فرخ یار

فرخ یار

خالی دن تھے

    لطف بہت تھا اُس مٹی پر ننگے پاؤں چلنے میں جس مٹی کا سینہ میرے پرکھوں نے خوابوں کی لو سے روشن رکھا جس کی خوشبو اب بھی میری سطروں میرے آئینہ خانے میں گھلی ہوئی ہے میں وہ مٹی چھو کے جب سانس لیتا تو جسم وجاں میں سرشاری کی لہریں نیل گگن چھونے لگتی تھیں حرف و معانی کی شاخوں سے دودو چاند نظر آتے تھے لیکن جانے سانجھ نہیں تھی یا توفیق سے خالی دن تھے ویسے تو گھبراہٹ کی ہر ہر ساعت برکھائی مجھ سے لیکن اس مٹی کو گوندھ کے کوئی مشکل نہیں بن پائی ..... مجھ سے (میاں اصغر علی کے لیے)