سب کچھ تمہارا ہے ماں
ترجمہ: علی مطہر اشعر
ماضی تمہاری سیاہ آنکھوں میں مدفون ہے
جس نے طغیانیوں کو، وقت کی سختیوں کو رام کیا
میں جانتا ہوں
تم نے ہمیشہ مایوسی اور رنج کو سکون دینے کی کوشش کی
تمہاری مہربان مسکراہٹ میں
حال خمیدہ ہے
ایسے میں کہ تمہیں بے آرام رات، غیر یقینی شام کا سامنا ہے
میں جانتا ہوں
تم ایک میدان ہو صبر و استقلال سے معمور
ایک اونچا جنگل اشجار سے گھنا
مستقبل تمہارے بھڑکتے ہوئے سینے میں چمکتا ہے
جو مقدر کے مطالبات اور شبے کو پگھلا دیتا ہے
میں جانتا ہوں
تم امید کی تہوں کو اپنی انگلیوں سے
یونہی پھسلنے نہیں دو گی