فرانس منڈی اکی بونگ

فرانس منڈی اکی بونگ

چاند

    ترجمہ:  شہزاد احمد

     

    دعوت کا وقت ہو گیا ہے مگر دلہن ابھی تک نہیں آئی

    مہمان بھوک سے بے حال ہو رہے ہیں

    موسیقی کی دھنیں چپ ہیں، بانسریاں خاموش ہیں

    دور کے نغمے بھی بے سدھ ہو چکے ہیں

    میں اپنا گیت الاپنا چاہتا ہوں ...... مگر مری سانس

    اور میری آواز میرا ساتھ نہیں دے پاتے

    بھولے ہوئے قہقہوں کے موتی ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں

    مجھے بلندیوں کی طرف لے جانے والا ہاتھ ہٹ جائے

    میں موت کے اس ذائقے کو چکھنا چاہتا ہوں

    تاکہ میں زندۂ جاوید ہو جاؤں

     

    لوٹ آؤ ...... اور اپنی عظمتوں سے ہمارے چہرے کو چھو لو

    لوٹ آؤ ...... اور ہماے ماضی کے شکنجے کو توڑ پھوڑ دو

    ایسے بادل تلاش نہ کرو، جس میں تم گم ہوجاؤ

    ہماری بے خواب آنکھوں سے اپنے چہرے کو مت چھپاؤ

    انتظار ...... چلتے رہنے سے کہیں زیادہ تھکا دینے والا ہے

    لوٹ آؤ ...... اور ہمارے دلوں کو اپنے میٹھے نغموں سے چھو لو

    محبت کی عظمت روحوں کے ملاپ میں ہے

     

    میں کانپتے اور کھلتے ہوئے پھولوں سے تمہاری باتیں سنوں گا

    تمہاری آواز مجھے دوڑتی ہوئی ندیوں سے آئے گی

    سبک رو ہوائیں تمہارے نغمے سنائیں گی

    ان دوشیزہ چراگاہوں پر، جو قدموں کی آہٹ سے ناآشنا ہیں

    اور جہاں طوفانی ہواؤں کا گزر نہیں

    میں تمہارے نام پر ایک معبد بناؤں گا

     

    بلندی اور دوری کے احساس سے پگھلتا ہوا جذبہ

    نیلگوں آسماں پر چمکتے ہوئے ہیروں

    کے سوا کون سا حسن ہے!

     میں اپنےکالے پن کو نہیں دیکھ سکتا

    مگر دل کو تڑپانے والے آنسوؤں کو یاد تو کر سکتا ہوں

    اندھیرے میں خموشی کے مردہ سروں کے علاوہ

    نہ کوئی نغمگی ہے نہ کوئی حسن!