تائیوان کے کہسار
ترجمہ: حبیب فخری
دور کے پہاڑ کتنے خوبصورت ہیں
ہر رت، ہر موسم میں
ثابت قدم، ہر دم بدلتے، پھر بھی ویسے کے ویسے
ایک گرمائی دن کی حدت میں
اتنے بلند اور اس قدر نیلے آسمان کے ساتھ
ایسا لگتا ہے کہ میں انہیں اپنے ہاتھ سے چھو سکتا ہوں
گہری سبز ڈھلوانیں، گھنے اشجار
کسی انجانے مقام کو جاتے سلونے رستے
جیسے مجھے بلا رہے ہوں
ایک تروتازہ خوشی کا وعدہ کرنے کے لیے
جو اس پار منتظر ہے
ایک سرمائی دن کی سیاہ روئی میں
جب جھکے ہوئے بادل آسمان پر چھائے ہوئے ہوں
پہاڑ پسپا ہو جاتے ہیں، گم ہو جاتے ہیں
پراسرار کہر میں لپٹے ہوئے
چٹانیں اور ٹیکریاں ہیبت ناک سیاہ رنگ
عجیب، روکتے ہوئے، سرد
اسرار انگیز دوری پر ہیں
اور میں تنہا منکسر محسوس کرتا ہوں