چراغ حسن حسرت: شمشیرِ برہنہ
چراغ حسن حسرت: شمشیرِ برہنہ
میرے پرانے ساتھی ریٹائرڈ پروفیسر شاہد حمید، جو کہ تعلیم میں شامل ہونے سے پہلے کئی برس اردو صحافت میں بسر کر چکے تھے، حال ہی میں یہ سن کر بڑے حیران ہوئے کہ حلقہ اربابِ ذوق میں پانچ ادبی وفنی اور تعلیمی شخصیات کے پروفائل بنانے کے بعد چھٹی شخصیت کے طور پر میں نے مشہور صحافی چراغ حسن حسرت مرحوم کو چنا ہے۔ پوچھنے لگے: کیوں؟ ان سے تمہارا کیا تعلق تھا؟ عرض کیا: ایک تو اس وجہ سے کہ وہ ایک ممتاز اخبار نویس ہونے کے علاوہ بھی بہت کچھ تھے، جس سے اپنا بھی کچھ رشتہ نکلتا ہے۔ دوسرے اس وجہ سے کہ کراچی میں قیام کے دوران، جہاں آپ موجود نہیں تھے، یہ نیاز مند ان کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا ہے بلکہ اس سے پہلے لاہور میں بھی ان کو ایسے حالات و واقعات کے درمیان دیکھنے کا موقع ملا جن میں یوں تو اور لوگ بھی شریک تھے لیکن کسی نے اپنی شہادت درج نہیں کرائی ۔ اور اب تو اُنہیں جانے والے بھی خال خال ہی باقی رہ گئے ہیں۔
ان کی شخصی خصوصیات کے علاوہ ان سے تعلقِ خاطر کی ایک اور وجہ بھی ہے اور وہ ہے منٹو سے ان کا رابطہ جو یوں تو منٹو کے بمبئی جانے سے پہلے لاہور میں ۳۵،۳۴ ء میں شروع ہوا تھا کہ لیکن ٤ ۰ ء اور ۴۲ ء کے درمیان دونوں دہلی میں تھے، تو اس میں خاصی قربت پیدا ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ دیوندر ستیارتھی نے اپنا جوابی افسانہ ’’نئے دیوتا‘‘ منٹو کے افسانے’’ترقی پسند‘‘ کے ردِعمل میں لکھا تو اس میں ’’نفاست حسن‘‘ کے ساتھ ’’مولانا نور حسن آرزو‘‘ کو بے تکلفی برتتے ہوئے دکھایا جب کہ منٹو نے ستیارتھی اور راجندر سنگھ بیدی کی مہمانی اور میزبانی کو موضوع بنایا تھا۔
یہ زمانہ میرے لیے ماقبل تاریخ کا ایک افسانوی دور تھا لیکن جب آزادی کے بعد حسرت صاحب اور منٹو پھر لاہور میں باہم ہوئے تو اس وقت دونوں کو دیکھنے اور ملنے کا اتفاق ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ حسرت کے ساتھ ایک شام منائی گئی تو منٹو نے ان کو بھی ایک گنجا فرشتہ بنانے کی کوشش کی جس کے عین درمیان میں حسرت صاحب چلائے کہ صاحبِ صدر! یہ کیابکواس ہے؟ منٹو نے صدر سے پوچھا کہ آگے پڑھوں یا نہیں ختم کر دوں ۔ اجازت تو مل گئی لیکن حسرت بے حد خفا ہوئے اور منٹو نے سٹیج سے اتر کر معافی مانگی تو نہیں ملی۔ اب اسے پڑھیے تو محسوس ہو گا کہ ستیارتھی نے انہیں جس طرح جا و بیجا اظہارِعلم کرنے والی ایک مرعوب کن سرپرستانہ شخصیت کے طور پر پیش کیا تھا، منٹو کی کھینچی ہوئی تصویر اس سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھی۔ ایک بات البتہ اس میں نئی تھی : منٹو کی ان سے شکایت کہ انہوں نے اپنی بطور عالم اور بطور ادیب کے کوئی پائیدارعلمی یا ادبی تصنیف سامنے لانے سے اب تک کیوں گریز کیا ہے۔ حسرت کے کچھ ادبی ترجمے تھوڑے سے اشعار، حیات ِاقبال کی ایک ابتدائی کوشش، چند ایک درسی کتا بیں، ایک آدھ سیاسی مزاح کی کتاب اور اخباری کالم ’’حرف و حکایت‘‘ منٹو نے ضرور پڑھے ہوں گے لیکن وہ ان سے بڑھ کر کوئی چیز چاہتے تھے جو ان کے خیال میں حسرت کی بے نیازی اور زبانی جمع خرچ کی عادت نے وجود میں نہ آنے دی ۔ ان چیزوں میں سے بھی دو تین ترجمے، تاریخِ اسلام کا ایک عمدہ سیٹ جواب کہیں استعمال میں نہیں آتا اور شاید اپنے تنقیدی نقطہِ نظر کی وجہ سے دوبارہ چھپتے ہی ضبط ہو جائے ،’’ جدید جغرافیہِ پنجاب‘‘ میں سیاسی موقع پرستوں کا تذکرہ جن کے لیے ’’لوٹے‘‘ کا لفظ، جواب ہر ایک کے ورد زباں ہے، اُردو میں اپنی نئی معنویت کے ساتھ غالبا پہلی بار استعمال ہوا تھا۔ یہ اور ایسی کئی چیز میں بازیافت کا درجہ حاصل کرسکتی ہیں۔ ان کے بے نظیر کالم ’’حرف و حکایت‘‘ کا ایک معمولی سا انتخاب ان کی وفات کے بعد ایک شایع تو ہوا لیکن اپنے معیارِ پیشکش اور حقیقی مواد کی غیر موجودگی میں نئے قارئین کو اپنی طرف متوجہ نہ کر سکا۔ خود منٹو کو اس کے مقابلے میں عبدالمجید سالک کے ’’افکار و حوادث‘‘ اپنے ٹھیٹ چھکڑ پن کی وجہ سے زیادہ پسند تھے لیکن سالک صاحب کے یہاں وہ سیاسی چھیڑ چھاڑ اور طنز یہ رمزیت بہت کم ملے گی جو حسرت کا طرہ امتیاز تھی۔
ایک چھوٹی سی کتاب البتہ ایسی ہے جو میرا اندازہ ہے کہ منٹو کی نظر سے نہ گزری ہوگی اور گزری بھی ہوتی تو شاید انہیں مرغوب نہ ہوتی۔ یہ ہے ’’پر بت کی بیٹی‘‘ جو مہا بھارت کی تھوڑی سی کہانیوں کی بازگوئی ہے۔ اس کا ان کی صحافت سے بس اتنا تعلق ہے کہ اُردو زبان کے جس محاورے میں اسے لکھا گیا ہے وہ اپنی سادگی اور فصاحت کی وجہ سے ہندی والوں کو بھی خاصی پسند آتی لیکن یہ شائع بھی ہوئی تو آزادی کے بعد جب ہندی والے تو جا چکے تھے اور انتظار حسین نے ایسی زبان ابھی لینی شروع نہ کی تھی ۔ اب زمانے بھر میں کہا جا تا ہے کہ فکشن کا فن اصل میں باز گوئی کا فن ہے۔ اس لحاظ سے یہ کتاب پھرکبھی ہاتھ لگی تو اس نقطہِ نظر سے اس کی بازخوانی اور بازیابی کم از کم اس نیازمند پر قرض رہے گی۔
