جب وہ سو رہے ہوں
ترجمہ: جمشید مسرور
سوتے میں سب بچوں جیسے ہوتے ہیں
تب انہیں جنگ سے سروکار نہیں ہوتا
وہ ہاتھ کھول کر سانس لیتے ہیں
اس خاموش نغمگی میں جسے آسمان نے انسان کو ودیعت کیا ہے
وہ ننھے بچوں کی طرح منہ بناتے ہیں
اور سبھی اپنے ہاتھ آدھے کھولتے ہیں
سپاہی اور سیاستدان نوکر اور مالک
تب ستارے پہرا دیتے ہیں
آسمانوں پر ایک دھند چھا جاتی ہے
کچھ گھنٹے ...... جب کوئی کسی کو
نقصان نہیں پہنچاتا
کاش ہم تب ایک دوسرے سے محو کلام ہو سکتے
جب دل ادھ کھلے پھولوں جیسے ہوتے ہیں
وہاں در آتے
خداوند! مجھے نیند کی زبان سکھلا دے!