تھور سورہائم

تھور سورہائم

ہوا

    ترجمہ:  جمشید مسرور

     

    آسماں ٹکا ہوا ہے اک چٹان پر

    تمام سبزہ زار آئرس پہ اور گھاس پر

    ہوا ہے بادلوں کے درمیان

    دھلا دھلا ہے آسماں

    نشان ہے بہار کا

    کہ اب کی بار گرمیاں

    بچی رہیں گی سہم   سے، فسردگی سے اور فشار سے

    چلیں گے ہم وہاں جہاں پہ کھائی میں

    بلیک تھارن اگ رہے ہیں

    بنیں گی لذت دہان و کام

    سرد سرد میٹھی میٹھی بیریاں

    شب انجماد کی گزر چکی