یہ کوئی تنقیدی مضمون نہیں کہ حسرت صاحب کی علمی و ادبی خدمات کا جائزہ لینے بیٹھ جاؤں اور سامعین کو بے ہوش کر کے اٹھوں ۔ تھوڑا سا ذکر اس لیے ہوا کہ منٹو حسرت رابطے کی ایک جہت یہ بھی تھی۔ یہ تسلیم کرنے میں مجھے کچھ زیادہ تامل نہیں کہ حسرت نے منٹو کی طرح محویت اور تسلسل کے ساتھ ادب تخلیق نہیں کیا۔ یہ البتہ سوچنے کی بات ہے کہ منٹو کو ان پر یہ گمان کیوں گزرا کہ وہ بھی ایک اہم ادیب بن سکتے تھے۔ وجہ شاید یہ تھی کہ ادب ان کا اوڑھنا بچھونا تھا اور وہ اپنے تہذیبی سرمائے کے ساتھ بڑی شدت کے ساتھ محبت کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ یہ خیر کثیر جاری رہے۔ ان کے اپنے ہفت روزہ ’’شیرازہ‘‘ کی ایک نامکمل فائل دیکھنے کا مجھے اتفاق ہوا ہے اور ”امروز“ کے ’’قسمت علمی و ادبی‘‘ کے جاننے والے اس دعوے کی تصدیق کریں گے کہ وہ اپنے زمانے کے ادبی رسالوں سے کچھ زیادہ ہی اہمیت رکھتا تھا۔ بلکہ مفت بری کے اس محکمے کو ”امروز“ سے بڑی شکایت تھی کہ وہ ان کے پیٹ پر لات مار رہا
ہے اور ادب کو گھر گھر پہنچانے کے علاوہ سات روپے فی کالم ادا کر کے ادیبوں کی عادتیں بھی بگاڑ رہا ہے۔ ’’شیرازه“ اور ”امروز“ میں چھپنے والی ادبی تحریریں کسی کی دسترس میں ہوں تو ان کا ایک نمائندہ انتخاب مرتب کر سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوگا کہ حسرت کی ادبی فعالیت کا یہ رخ ان کے صحافیانہ کمال سے کم نہیں تھا۔
یوں حسرت صاحب اُس زمانے کے صحافی تھے جب ادب میں گہری دلچسپی رکھنااخبار نویسوں کے لیے لازمی سمجھا جا تا تھا ۔ اب تو وہ زمانہ ہے جب کسی شاعرہ سے انٹرویو لینے کوئی صاحبزادہ یا صاحبزادی ان کے گھر پہنچے تو پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ بیگم صاحبہ آپ نے کتنی کتابیں لکھی ہیں؟
ادب کے علاوہ ، خبروں کے لحاظ سے دیکھیے : فکاہی کالم ، اداریے، پس منظر، سیاسی تجزیے، قومی اور بین الاقوامی امور کے جائزے ۔ کسی بھی اعتبار سے ملا حظہ کیجیے حسرت کا’’امروز‘‘ ایک مکمل اخبار تھا اور حسرت ایک مکمل صحافی لیکن جس خاص چیز نے انہیں یہ درجہ دلایا تھا وہ محض تجربے اور تکنیکی مہارت سے زیادہ ان کے ذہن کی براقی اور ان کی قائدانہ صلاحیت تھی بلکہ ان سے بھی زیادہ ان کی حوصلہ مندی اور جواں مردی تھی۔ وہ بڑے سے بڑے آدمی کے ساتھ ٹکر لے سکتے تھے اور انہوں نے شاید ہی کبھی کسی کے دباؤ کو قبول کیا ہوحالاں کہ وہ ظفر علی خان، ابوالکلام آزاد، محمد علی جوہر اور عبدالمجید سالک کی طرح اخبار کے ما لک نہ تھے، ایک ملازم مدیر تھے۔ اخبار کے مالک میاں افتخار الدین کے رو برو، خود ان کے بارے میں حسرت کے کسے ہوے فقرے اب دیو مالائی معلوم ہوتے ہیں ۔ بے مثال اور ناقابل یقین ۔ دوسری طرف ماتحتوں کے ساتھ ان کا رویہ بظاہر نہایت سخت گیر لیکن اندر سے نہایت مشفقا نہ تھا بلکہ بالآخر انہیں کے حقوق کی حمایت میں انہوں نے اپنا استعفیٰ بھی داغ دیا۔ میاں افتخارتو شاید اسی موقع کے منتظر تھے ، جھٹ قبول کر لیا۔ دوسرے لوگ تو دیر سویر کسی نہ کسی حیلے سے لگ گئے لیکن حسرت کو اس کی پاداش میں بڑے پاپڑ بیلنے پڑے۔ پھر بھی کوئی حرف ِندامت ان کی زبان پر نہ تھا۔ یقیناً اس اخراج کی ایک سیاسی جہت بھی تھی اس لیے کہ حکومت اس اخبار کو شدت سے ناپسند کرتی تھی۔ بعد میں ’’امروز‘‘ کئی ایک دوسرے ممتاز صحافیوں اور ادبیوں کی شمولیت کی وجہ سے حسرت کے بنائے ہوئے سانچے پر تا دیر چلتا تو رہا مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔
ماتحتوں پر سخت گیری کے سلسلے میں ’’امروز‘‘ سے بہت پہلے ’’جنگی اخبار‘‘ کے ایک ساتھی کرنل مسعود احمد نے ، جواب بھی ایک فعال کالم نگار ہیں ، بتایا ہے کہ ’’وہ اپنے ساتھیوں کی تعریف کے معاملے میں شقافت کی حد تک سخت تھے اور ان کے ساتھ کام کرنا تلوار کی دھار پر چلنا تھا۔ ہر وقت ایک عجیب کهٹن طاری رہتی تھی مگر اس گھٹن سے ہم نے کتنا کچھ سیکھا۔“ شمارر کیجیے تو حسرت نے مختلف اخباروں کی ادارت کے دوران جتنے کارکن صحافیوں کو عملی تربیت کے ذریعے بنایا، سنوارا، اتنے اور ایسے تو کسی یو نیورسٹی کا جرنلزم ڈیپارٹمنٹ شاید ایک صدی میں پیدا نہ کر سکے۔
لیکن یہ سب باتیں کتنی ہی درست کیوں نہ ہوں ، آنکھوں دیکھی سے زیادہ کا نوں سنی ہوئی ہیں۔ سب سے پہلے انہیں کب دیکھا تھا؟ یاد کروں تو شاید کسی علمی ادبی محفل میں یا صوفی تبسم کے گھر میں دیکھا ہوگا۔ لیکن وہ ناؤ نوش کی محفل یقیناً نہیں تھی ۔ صوفی صاحب
