عنبرین صلاح الدین

 عنبرین صلاح الدین

یوں ہر اِک بوند کا سیماب بدن جم جائے

    یوں ہر اِک بوند کا سیماب بدن جم جائے صحنِ برفاب میں بارش کا سخن جم جائے تُو خفا ہو تو زمینوں کی طنابیں اکھڑیں آسماں تک ترے ماتھے کی شکن جم جائے ٹکٹکی ایسی بندھی ہے ترے رستے پہ، اگر آنکھ جھپکے تو وہیں اس کی تھکن جم جائے درِ آئندہ کے زنگار پہ ضوئے مہتاب اِک ذرا درز ملے اور کرن جم جائے یوں مجھے دیکھے، پلٹ جائے وہ بےتاب نظر تیر کھنچ جائے، پسِ چشم چبھن جم جائے عکس رُک جائے تراآنکھ کے آئینے پر حلقۂ آب میں شفاف گگن جم جائے