پوسٹ مارٹم
ترجمہ: محمد ادریس بابر
اس کے دل کے نہاں خانوں میں، پتہ یہ چلا کہ زرداہٹ
زیتون کی طرح جڑ پکڑ چکی تھی
اور اپنے بے شمار رتجگوں کے درمیان
ایک بے کنار انتظار کی خموش آگ
اس کی انتڑیوں کو جکڑ لیتی رہی تھی
جلد سے تھوڑا نیچے نیلے رنگ کی ایک افقی لکیر
لہو میں نیلے خلیوں کی تعداد خاصی تھی
اپنے بے انداز اکیلے پن کے دوران
کونجوں کی کتنی کوکیں
اس کے پھیپھڑوں میں منجمد ہو گئیں تھیں
سب کی سب ، ایکا ایکی بہہ نکلیں
اور نشتر کپکپانے لگا
’’بیچارہ!
اپنی ناشنیدہ مگر نا گزیر بدقسمتی کی اتنی بے ساختہ عکاسی کرنے پر
دیکھو تو، اس کی آنکھوں سے
کیسی فتح مندی ٹپک رہی ہے!‘‘
پردۂ چشم پر ...... کسی منظر میں اٹکی ہوئی فلم
کاسۂ سر میں ...... فضا کی دم توڑتی ہوئی بازگشت
واحد حقیقی شے جو ملی
بائیں کان کے خلا میں تھوڑی سی ریت!
سمندروں کے کنارے
دھیمی محبت کے خاموش ہیجان اور تند ہوا کے پرشور طوفان کی مستقل رفاقت میں
آوارہ پھرتے رہنے کی نشانی
گردوں پر آتش زدگی کے اثرات......
وصال کے لمحوں کی گریز پائی کی علامت
عجب نہیں
کہ اب کے برس
پھل، قبل از وقت، پک کر تیار ہو جائیں!