چلے تھے پہلو بہ پہلو وہ دیوتا اور میں
چلے تھے پہلو بہ پہلو وہ دیوتا اور میں اب اچھے دوست ہیں اک زخمِ لا دوا اور میں خدا کا شکر، خدا سے مشاورت کے بعد دیا جلانے پہ مامور ہیں ہوا اور میں نہ سن نہ دیکھ ، تری بے نیازیوں کی قسم مرے ملیں گے ترے شہر میں صدا اور میں یہی تکون ہے اک مستطیل گھر کا جواز شبِ سیاہ کی وحشت میں دل،دیا اور میں دعائیں کر کہ اکٹھے نہ ہوں شبِ ہجرت ترے خلاف مری بد دعا، خدا اور میں وطن سے دور دعاوں میں یاد آتے شخص ترس گئے ہیں تجھے تیرا نقش پا اور میں نجف، مدینہ و مشہد ہمیں دلاسا دیں لپٹ کے اتنا کریں گریہ کربلا اور میں