کے جلد بہک جانے پر مسرت کا فقرہ:’’ارے مولا نا ! آپ تو سونگھ کر بے ہوش ہو جاتے ہیں ‘‘پہلے کہیں درج کر چکا ہوں لیکن وہ بھی براہ راست نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس گنہ گارنے ان کو سرشاری کے عالم میں تو کئی بار دیکھا لیکن جام بکف کبھی نہیں دیکھا۔ اختر شیرانی اور منٹو کی طرح وہ بھی ایک رندِ بلانوش تھے اس لیے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ میں نے انہیں دیکھا ہی نہیں۔ بلکہ ان سے پہلی ملاقات پر انی کتابوں کی ایک دکان پر ہوئی جو ایک پہلو سے غور کریں تو حسرت کا دوسرا روپ تھا۔
یہ دکان اس جگہ واقع تھی جہاں مال پر ’’کلاسیک‘‘ کی بغل میں ایک چھوٹی سی گلی ہال روڈ پر جا نکلتی ہے۔ میں وہاں پہلے سے موجود تھا کہ ایک جرنیلی قامت کے بزرگ کرنیلی مونچھیں لگائے داخل ہوئے۔ ارے، میں نے سوچا، یہ تو اپنے حسرت صاحب ہیں ۔ سلام کیا تو اشارے سے جواب ملا جیسے کوئی نا گوارِ خاطر خطا سرزد ہوئی ہو۔ دکاندار سے انہوں نے پوچھا: کیوں مولا نا، کوئی اردو فارسی کی نایاب، پرانی کتاب بھی آئی ؟ کسی گاہک کی طرف سے یہ سوال گویا بلینک چیک دینے کے برابر تھا۔ اس نے کہا کہ چھاپے کی کتاب تو نہیں ایک قلی کتاب ہاتھ گئی ہے ۔ بس آپ جیسے شوق والوں کے لیے۔ کہا کہ مولانا، ہم تو مطبوعہ کے مشتاق ہیں ، مخطوطہ ہوتو اورینٹل کا لج لے جائیے۔ میں اس فقرے کا مزہ لینے لگا: مطبوعہ کے دوسرے معنے ہوئے دل پسند عورت اور مخطوطہ گویا وہ عورت جس کے ڈاڑھی مونچھ نکل آئی ہو۔ دکان دار کے تو فقره سر سے گزر گیا، سیدھا سا جواب دیا کہ کالج والے تو ادھر آتے ہی نہیں بس آپ جیسے ایک دو مہربان کبھی آ جاتے ہیں۔ ایک یہ لڑ کا ہے، بی اے میں پڑھتا ہے اور یہ ہمارا وطنی ہے۔ حسرت صاحب نے مجھے نظر انداز کرتے ہوئے کہا: تو مولانا وہی کتاب دکھایئے۔ کھول کے ادھر ادھر سے دیکھنے لگے۔ میں نے بھی کنکھیوں سے جھانکا تو شیفتہ کا ’’تذکرہ گلشن بیخار‘‘ تھا۔ خیال آیا کہ ۱۸۵۷ ء سے پہلے کی چھپی ہوئی کتابیں دیکھنے میں کتابت شدہ مسودے کی طرح لگتی ہیں ۔ اجازت لے کر اسے دیکھا تو شروع اور آخر میں مطبع کا حوالہ موجود تھا۔ دکان دار کو بتایا تو کہنے لگا کہ تم اچھے ہمارے وطنی ہو، ہمارے مال کی قیمت کم کرتے ہو ۔ حسرت نے کہا: مولانا، پیسے تو آپ کو اتنے ہی ملیں گے جتنے میری جیب میں بچے ہیں اور فوراً ہی دس دس کے پانچ نوٹ نکال کر میز پر دھر دیے۔ میں نے دکاندار سے کہا کہ آج تو ہمارے وطن کی آبرو رکھو اور دونوٹ اٹھا کر حسرت صاحب کو واپس کر دیے۔ بولے کہ یہ کتاب میں آج تیسری مرتبہ خرید رہا ہوں ۔ ایک جنگ میں جاتی رہی اور ایک سرحد پار کرنے سے پہلے لیکن یہ نسخہ زیادہ پرانا ہے اور بے حد صاف ستھرا ،تیس روپے میں تو سمجھو مفت ہے۔ اور ہاں ، مجھ سے مخاطب ہوئے، آپ کا وطن ِمالوف؟ کہا کہ امرتسر ایک شہر تھا عالم میں انتخاب ۔ خوب، صاحب دکان کو کیسے جانتے ہیں؟ کہا کہ وہاں ایک افغانی پریسں ہوا کرتا تھا، یہ بڑے خان صاحب کے چھوٹے بیٹے ہیں ۔ کہا کہ ارے اُن سے تو باری صاحب کے ساتھ ایک بار ملا تھا۔ اب کہاں ہیں؟ جی ، وہ بھی لوہاری دروازے کے باہر پرانی کتابوں کی ایک دکان کرتے ہیں ۔ بولے کہ اس وقت تو دفتر جانے کی جلدی ہے، آپ چلیں تو چائے وہاں پئیں اور گورو کی نگری کو یاد کر یں۔ مجھے معلوم تھا کہ سڑکوں پر پیدل مارچ کیا کرتے ہیں، کہا کہ تا نگا لے لیتے ہیں ۔ ذرا کی ذرا ان سے ملا کر دفتر واپس پہنچا دے گا۔ وہاں مسلم مسجد کے پہلو میں شمس الدین کے یہاں بھی نہ جھانکنا چاہیے۔ پہلے دست فروش تھے، اب دکان کر لی ہے۔
تانگے میں بیٹھتے ہوئے کہا: مولا نا یہ دست فروش کس زبان کا کلمہ ہے اور کیا معنے دیتا ہے؟ سمجھ گیا کہ امتحان لیتے ہیں، ایک سعادت مند شاگرد کی طرح جواب دیا کہ ایرانی محاورے میں پھیری والے کو کہتے ہیں ۔ خوب ، لو گو یا دست بدست بیچنے والا مگر آپ کہاں ہوتے ہیں؟ بتایا کہ گورنمنٹ کالج میں ، فارسی آنرز لے رکھی ہے۔ کہنے لگے: یہ فارسی صوفی تبسم سے تو نہ سیکھی ہوگی ، ہاں عابد صاحب نے (عابد علی عابد ) تھوڑی سی رٹ رکھی ہے اگر چہ بولتے زیادہ ہیں ۔ سمجھ گیا کہ یہ تو بزرگانہ چشمکیں اور چونچلے ہیں، طلبہ ان میں کیا دخل دیں۔ پوچھا کہ آپ تو کلکتہ میں رہے ہیں وہاں سنا ہے کہ خاصے ایرانی موجود ہیں ۔ کہنے لگے: ہاں مگر ان کا محاورہ ہمیں اجنبی لگتا ہے۔ میں نے ایک بار محمد علی جمال زادے کا ایک افسانہ ترجمہ کرنا چاہا ’’مرزا جعفر حلاج لیڈر کیسے بنا‘‘ تو اصفہانی چائے والوں کے یہاں جو ایرانی ملازم ہیں اور اردو بھی جانتے ہیں، ان سے جا جا کے پوچھنا پڑا۔ سبحان الله، روز مرہ بول چال میں کیسی بلاغت پیدا کی ہے۔ ترجمہ کرتے ہوئے جان نکل گئی۔
دونوں دکانوں کا ایک چکر لگوا کر انہیں ’’امروز‘‘ پر چھوڑا کہ مجھے کہیں اور جانا تھا۔ بولے کہ آیئے کبھی۔ جانے کا موقع تو دیر تک نہ ملا البتہ سیکنڈ ہینڈ بک شاپس پر کبھی کبھار ملنا ہوتا رہا اور ایک مرتبہ و ہیں چھوٹے خان صاحب کی دکان پر چائے منگا کر پی گئی کہ اس دن کہیں سے لوٹ کے مال میں مشہور کائستھ استادِ تاریخ ، آشیر بادی لال سریواستو کی فارسی کتابیں بکنے کو آئی تھیں ۔ حسرت نے کہا: یہ آج کل کے پروفیسر یہاں کیوں نہیں آتے۔ عرض کیا کہ وہ سمجھتے ہیں انہیں سب کچھ آتا ہے۔ بولے کہ اس کو تو جہلِ مرکب کہتے ہیں ۔ میری زبان سے نکل گیا۔
