خالی پن
ترجمہ: ندا فاضلی
لوگ چلتے ہیں
مگر آہٹیں غائب ہیں
لوگ بات کرتے ہیں
مگر باتوں کی جگمگاہٹیں غائب ہیں
سورج روشن ہے
مگر شعاعوں کی گرماہٹیں غائب ہیں
چاند آسمان میں ہے
مگر اس کی رومانی لڑکھڑاہٹیں غائب ہیں
درخت کھڑے ہیں
مگر پتوں کی سرسراہٹیں غائب ہیں
موسیقی بج رہی ہے
مگر نہ وجد ہے نہ آسودگی
چراغ جل رہے ہیں
مگر نور ہے نہ روشنی
گرم کافی سامنے ہے
مگر اس میں خوشبو ہے۔ تازگی
ہاتھ سے ہاتھ ملتے ہیں،
دل سے دل کہاں ملتے ہیں
میں گیند اچھالتا ہوں
مگر وہ اچھلتی نہیں
مسافر چلتے ہیں مگر، رہ گزر چلتی نہیں
کوئی چیختا ہے جاگو
لیکن جاگنے کی طاقت کہاں
کوئی پکارتا ہے بھاگو
مگر خوں میں حرارت کہاں
کوئی کہتا ہے روشن ہو
مگر روشن ہونے کی حدت کہاں
میں یہاں بیکار جستجو میں ہوں
اوس کے موتیوں کے لیے
ہری بھری سبزیوں کے لیے
لہلہاتی خوشحالیوں کے لیے
میرے پیروں تلے مٹی بانجھ ہو چکی ہے
یہ اپنی زرخیزی کھو چکی ہے