برس سے میں تیرا رستہ پڑی دیکھتی ہوں
گورے کے اس ملک میں، کون سی شے ہے جو تم کو روکے ہوئے
سوچ ذرا کہ تیری اس لمبی غیر حاضری سے
ہم کتنی تکلیف میں ہیں۔‘‘
’’پیارے دوست ہمارا قصبہ
ایک بڑے قصبے میں بدل رہا ہے
کسی کو پیٹ بھر کے روٹی ملتی نہیں سوائے ......
مجھ کو ٹیپ ریکارڈر اک بھیجو۔‘‘
’’میرے بیٹے! میں ہوں تمہارا باپ، جو
تمہاری منتیں کر رہا ہوں، واپس وطن کو لوٹو
ورنہ پھر تمہیں، میری قبر پہچاننے کا بھی
نہیں ہو گا افسوس۔‘‘
’’میرے پیارے بھتیجے! مجھ کو بتانا چاہیے
تمہارے باپ کی موت کی خبر اور یہ امید کہ
تم آ کے اس کے چالیس دنوں کے سوگ میں شامل ہو گے۔‘‘
’’میرے پیارے! ......!‘‘
اک آنسو جب ڈاکیہ میرے پاس سے گزرا کل
آج میں اس کے انتظار میں پھر سے ہوں بے چین
ایک اداسی مجھ کو چاروں طرف سے گھیرے رہتی ہے، کہ جب
مجھ کو کوئی گھر کی خبر نہیں ملتی،
میری روح مرجھا جاتی ہے
جب کوئی گھر کی خبر میرے اوپر آ گرتی ہے
پچھلے روز اک کشتی میں نے بنائی
گھر کی خبروں سے لدی ہوئی
اس کو میں نے سمندر پار جلاوطنوں کے
گھاٹ پہ، پانی میں چھوڑا
پھر میں نے اس کے پہنچنے کے لیے دی حاضری
امید تلے اکلاپے کی بندرگاہ پر
میری کشتی لائی میرے لیے کچھ خفیہ مسافر
اگلے روز ہی چٹھی رساں کا معجزوں والا ہاتھ
بڑھا ہوا تھا میری طرف
’’مرے پیارے دوست! تمہارا بھائی پکڑا گیا
پچھلے ہفتے جائیداد کی ضبطی کے اک جھگڑے میں
تیرے حکومت مخالف کام پہ
کسی بھی مرد کے بنا ترا اب خاندان رہ گیا ہے
مجھ کو ایک قمیص اور اک نکٹائی بھیج۔‘‘