در جہل مرکب ابدالد ہر بمانند
بولے کہ واحد سے جمع کی تعر یف خوب ہے، بھلا پہلا مصرع کیا ہے؟ کہا کہ:
وآنکس کہ نداند و نداند کہ نداند
بولے: خوب ۔ پھر سارا قطعہ پڑھ کر دیر تک لطف لیتے رہے۔
ایک دن ’’امروز‘‘ میں کسی ادبی محفل کی کارروائی چھپی ہوئی تھی۔ اس میں ایک جگہ میرا نام بھی آ گیا مگر کاتب نے اسے ایک خوبصورت طغری ٰسا بنا دیا تھا۔ معلوم ہوا کہ وہاں کے شعبہ ِکتابت میں غلام محمد سائل کا شمیری بھی کام کرتے ہیں جو میرے بچپن کے ساتھی حامد حسن کے بڑے بھائی ہیں اور اس لیے میرے بھی بھائی جان ۔ ہو نہ ہو یہ ان ہی کی محبت کا کرشمہ ہے۔ نقلِ وطن کے بعد ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، چناں چہ ان سے ملنے ”امروز“ چلا گیا اور تختہِ کتابت پر ان کے ساتھ بیٹھا تھا کہ حسرت صاحب باہر سے آگئے اور سمجھے کہ اُن سے ملنےآیا ہوں ۔ بولے کہ آئیے مولا نا، دفتر میں داخل ہوتے ہی کہا کہ آپ وہاں کاتبوں کے تختے پر کیوں بیٹھے، میں نہیں آیا تھا تو یہاں تشریف رکھ کے انتظار کر لیتے ۔ کہا کہ وہاں میرے بھائی جان بیٹھے تھے۔ پوچھا: کون؟ غلام محمد خطاط ۔ میں نے کہا: جی ہاں، وہی جنہیں ہم سائل کاشمیری کہتے ہیں ۔ بولے کہ یہ تو اچھا خاصا معروف نام تھا کبھی ، کتابت کیوں کرتے ہیں؟ کہا کہ ادیبوں کو دال روٹی کہاں ملتی ہے، آغا حشر کی یادگار میں ماہنامہ ’’کا ئنات‘‘ نکالتے تھے، مکتبہِ کا ئنات چلاتے تھے وہ سب تو وہیں رہ گیا، خوشخطی کے شوق میں خطاطی سیکھی تھی سواسی سے روزی کماتے ہیں ۔ بولے کہ میں بھی کہوں کہ ان کی کتابت اتنی پرکشش کیوں ہے اور غلطی بھی نہیں نکلتی ۔ بلکہ سب ایڈیٹروں سے پوچھتے ہیں کہ یہ لفظ کیسے لکھا جائے اور وہ الٹا ڈانٹ دیتے ہیں کہ جیسے مسودے میں ہے۔ اے کمال افسوس ہے، تجھ پر کمال افسوس ہے۔ ہاں تو آپ ہمارے لیے کچھ لکھیے اور سائل صاحب سے میں خود درخواست کروں گا۔
ہفتے عشرے کے بعد ایک مضمون لکھ کے لے گیا تو پہلے سائل صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے شکایت کی کہ تم نے کسی مصیبت میں ڈال دیا۔ روز بلا وجہ ڈانٹ پڑتی ہےکہ آپ ادیب اور شاعر ہوں گے تو اپنے گھر ہوں گے یہاں تو آپ ایک معمولی کاتب ہیں۔ وقت پر آئیے اور جو کام ملے پورا کر کے جائیے۔ اور کام بھی زیادہ دینے لگ گئے ہیں ۔ اوپرسے کہتے ہیں کہ حرام خوری تو ادیبوں کا پیشہ ہے، کا تبوں کو رزق حلال پر بھروسا کرنا ہوگا۔ اور حدیث شریف الکاسب حبیب اللہ میں تحریف کر کے کہتے ہیں الکاتب حبیب اللہ۔ میں ہنسا بھی اور معذرت بھی کی اور مضمون چپراسی کے ہاتھ بھیج کر چلا آیا۔
دو تین ہفتے کے بعد سڑک پر گئے تو پوچھا کہ آپ نے دیکھ لیا ہو گا۔ کہا کہ یہ آپ عسکری وسکری سے کیوں مرعوب ہوتے ہیں ، ٹھیک ہے اچھا لکھتے ہیں لیکن اپنے استاد فراق کی مالا جپتے رہتے ہیں، آپ نے بھی وہی کیا۔ دبی زبان سے عرض کی کہ میرے مضمون میں ایک جگہ فراق کا نام ضرور آیا ہے مگر وہ رگھوپتی سہائے گورکھپوری نہیں بلکہ ناصر نذیر فراق دہلوی ہیں، آغاز ِصدی کے نثر نگار ۔ مگر لگتا ہے کہ انہوں نے سنا نہیں ۔ ایک دن ان سے مضمون واپس لے کر کہیں اور دے دیا۔ اس کے بعد نہ انہوں نے مانگا نہ میں نے خود پیش کیا۔ نخوت کے غبارے پھوڑنے میں انہیں یدِ طولیٰ حاصل تھا۔ ایک بار حلقے میں عجب تماشا ہوا جس کے عہدے دار اور بنیادی ارا کین میں سے کتنے ہی ادیب ان دنوں ایم اے اردو پاس کر کے اپنے درجہ ِملازمت میں کسی بہتر تبدیلی کے آرزو مند تھے۔ یہ ان کا حق بھی تھا اور ایک جائز کشمکش کاجز بھی ۔ لیکن اس کے لیے انہوں نے جوراستے اختیار کیے ان میں حلقے کا استعمال بھی شامل تھا۔ وہ اپنے جامعاتی اساتذہ کو بڑی مان متھ سے بلاتے اور حلقے کے زبان دراز وں سے انہیں محفوظ بھی رکھتے بلکہ ان کی ادبی حیثیت کے بارے میں، جو کچھ زیادہ نہ تھی ، زمین انسان کے قلابے ملا دیتے۔ انہیں حسرت کے علمی تبحر اور ان کی حق گوئی و بےباکی کا صحیح اندازه نہ تھا !اس لیے پروفیسر ابوللیث صدیقی کے مقالے ’’میر حسن اور ان کی شاعری ‘‘پر حسرت کی صدارت رکھ دی ۔ وہ اکیلے مارچ کرتے ہوئے آئے اور خاموشی سے مقالہ سنتے رہے۔ حسبِ معمول داد وتحسین کے ڈونگرے برسنے لگے، ذرا سا مطلع صاف ہوا تو صدر کی اجازت سے اس طالب علم نے ایک چھوٹا سوال کر دیا کہ مقالہ نگار نے ایک طویل اقتباس فارسی کی تاریخ فرح بخش کے حوالے سے اردو میں سنایا ہے، پوچھنا صرف یہ ہے کہ یہ ان کا اپنا ترجمہ ہے؟ صدر کو مخاطب کرنے کی بجائے پروفیسر صاحب نے سائل کی گستاخی پر غیظ و غضب سے آنکھیں دکھائیں اور جواب یہ دیا کہ تاریخِ فرح بخش کا ایک قلمی نسخہ تو آپ کی یونیورسٹی لائبریری تک میں موجود ہے، کبھی اس کا مطالعہ کر لیجیے۔ یہ سن کر حسرت کا منہ لٹک گیا لیکن وہ کروٹ بدل کر ہشیار ہوئے اور صدارتی کلمات کا آغاز کرتے ہوئے وہی طویل اقتباس پورے کا پورا زبانی سنا ڈالا اور کہا کہ ’’مدت ہوئی شرر کے گز شتہ لکھنو میں ٹکڑا پڑھا تھا جو اپنی دلآویز نثر کی وجہ سے یاد رہ گیا۔ یہ نثر پروفیسر صاحب کی نہیں ہوسکتی کہ باقی مضمون میں جیساکچھ لکھا گیا ہے وہ اس سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ ایک بے ضرر سوال پر، جس کا جواب مضمون کے اندر ہونا چاہیے تھا، انہوں نے شرر کا زبانی ذکر ہی کر دیا ہوتا تو بات ختم ہو جاتی ۔ تاریخِ فرح بخش کے قلمی نسخے کا حوالہ بھی بر محل نہیں کہا جا سکتا کہ یہ پرانی کتاب شائع ہو چکی ہے۔ پھر اس کا کوئی کتنا ہی مطالعہ کیوں نہ کرے یہ تو قیامت تک معلوم میں ہو سکتا کہ اس لمبے ٹکڑے کا ترجمہ آپ نے خود کیا ہے یا آپ سے پہلے کسی اتفاق سے انہی الفا ظ میں مولوی عبدالحلیم شرر بھی کر چکے ہیں ۔’’ آپ کی یونیورسٹی لائبریری‘‘ کا جملہ اس حد تک تو درست ہے کہ اس غریب ملک میں رام پور اور بانکی پور جیسے کتب خانے موجود نہیں لیکن اس طرزِ خطاب کو مہذب کہنا بہت مشکل ہے۔ اوپر سے آپ نے اپنا سرقہ چھپانے کے لیے ایک طالب علم کو بلا وجہ ڈانٹ دیا حالاں کہ آپ کو اپنی کوتاہی کی معذرت کرنی چاہیے تھی۔ خیر، نثر کو تو چھوڑیے، مقالہ ایک شاعر کے بارے میں ہے جس کے اشعار کو آپ نے الٹی چھری سے ذبح کر کے رکھ دیا ہے، کہیں الفاظ کی تقدیم و تاخیر اور کہیں اُن کے رد و بدل سے شعری آہنگ کی ٹانگیں توڑ ڈالی ہیں ۔‘‘ اس کے بعد حسرت نے صرف یادداشت سے، با وجود یکہ کوئی نوٹس نہیں لیے تھے ، بیسیوں اشعار اور مصر عے سنا ڈالے جنہیں مقالہ نگار نے ساقط الوزن بنا دیا تھا ۔ ایک دو نکتے تلفظ کے بھی اٹھائے مثلاً مقالہ نگار نے ایک جگہ حقے کی ایک قسم کو ’’ککڑ کا حقہ‘‘ پڑھا تھا۔ صدر نے کہا: آپ تو سنا ہے بدایونی سے تشریف لائے ہیں جو فانی مرحوم کا وطن تھا، معلوم نہیں آپ شہر میں رہتے تھے یا کسی چھوٹے سے قصبے میں ۔ تاہم کسی وجہ سے سارے صوبے والے خود کو اہل زبان کہتے ہیں، چاہے اہلیت ہو نہ ہو۔ بہر حال آپ نے بے چارے فانی کا لحاظ ہی رکھ لیا ہوتا اور یہ لفظ نوراللغات میں نہیں تو نظیر اکبرآبادی کے كلام میں ہی دیکھ لیتے ۔ پھر نظیر کا شعر سنایا جس میں پھکڑ کا قافیہ ککڑ سے بندھا تھا۔
آخر میں میں حلقے کی انتظامیہ سے کہا کہ ’’کسی محفل میں کوئی علمی تنقیدی مقالہ بک کرنے سے پہلے لازمی ہے کہ لکھنے والے کے ادبی منصب کی چھان بین کر لی جائے تا کہ یہاں غیر معیاری چیز یں پیش نہ ہوں چاہے کوئی پروفیسر لے کے آ جائے یا کوئی دوسری بالا ۔ بہرحال آپ حضرات کا شکریہ کہ مجھے یہاں آنے کی دعوت دی لیکن آئندہ کے لیے امید ہے یا تو ایسے مقالہ نہیں پڑھوائیں گے یا پھر کم از کم مجھے ایسی کوفت سے معاف رکھیں گے۔‘‘
ساری محفل سن ہو کے رہ گئی اور حسرت اکیلے ہی وائی ایم سی اے بلڈنگ سے نکل کر مال پر مارچ کرتے ہوئے ”امروز“ کے دفتر روانہ ہو گئے ۔منتظمین سے کوئی شخص انہیں باہر چھوڑنے تک نہ گیا بلکہ یہ نیازمند دروازے تک ان کے ساتھ گیا تو غصے سے پھنکار رہے تھے۔ ڈر کے واپس آیا تو پروفیسر صاحب اپنی جگہ ناراض تھے اور بیچارے ایم اے پاس کرنے کے خواہش مندوں کو لینے کے دینے پڑے ہوئے تھے۔
اگلے دن ’’حرف و حکایت‘‘ کا کالم چھپا تو یو نیورسٹی کے موجودہ معیارِ علم و ادب کی شکایت سے بھر پور تھا اس نتیجے کے ساتھ :
گر ہمیں مکتب است و ایں ملا
کارِ طفلان تمام خواہد شد
(اگر یہی مدرسہ رہا اور یہی استاد تو لڑکوں کا خدا حافظ بلکہ لڑکیوں کا بھی۔)
لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور حلقہ ارباب ذوق والے بھی سطح کو ہموار کر کے ویسے ہی مقالے دیر تک سنواتے رہے البتہ حسرت صاحب کو بلوانے کی غلطی انہوں نے پھر نہیں کی۔
اہل ادب میں بہرحال حسرت کی زبان دانی مسلم تھی اگرچہ وہ بارہ مولا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے تھے لیکن پونچھ میں اپنے علم دوست نانا کے یہاں پرورش پانے کے بعد لاہور، کلکتہ، عظیم آباد اور دہلی کے اسا تذہِ علم و ادب کی صحبت میں ایک مدت بسر کر چکے تھے۔ اہلِ علم کا اس حد تک احترام کرتے تھے کہ سیاسی اختلاف کے باوجود ابوالکلام کے بارے میں کوئی ہلکی بات کہنا تو کجا سن بھی نہ سکتے تھے۔ نواب نصیر حسین خیال عظیم آبادی، خواجہ عبدالرؤف عشرت لکھنؤی اور سید جالب دہلوی کے بہت قائل تھے۔ زبان کی تحصیل انہوں نے کتابوں اور غیر رسمی محفلوں کے علاوہ کوچہ و بازار میں گھوم پھر کر حاصل کی تھی ۔ کسی نے کہا کہ اردو آپ کی مادری زبان تو نہیں بن سکتی تو جواب دیا اس میں کیا مشکل ہے، کسی اہلِ زبان خاتون سے شادی کر لیے تو اُردو آپ کی مادری زبان ہو جائے گی۔
