خوف کے چہرے
ترجمہ: ندا فاضلی
ہم انجان راہوں کے تنہا مسافر
موت کے خوف سے سہمے ہوئے
خوف کے چہرے لگائے ہوئے
ایک لمبی تنگ گلی کے درمیاں
حیراں پریشاں
انتظار کر رہے ہیں اپنے گزرنے کا
مشرق سے مغرب کی طرف
لیکن ہمارے پاؤں ساکت ہیں
موت ہمارے نیچے ہے
موت ہمارے پیچھے ہے
موت شمال ہے
موت جنوب ہے
ہم انجان راہوں کے مسافر
اپنی اپنی بے حس تنہائیوں کے شکار
تم
وہ
اور میں
تینوں آدمی، عورت اور بچہ
موت سے ڈرے ہوئے
گلی پار کرنے سے گھبراتے ہیں
ہلنے جلنے سے خوف کھاتے ہیں
لیکن خوف کے چہرے لگانے سے شرماتے ہیں