اے صمد سعید

اے صمد سعید

ایک پتہ

    ترجمہ:  علی مطہر اشعر

     

    ایک مڑا تڑا پتہ اور ایک ڈالی

    بارش میں ڈولتے پھرتے ہیں

    آغاز شب میں ہم نے ایک بے چین دریا کو

    آگے کی طرف بہتے ہوئے سنا

    صبح کی جھلمل روشنی میں

    مچھلیاں سطح آب پر تیر کر آئیں

    اب بڑی عمر میں، میں جان گیا ہوں

    اپنے برآمدے میں بیٹھی

    ایک اکیلی عورت کی نگاہ اپنی جگہ

    لیکن ایک مدور پتہ اور ڈالی

    اب بھی بہار کے بہترین موسم کا پتہ دیتے ہیں

    میں وہ مدور پتہ اور ٹہنی

    کبھی نہیں بھو لوں گا