انہیں قصباتی الفاظ اور محاورات بہت کھلتے تھے۔ کہتے تھے کہ قصباتی زبان ہر بارہ کوس پر بدل جاتی ہے، اس لیے نہ اخبار میں چل سکتی ہے نہ ادب میں۔ عرض کیا کہ ایران کے مشہور عالم سعیدنفیسی نے اپنی کتاب ” نثرِ فصیحِ محاصر‘ میں صادق ہدایت اور دوسرے جد ید لکھنے والوں پر یہی اعتراض کیا ہے۔ کہا کہ فکشن اور ڈرامے کی حد تک ان کا اعتراض صریحاً غلط ہے اس لیے کہ یہاں جو کچھ بھی کوئی کردار بولتا ہے تو اس کے وقت اور مقام کی زبان فصاحت کا نہ سہی بلاغت کا قر ینہ ضرور رکھتی ہے۔’’ لیکن حضور، یہ بھی تو کہا جاتا ہے کہ بلاغت کا ایک جز فصاحت بھی ہے۔‘‘ کہا کہ ایک حد تک مگر ہمیشہ اس کی پابندی نہیں ہو سکتی۔ پھر جو کوئی کچھ بولتا اورسنتا ہے اسی کو فصیح سمجھتا ہے چاہے صحیح ہو یا غلط ۔ اب انتظارحسین صاحب لیجیے۔ آپ ہزارکہیں کہ ’’ہِلّے سے لگنا‘‘ کوئی معیاری محاورہ نہیں، محض حیلے سے لگنے کی دیہاتی تخریب ہے جو کسی کردار کی زبان سے بھی نکلے حائے حطی سے لکھنا چاہیے نہ کہ ہائے ہوّز سے۔ مگر وہ کہیں گے کہ صاحب ہم نے تو یوں ہی سنا ہے تو بھائی، کس سے سنا ہے اور کہاں سنا ہے؟ممکن ہے ڈبائی میں اور زیادہ ہاپوڑ میں یوں ہی بولا جاتا ہو لیکن میرٹھ اور بمبئی شہر میں، جہاں تعلیم یافتہ لوگ کچھ زیادہ پائے جاتے ہیں، ایسا کسی نے سنا ہو تو کسی ڈبائیوی یا ہاپوڑی سے ہی سنا ہو گا۔ پھر بتایا کہ کسی نکمے نوجوان کو معمولی سی نوکری یا وسیلہِ روزگار مل جائے تو کہتے ہیں چلو حیلے سے تو لگا یعنی آ گے جا کر کوئی بہتر صورت بھی پیدا ہو جائے گی۔
پوچھا کہ ہر زمانہ اور ہر خطہِ زمین اپنے لیے زبان کا کوئی نہ کوئی نیا معیار قائم کرتا ہے، کیا پاکستان کی اُردو میں دہلی اورلکھنؤ کا معیار قائم رہے گا یا قدرے بدل جائے گا۔ کہا کہ قدرے کا لفظ ٹھیک ہے کیوں کہ زبان میں یک بیک کوئی انقلاب نہیں آ سکتا اور کسی نہ کسی معیار کے قریب رہنے کی جستجو جاری رکھنی پڑتی ہے۔ اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آپ استاد امام دین جیسےگھامڑ کو سند بنا کر اردو کی ایسی تیسی کرکے رکھ دیں۔ یہاں تو اقبال اور ظفر علی خان بلکہ حفیظ جالندھری تک کا سکہ ہی چل سکتا ہے اور یہ لوگ اپنی بعض مسامحتوں کے باوجود زبان پر بہت محنت کرتے تھے اور زبان دانی کا ایک فطری جو ہر ان کی طبیعت میں موجود تھا۔ پوچھا کہ یہ سب تو شاعر تھے اور ظفر علی خان کی نثر میں انشاء پردازی کچھ زیادہ ہے اور لطفِ زبان کچھ کم۔ کہا کہ ان کے بعد آنے والوں نے، خصوصاً فکشن میں اور صحافت میں، نئے معیار کی طرف کچھ اقدام کیے ہیں۔ ممکن ہے ان میں سے کوئی چلے اور کوئی نہ چلے پھر بھی یہاں ، پاکستان میں ، لٹ پٹ کر کوئی نہ کوئی نیا معیار بن کے رہے گا اور اسی طرح، ہندوستان میں بھی، جو ہم سے خاصا مختلف ہو گا لیکن بنیادی عناصر تو مشترک ہی رہیں گے کہ کوئی بھی زبان اپنے تہذیبی سرمائے اور اپنے تاریخی کردار کی روشنی میں نمو پذیر ہوتی ہے۔
پوچھا کہ منٹو صاحب نہایت سادہ زبان لکھتے ہیں، کہیں یہ اس وجہ سے تو نہیں کہ وہ فارسی عربی سے تقریباً نابلد ہیں ۔ کہا کہ نہیں اس وجہ سے نہیں، فارسی اور عربی تو آپ پڑھیے نہ پڑھیے آپ کے ماحول اور آپ کی سرشت میں اس کا عمل دخل کسی کے رو کے نہیں رک سکتا۔ مثلاً جب منٹو ترقی پسند تحر یک کو ’’عقیم و سقیم‘‘ کہتا ہے تو آپ ان کی جگہ کیا الفاظ رکھ سکتے ہیں؟ کہا کہ بانجھ اور مریضانہ۔ جواب دیا کہ گالی تو ہوگئی لیکن مزا نہ آیا۔ کہا کہ جی ہاں! ان لفظوں میں صنعت تجنیس اور قافیہ موجود ہے اس لیے لفظوں کے کھیل کا لطف تو آئے گا۔ جواب دیاکہ آپ تو آرٹ میں سگمنڈ فرائڈ کی ’’پلے تھیوری ‘‘سے واقف ہوں گے پھر لفظوں کے کھیل کی اجازت کیوں نہیں دیتے ، خصوصاً جب کہ اصولِ حقیقت بھی اس کے ساتھ چل رہا ہو۔ جی تو چاہا کہ داغ کے شاگردوں میں لفظی بازیگری کی طرف توجہ دلاؤں لیکن اصولِ حقیقت کی شرط نے منہ بند کر دیا۔ دہلی اور لکھنؤ کی زبان پر ان کا مقالہ جو ’’مقالات حسرت‘‘ میں شامل ہے ایک شاہ کار علمی تحریر نہ سہی لیکن آج بھی اس کی معنویت میں شاید ہی کوئی فرق آیا ہو، اس پر ان سے خصوصاً کراچی میں مزید گفتگو ہوتی رہی لیکن افسوس کہ اس وقت ٹیپ ریکارڈر موجود نہ تھا اور اب حافظہ ساتھ نہیں دے رہا۔ پھر بھی ان کا یہ ارشاد یاد ہے کہ ہم کسی گھنے جنگل کو صرف درمیان سے گزر کر ہی پار کر سکتے ہیں ورنہ بہت بڑا چکر پڑے گا۔ ہاں راستے میں خطرے تو بہت پیش آئیں گے لیکن خطرہ نہیں تو حاصل بھی کچھ نہیں۔
