بارش تھم گئی ہے
ترجمہ: جمشید مسرور
بارش تھم گئی ہے اور ہم جاگ اٹھے ہیں
کھلی، شفاف آنکھوں کے ساتھ
ہم بیداری کے چشمے کی تہ میں پڑے ہیں
ٹھنڈے۔ ٹھنڈے ۔ اور لگاتار
ہم رات میں بڑھتے جاتے ہیں ...... تمام حواس بھڑک کر
بلند اور شفاف شعلہ بن چکے ہیں ...... جلد سن رہی ہے
کیا یہ گھاس کی صدا ہے
ہمیں عظیم اور دلبر محبت کی طرف گھیر رہے ہیں
گھنٹیاں بجانے والے
بدن کی سب کھڑکیاں کھل چکی ہیں
تاکہ آسمان ہمارے اندر سما جائے
اور ستارے کھلنے لگے ہیں ...... کھلے کھلے
بڑے اور پھولوں کی طرح لطیف
بارش تھم گئی
کیا ہم اندر سے جاگ اٹھے ہیں
ہماری نظریں ملتی ہیں
بارش کے ٹھنڈے ستاروں میں ڈوبی ہوئی
اور ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی
جیسے بڑی بڑی اور شفاف تصویریں