شمع کی نظم
ترجمہ: آصف فرخی
ننھی سی ایک شمع، خالی کمرے میں اکیلی
رات بھر جلتی رہی، صبح ہونے تک پگھل کر
ایک خاموش یاد بن گئی
اگلے دن سورج، دوڑا دوڑا اس کمرے میں آیا
تو اسے ملے بس موم کے چند قطرے
جو اس کے لیے یوں چھوڑ دیے گئے
جیسے قربان گاہ پر شہیدوں کا خون
ایک خاموش سوگ میں
جھک کر وہ اپنے ہونٹ ثبت کر دیتا ہے
جس جگہ کل رات تک
جلی رہی تھی ننھی سی ایک شمع