’’امروز‘‘ چھوڑنے کے بعد انہوں نے جو کھکھیڑیں اٹھائیں ان میں چھوٹے بخاری کی ماتحتی میں ریڈیو پر کام کرنے کی مجبوری بہت کڑی ثابت ہوئی۔ یوں تو امید تھی کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے عزیز دوست اور اپنی جگہ قابلِ احترام شخصیت کے ساتھ احترام سے پیش آئیں گے لیکن وہ اد بدا کے انہیں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے ۔ کراچی شہر میں انہوں نے اپنے منصبی تبے کے بل پر جو عارضی اعتبار حاصل کر لیا تھا، چاہتے تھے کہ ادب اور فن میں بھی ان کو یہی مرتبہ حاصل ہو جائے چاہے اس کے لیے کتنے ہی اہلِ فن و ادب کو رسوا ہونا پڑے۔ ریٹائر ہونے کے بعد انہیں تھوڑا سا احساس ضرور ہوا کہ وہ مشاعرے بازوں کی کھوکھلی اور غرض مندانہ ستائش کا شکار ہو چکے تھے ۔ ان ہی میں سے کچھ لوگوں نے ، جو مجالسِ عزا کے منتظم تھے،انہیں یہ بھی یقین دلا دیا تھا کہ مرثیہ خوانی محض ادا کاری کا کرشمہ ہے اور وہ اس فن میں جون گیلگڈ اور لارنس اولیویر کو مات دے سکتے ہیں ۔ چناں چہ انہوں نے منبر پر بیٹھ کر بے دھڑک ہاتھ پیر چلانے شروع کر دیے اور مرثیے کے تقدس کو پامال کر کے سمجھنے لگے جیسے کوئی یادگار پرفارمنس دے رہے ہوں ۔ ریڈیو پر مرثیہ خوانی سے انہیں کون روک سکتا تھا کہ وہ تو ان کی خاندانی جائیداد تھی۔ اوپر سے آہ واہ کرنے کو ماتحتوں کا ہجوم چناں چہ انہیں یہ خبط عارض ہو گیا کہ مرثیے کی پوری تاریخ میں ان سے بہترمرثیہ خوانی کسی نے نہیں کی۔ عجب در عجب یہ کہ وہ اپنے مریضانہ واہمے کی تائید صرف اعجاز بٹالوی یا رضی ترمذی ہی سے نہیں، بلکہ چراغ حسن حسرت جیسے کلاسیکی شعور اور تہذیبی معیار کا پاس رکھنے والوں سے بھی طلب کرنے لگے۔ پھر بھی انصاف کی رو سے اتنا مسلم ہے کہ ان کی آواز میں خاصی رسائی تھی اور لفظوں کی ادائیگی بھی خوب تھی۔اس کے علاوہ انہوں نے بعض ممتاز مرثیہ خوانوں کو سن رکھا تھا اور آواز کے زیر و بم اور ان کی چال ڈھال کا چربہ بھی ضرور اتارا تھا کہ بعض جگہ ان کی خوانندگی پرتخلیقی تعبیر کی بجائے محض تکنیکی مہارت کا سراغ ملتا ہے۔ مرثیہ خوانی کے فن پر نیر مسعود کی مرتبہ کتاب، جو اب سے چند برس پہلے شائع ہوئی اور جس میں ممتاز مرثیہ خوانوں کے فن اور ان کی روایت کو بڑی وضاحت کے ساتھ لفظوں میں بیان کیا گیا ہے، کی روشنی میں دیکھا جائے تو چھوٹے بخاری کا کمال اتنا بڑا نہیں لگتا کہ انہیں اس فن کی تاریخ میں کوئی بلند درجہ دیا جا سکے ۔ حسرت صاحب نے یہ سب دستاویزی مسالہ پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو، انہوں نے اس کی عملی پیشکش کے جونمونے دیکھے سنے تھے، ان کے مقابلے میں چھوٹے بخاری کے ماتحتوں کا سا ردعمل ان سے متوقع نہیں ہوسکتا تھا ۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ پھر بھی اُن سے ایسی نا قابل قبول توقع روارکھی گئی۔
ہوا یہ کہ کراچی کے ایک دورے کے دوران (مرحوم) سلیم احمد سے معلوم ہوا کہ وہ ، احمد فراز اور احمد بشیر کے ساتھ ریڈیو کے ایک تازہ جاری شده نیشنل پروگرام میں مسودہ نگاری پر مامور ہوئے ہیں اور چراغ حسن حسرت لاہور سے آ کر اس کے انچارج مقرر ہوئے ہیں ۔ ایک مدت سے حسرت صاحب سے ملنا نہ تھا، نہ یہ معلوم تھا کہ اب کہاں ہیں اور کیا کرتے ہیں ۔ چناں چہ ایک دن ان سے تجدیدِ ملاقات کی خاطر گیا تو مل گئے ۔ اپنی عادت کے برعکس خندہ پیشانی سے پیش آ ئے اور بیٹھتے ہی دو چائے کی آواز لگا دی۔ میں نے بتایا کہ انہی دنوں میں اُن کی کتاب ’’پربت کی بیٹی ‘‘پڑھنے کو ملی تو بہت لطف آیا خصوصا ًفارسی عربی الفاظ کے بغیر ساده زبان میں جس بے ساختگی کے ساتھ انہوں نے صدیوں پرانے قصوں کو پورے نشیب و فراز کے ساتھ بیان کیا ہے اس سے آرزو لکھنؤی کی ’’سریلی بانسری‘‘ کا گیت نثر میں بھی گو نجنے لگتا ہے۔ کہا کہ یہ کتاب ’’سریلی بانسری‘‘ سے پہلےنہیں تو اس کے آس پاس ہی لکھی گئی البتہ کلکتے کی ایک محفل میں ان کا وہ ’’پانی‘‘ والا لا جواب مرثیہ سن چکا تھا۔ اتنا کہا تھا کہ انہیں کوئی بھولی ہوئی بات یاد آ گئی۔ ان دنوں عشرہِ محرم چل رہا تھا۔ گھڑی دیکھ کر کہا کہ ابھی چند لمحوں میں ذوالفقار بخاری صاحب ریڈیو پر ایک مرثیہ پڑھ رہے ہیں، اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو تو مونیٹر پر انہیں سنا جائے۔ میں نے کہا: اعتراض کیا، بسم اللہ کیجیے ۔ انہوں نے اٹھ کر مونیٹر آن کر دیا اور ہم دونوں خاموشی سے اور توجہ کے ساتھ بخاری صاحب کی مرثیہ خوانی سنتے رہے۔ ابھی دس پندرہ منٹ گزرے ہوں گے اور مرثیہ بمشکل اپنے کلائمکس کے قریب پہنچا ہوگا کہ انہوں نے اٹھ کر مونیٹر کو آف کر دیا اور ’’پربت کی بیٹی‘‘ پر اپنی بات کا سرا پکڑ لیا۔ کہنے لگے کہ عربی فارسی کے شیدائی فرماتے ہیں کہ ان زبانوں کے الفاظ کے بغیر اُردو میں کوئی ٹھکانے کی چیز نہیں لکھی جا سکتی ۔ پھر بھی انشاء اللہ خان نے ’’رانی کیتکی‘‘ جیسی سجل کہانی ان سہاروں کے بنا لکھی ہے اور شاعری میں آرزو سے پہلے بھی کئی ایک شعراء نے سریلی با نسریاں بجائی ہیں ۔ نثر میں ’’باغ و بہار‘‘ سے لے کر ’’گئودان‘‘ تک جا بجا ایسے ٹکڑے بکھرے ہوئے ہیں جن میں عربی فارسی کے بغیر فصاحت و بلاغت کا حق ادا کیا گیا ہے۔ میری اپنی تمام تر بیت عربی فارسی کے زیرِ سایہ ہوئی ہے پھر بھی مجھے کہا جائے تو قلم اٹھا کر صفحوں کے صفحے ایسے لکھ سکتا ہوں جن میں نہ سنسکرت کا بوجھل پن ہونہ عربی فارسی کی ثقالت۔
اتنے میں دروازے کے باہر ایک کھرج دار آواز گونجی: حسرت صاحب ہیں؟ اور ذوالفقار بخاری اندر آتے ہی کمرے کے ایک کونے میں تن کر کھڑے ہو گئے۔
