شہزادی
ترجمہ: جمشید مسرور
شہزادی اوپر اپنے نشاط کدے میں بیٹھی تھی ......
نیچے ...... ننھے لڑکے نے ...... بنسری بجائی
’’...... کیوں ہمیشہ بنسری بجاتے رہتے ہو ...... چپ رہو ...... چھوٹے
تم میرے خیالات منتشر کر دیتے ہو ...... جو بہت دور جانا چاہتے ہیں
اب ...... سورج ڈھلنے کے سمے ......‘‘
شہزادی اوپر اپنے نشاط کدے میں بیٹھی تھی
ننھے لڑکے نے بنسری بجانے سے گریز کیا
’’چپ کیوں ہو ...... بنسری اور بجاؤ ...... چھوٹے ......
تم میرے خیالات کو اوپر اٹھاتے ہو ...... جو بہت دور جانا چاہتے ہیں
اب ...... سورج ڈھلنے کے سمے ......‘‘
شہزادی اوپر اپنے نشاط کدے میں بیٹھی تھی
ننھے لڑکے نے پھر بنسری بجائی
تب شام کے گھیرے میں شہزادی رو دی ...... اور آہ بھری
’’خداوند ...... مجھے بتا ...... مجھے کیا ہو گیا ہے ......
اب ...... کہ سورج بھی ڈوب چکا ‘‘