ہوئی پرشاد شرما

ہوئی پرشاد شرما

پرندہ

    ترجمہ:  طالب حسین اشرف

     

    ایک آسمانی پرندہ

    کھلے اور وسیع و عریض نیلے آسمان پر

    نہایت ہی سبک رفتاری سے پرواز کرتا ہوا

    ایک درخت کی تنہا شاخ پہ آ کر بیٹھ گیا

    اور

    اس نے

    زمین پر بسنے والے

    انسانوں کے کملائے ہوئے چہرے دیکھے اور پڑھے

    اور

     ان کے اندر کھولتے ہوئے لاوے کا کرب محسوس کیا

    اور

    اس نے کائنات کے ذرے ذرے کو کھلی ہوئی آنکھوں سے دیکھا

    اور

    کائنات کی ہر وہ چیز دیکھ کر پڑھی جو دل کی آنکھوں سے دیکھی اور پڑھی جا سکتی ہے

    اور پھر

    اس کے دل نے اپنے تمام محسوسات اور تجزیات کو ایک لازوال سرمدی نغمے میں بدل دیا

    اور یہ وہ نغمہ ہے

    جو قیامت کے روز سے پہلے دن کی آخری گھڑی تک کے لیے گایا جا سکتا ہے

    پرندہ بڑی دیر تک

    اپنی دھن میں مگن ایک ہی لگن سے نغمہ سرا رہا

    آخر کار

    وہ وقت بھی آپہنچا جب یہ آسمانی پرندہ چپ چاپ دم سادھے واپس آسمان

    کی طرف اڑ گیا

    وہ اڑ گیا تو انسانوں کے دلوں سے پیار و محبت اور اخوت سے لدے ہوئے

    جذبات بھرے گلاب بھی اپنے ساتھ لے گیا