’’حسرت صاحب! مرثیہ سنا ؟‘‘ انہوں نے وہیں سے پوچھا۔
’’جی، سنا ۔‘‘ مولانا نے جیسے ندامت سے سر جھکا کر کہا۔
’’کیسا تھا ؟‘‘
’’جی، مر ثیہ یا پڑھنت؟‘‘ حسرت نے جوابی سوال کر دیا۔
بخاری کو بہت تاؤ آیا، پلٹ کر بولے: ’’مولانا، آپ کے خیال میں انیس کیسا پڑھتے تھے؟‘‘
اب پھر حسرت کے لیے امتحان کی منزل تھی، آہستہ سے کہا: بخاری صاحب ! وہ تو ہماری آپ کی پیدائش سے بہت پہلے فوت ہو چکے تھے ۔ جس سے سنا یہی سنا ہے کہ بہت اچھا پڑھتے تھے۔ کتنا اچھا پڑھتے تھے صحیح طور پر معلوم نہ ہوا۔ بس مولوی ذکاء اللہ نے اتنا لکھا ہے کہ انیس کے بڑھاپے میں، الٰہ آباد کے امام باڑے کے باہر، گرمیوں کی دھوپ میں ایک ایسی جگہ کھڑے ہو کر ان کا مرثیہ سنا جہاں سے بس ان کی ذرا سی جھلک نظر آتی تھی۔ لگتا تھا کوئی بڑھیا جادو کر رہی ہے۔ اب جادو کو کوئی کیسے بیان کرے؟ ہاں البتہ ایک بار لاہور میں شور اٹھا کہ انیس کا پوتا فلاں تاریخ کو نواب صاحب کے امام باڑے میں مرثیہ پڑھے گا۔ پوتا کون، ایک غیر معروف سے صاحب تھے جلیل لکھنؤی، بعد میں بھی ان کا نام کم ہی کبھی سنا۔ پھر بھی ہم پہنچے ۔ صاحب کیا بتائیں آج تک ایسی پر تا ثیر مرثیہ خوانی سننے میں نہیں آئی ۔ مجلس ختم ہوئی تو ہم بھی دست بوسی کو آگے بڑھے اور اظہارِ عقیدت کے طور پر کہا کہ انیس کا سنا تھا کہ بہت عمدگی سے پڑھتے تھے، لیکن شنیدہ کے بُود مانندِ دیدہ ۔ خدا جانے وہ بھی ایسا پڑھتے ہوں گے یا نہیں۔ جلیل نے کہا: ” میاں کیا کفر بکتے ہو !‘‘
چھوٹے بخاری تو جل بھن کر راکھ کی طرح ہوا ہو گئے ۔ ادھر میں یہ سوچنے لگا کہ حسرت نے کتنے کمال سے بخاری اور انیس کے درمیان نشریات کی اصطلاح میں کتنی distancing پیدا کر دی یعنی کتنے بڑے فاصلے حائل کر دیے۔ انیس کی تیسری نسل کا ایک فرد، اور وہ بھی گمنام، پھر اسی اثر انگیز خوانندگی کہ اب تک سننے میں نہیں آئی اور آخر میں تقابل کرنے پر کفر بکنے کا حتمی فیصلہ۔ یہ بھی خیال آیا کہ حسرت کو معلوم تھا، ان کا سارا علمی و ادبی وقار داؤ پر لگے گا، پھر بھی انہوں نے مونیٹر کو آپ اٹھ کر بند کر دیا اور اب ایاز کو اپنی قدر پہچاننے کی دعوت دے دی۔ یقینی امر تھا کہ یہ ملازمت زیادہ دیر نہیں چلے گی نہ کوئی تعظیم وتوقیر اسے بچا سکے گی ۔ چند ہی ہفتوں میں خبر ملی کہ حسرت لا ہور واپس پہنچ چکے ہیں جہاں ان کے ساتھ آخری شام منائی گئی۔
منٹو کا خاکہ سننے کے بعد کہتے ہیں کہ انہوں نے غم غلط کرنے کی بہت کوشش کی، نتیجہ یہ کہ ہسپتال جا پہنچے اور وہاں سے نکلے تو منٹو کا انتقال ہو چکا تھا۔ کچھ دن کے بعد مولوی عبدالماجد در یا بادی کے ’’صدق ِ جدید‘‘ کا ایک کالم ان کی نظر سے گزرا جو منٹو کی مذمت میں لکھا ہوا تھا۔ ماجد صاحب نے ریڈیو پاکستان کے رسالے ” آہنگ‘‘ میں انتظار حسین کی ایک تقریر کا اقتباس پڑھا تھا جس میں منٹو اور عصمت چغتائی کی بھی تعریف کی گئی تھی ۔ اس کے علاوہ رام پور کے رسالے ’’معیار ‘‘کا ایک شمارہ بھی جس میں منٹو پر ایک تعزیتی مضمون چھپا تھا اس فقرے کے ساتھ کہ اس کی حقیقت پسندی اصل میں اسلام کی صداقت بیانی کا مظہر تھی ۔’’ معیار‘‘ کا تعلق جماعتِ اسلامی ہند سے تھا۔ ماجد صاحب نے لکھا کہ وہ تو خیر ایک ہندوستانی جماعت ہے لیکن پاکستان کے ریڈیو پر، جہاں وزیراعظم خواجہ ناظم الدین اور گورنر جنرل غلام محمد جیسے مسلمانوں کی حکومت ہے، منٹو جیسے بد اخلاق افسانہ نگار کی تحسین نہایت افسوس ناک ہے۔ حسرت صاحب نے اپنے ’’حرف و حکایت‘‘ میں، جواب ’’نوائے وقت‘‘ میں منتقل ہو چکا تھا، ایک مولوی صاحب کا قصہ بیان کر دیا جنہوں نے ایک دولت مند کی بیوہ پر ڈورے ڈال کر نکاح کر لیا تھا اور اس کی جائیداد ہڑپ کر کے طلاق دے دی تھی۔ یہ بھی لکھا کہ منٹو کو اپنی زندگی میں یہ واقعہ معلوم ہوتا تو اس پر ضرور ایک افسانہ لکھتا۔ پھر بداخلاقی دونوں میں سے کس سے ہوئی؟
منٹو کا انتقال سن پچپن کے شروع میں ہوا تھا اور اسی سال کے آخر میں حسرت صاحب پھر ایک شدید بد پرہیزی کے بعد ہسپتال میں داخل ہوئے۔ یہ نیاز مند، جو ان دنوں لاہور آیا ہوا تھا، نازک صورت ِحال کا ذکر سن کر بیمار پرسی کو پہنچا۔ ڈاکٹر ریاض قدیر ملے جنہوں نے بتایاکہ اس دفعہ حسرت صاحب بچتے نظر نہیں آتے۔ پوچھا: کیوں؟ کہنے لگے: فارسی کے شعر پڑھ رہے ہیں۔ ان سے اجازت لے کر بستر کے قریب جا کر کان لگایا تو محسوس ہوا جیسے صائب کا ایک شعر گنگنارہے ہوں جو پہلے بھی ان ہی سے سنا تھا:
آسماں از سپر انداختگان است اینجا
در چنیں معرکہ ای تیغِ شجاعت چہ کند
( یہاں تو آسمان بھی سپر اندازوں میں شامل ہو چکا ہے۔بھلا ایک ایسی جنگ میں بہادری کی تلوار کیا کام کرسکتی ہے!)
واپسی پر ’’چہ کند، چہ کند ‘‘ کی آواز مسلسل پیچھا کرتی رہی اور اکیالیس برس کے بعدیہی آواز اب تک گونج رہی ہے۔
(حلقہ اربابِ ذوق، لا ہور : ۱۳ دسمبر ۱۹۹٦ ء، صدارت: احمد بشیر)