ہنگری
ترجمہ: احمد سلیم
ایک خیال اکثر مجھے پریشان کرتا ہے
کہ میں کہیں تکیے پر سر رکھے ہی نہ مر جاؤں
یا بہت آہستہ سے، ایک پھول کی طرح یوں مرجھاؤں
کہ سینہ کیڑے مکوڑے چاٹ لیں
اور میں پتی پتی ٹہنی سے گر جاؤں
یا ایک سنسان کمرے کی روشنی
جو اندھیرے میں سسکیاں بھرے
یا خدا! کوئی یوں نہ مرے
میں چاہتا ہوں، ایک درخت بن جاؤں
اور آسمانوں کی بجلی مجھ پر آن گرے
یا ایک بھاری چٹان ہو جاؤں
جو پہاڑ سے دھاڑتی ہوئی وادی میں جا گرے
اور زنجیروں میں جکڑی، ہر قدم، جب میدان جنگ میں اترے
اور اس کے چہرے پر ایک لالی سی دہک اٹھے
اور ہاتھوں کا پرچم ہوا میں لہرائے
’’ہمیں آزاد ہونا ہے‘‘
اور یہی آواز شمال سے جنوب تک پھیل جائے ......
اس وقت میں خوشی سے بھرا میدان میں موجود ہوں
اور میرے خون کا ...... آخری قطرہ ...... اس زمین پر گرے
اور میری آخری آواز، لوہے کی آواز میں ڈوب جائے
پھر میری لاش پر سے
فتح کی فوجوں کے گھوڑے دوڑ کر گزریں
اور ان بہادروں کی یاد میں ایک جلوس ہو
جو تیرے لیے جیے ہیں
اور یہ میری ہڈیاں، ان کی ہڈیوں کے ساتھ قبروں میں ہوں
اے ساری دنیا کی آزادی! جو تیرے لیے مرے ہیں