بارود کے ڈھیر پر
ترجمہ: سید نصیر شاہ
امن کے نغمے امانت ہیں امانت ہی رہیں
ان فضاؤں میں بکھیر ...... فاختہ اے فاختہ
سبز انگوروں کی بیلیں ہوں کہ مٹیالا دھواں
بان کی شاخوں پہ گا ...... فاختہ اے فاختہ
آنسوؤں سے بھیگتے ساحل کے ذروں کو نہ دیکھ
سسکیوں کو چاٹتی توپوں کے گولوں کو نہ دیکھ
تتلیوں کے پر ہوئے ہیں خون میں تر کیا ہوا؟
ان کی تجھ کو فکر کیا ...... بان کی شاخوں پہ گا
دھاڑتے ٹینکوں کے وحشی پاؤں سے کچلے ہوئے پھولوں پہ گا ...... فاختہ اے فاختہ
امن کے نغمے سنا
فکر کیا بیٹھی ہے تو بارود کے اک ڈھیر پر
چونچ میں زیتون کی کونپل لیے
گا رہی ہے گیت کتنے شوق سے
امن عالم کے لیے
کچھ خبر بھی ہے کہ کالی رات جیسے ڈھیر کے ...... دور کے کونے سے چونک اٹھی ہے چنگاری کوئی
تو سمجھتی ہے جسے کوئی کرن امید کی
یہ اچانک آتش سفاک میں ڈھل جائے گی
اور پھر ...... اور پھر ...... اور ...... بس