ایشیائی عورت کی التجا
ترجمہ: حبیب فخری
مرے پاس دینے کو رہ کیا گیا ہے
کہ جتنے بھی تھے پھول سب رہ گئے ہیں جھلس کر
ہیں جتنے بھی رحم ان کو ڈالر سے اپنے سوزاک سے
رکھ دیا تم نے بھر کر
مرے پاس دینے کو رہ کیا گیا ہے
مرے پاس جینے کو رہ کیا گیا ہے
تمھارے طفیل اب میں اک پوٹ ہوں
جانے کتنے دکھوں کتنی بیماریوں کی
مرے یار جانی
کہو تو میں ایمبیسی ہوٹل میں
بن جاؤں اک پیشہ ور طوائف
تمھارے یہ ڈالر ضرورت ہیں میری
مجھے اپنے پیغام مت دو
مجھے اپنا سوزاک مت دو خدارا
مگر ہاں یہ ڈالر یہ ڈالر مجھے دو کہ ہے مجھ کو ان کی ضرورت