ایک ترقی پذیر ملک کا گاؤں
ترجمہ: جمشید مسرور
ناروے میں ...... میرے قصبے میں بھی
تپ دق نے تباہی مچائی تھی
نوجوان لڑکیاں بخار میں لیٹی رہتی تھیں اور چیخا کرتی تھیں
ہم زندہ رہنا چاہتی ہیں
بہت سوں کے دانت
٢٠ تک پہنچنے سے پہلے ہی نکال دیے جاتے تھے
وہاں کے پرانے گندے مکان
خوشنما تصویروں کی طرح تھے
سیاحوں کے لیے
ایک سگریٹ کے لیے ہم تاش کھیلا کرتے تھے
کہیں کسی سیڑھی پر بیٹھے تھوکتے رہتے
یوں ہمارے دن گزرتے
جب ہمارے پاس نہ کام ہوتا تھا نہ ہم سکول جاتے تھے
تب ہر طرف ’’اس طرح کا سکون ہی سکون‘‘ تھا
جیسے ...... یہاں گاؤں میں
یہاں میں اپنے ہی گھر آیا ہوں
اجنبی لباس میں ملبوس
میں تقریباً ٢٥ سال گھر سے باہر رہا ہوں
میں کسی ایسے ملک میں رہتا ہوں جو ہمارا نہ تھا
بھائیو۔ کیا تم مجھے اب بھی پہچانتے ہو؟