پانس ریستوس

پانس ریستوس

نظم

    ترجمہ:احمد صغیر صدیقی

     

    کھڑا ہے وہ ساحل پر

    بے لباس۔ عریاں

    اور آسمان اسے جھک کر چومتا ہے

    زمین بچھ رہی ہے قدموں میں

    فلک پر ڈوبتے سورج نے

    اس کے سفینے پر

    لہو کے رنگ کی اک ڈور باندھ رکھی ہے

    لٹک رہا ہے سرا جس کا

    بائیں گھٹنے تک