مظفر علی سید

مظفر علی سید

ن م راشد: ماورائی آدمی

    ن م راشد: ماورائی آدمی

    جدید اردو شاعری کے اولین استاد ن م راشد کی وفات کو اب کوئی بائیس برس ہونے والے ہیں اور اس نیاز مند کی اُن سے آخری ملاقات کو تقریباً اٹھائیس برس۔ اتنے طویل عرصے میں تو آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی باتیں خواہشات کی خوش گمانیوں کے ساتھ بری طرح گڈ مڈ ہونے لگ جاتی ہیں۔ پھر بھی ذہن کی بڑھتی ہوئی دھند میں ایک بلند و بالا فکر و فن کا پیکر اپنے پاؤں پر مضبوطی اور اعتماد سے استادہ نظر آتا ہے۔

    اُس پیکر کا خمیر بدیہی طور پر نطشے اور اقبال اور علامہ مشرقی کے تصورات پر اٹھایا گیا تھا۔ لیکن اُس کی ڈھلائی میں خود صاحب پیکر کے علاوہ کس کس کا ہاتھ لگا ہوگا اور پہلی جنگ ِ عظیم سے لے کر اقتصادی بدحالی تک کی عالمی اور مقامی صورتِ حال نے اسے کس حد تک تپایا ہو گا، ان تفاصیل کا تعین بہت مشکل ہے۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ اُس دور میں بھی، آج کی طرح ، فکر و نظر کی صلابت اور عزم و عمل کی جارحیت کے بغیر شاید سب کچھ ڈھے کے رہ جاتا۔ وقت سے پہلے ہی، کچھ کیے دھرے بغیر۔

    مگر یہ پیکر اپنے ماحول کی پیداوار تھایا ماحول کے چیلنج کا جواب، اس کے بارے میں ردو قدح ہو سکتی ہے۔ دوسری صورت میں، جو نسبتاً زیادہ قابل قبول ہو گی، جواب دینے کی صلاحیت تخلیق فن کا لازمی تقاضا ہے جس کے عقب میں بہت سی انجانی قوتیں کام کرتی   ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ کیا یہ قوتیں ماورائی ہیں یعنی انسانی تجزبے اور شعور و ادراک سے پرے آدمی کے وجدان میں وارد ہوتی ہیں؟ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ خود راشد کو یہ تعبیر ہرگز تسلیم نہ ہوتی، نہ اُن جملہ مکاتب فن و ادب کو جن سے اُس کی شاعری کا ربط جوڑا جا سکتا ہے۔

    لیکن شاعر کو محض ایک دنیاوی شخص سمجھنا بھی جوہر تخلیق سے آشنائی کی دلیل نہیں کہ وہ تو ہر لحظہ جہانِ ظاہر میں باطن کی جھلک دیکھتا رہتا ہے۔ ہم اُس سے یہ شکایت نہیں کر سکتے:

    سرسری تم جہان سے گزرے

    ورنہ ہر جا، جہانِ دیگر تھا

    البتہ، سرسری نظر سے دیکھیں تو اپنی جملہ جہاں بینی کے باوجود ممکن ہے اُن کی شاعری بھی سرسری لگنے لگے۔ پھر بھی یہ سوال تو رہے گا کہ انہوں نے اپنی شدت کی حد ک پہنچی ہوئی ’’ایں جہانی‘‘ نظموں کے پہلے مجموعے کا عنوان ’’ماورا‘‘ کیوں منتخب کیا؟ عجیب بات ہے کہ جدید اردو ادب کی پوری تاریخ میں یہ سوال اٹھایا نہیں گیا۔ کہیں اس وجہ سے تو نہیں کہ ہم نے داخلی و خارجی اور نفسی و معاشرتی مظاہر کے درمیان ایک ناقابل عبور دیوار کھڑی کر رکھی ہے؟

    ہم کہہ سکتے ہیں محض ایک ’’ماورا‘‘ کے لفظ پر معنویت کا اتنا بڑا بوجھ لادنا درست نہیں۔ وہ تو بس اپنے زمانے کے رواجِ سخن کے پار جانا چاہتے تھے یا زیادہ سے زیادہ جو گھٹن انہوں نے اپنے وقت کے سیاسی معاشرتی نظام میں کرب کے ساتھ محسوس کی تھی، اُس سے باہر نکلنا چاہتے تھے۔ لیکن پھر وہ آنے والے برسوں میں ایسے احوال و مقامات تک کیوں کر پہنچے جن کا ٤١ء میں تصور بھی محال تھا۔ مثلاً سوچیے تو آخر انہوں نے اپنے لیے کافر کی موت مرنا کیوں پسند کیا؟ جیسا کہ قرۃ العین حیدر نے اشارۃً لکھا ہے، وہ بھی عصمت چغتائی کی طرح، مذہب اور تہذیب اور روایت کے بارے میں غیر سنجیدہ تھے؟ یا بقول ساقی فاروقی ، انہوں نے بس ایک ڈراما یا سیکنڈل کر دیا؟ ہنسی ہنسی میں مرتد ہو کر بھی مرتد کی سزا سے بچ نکلے۔

    یہ بھی شاید درست ہو کہ اُن کو، غالب کے الفاظ میں، کافر کی موت مرنے سے زیادہ مسلمان کی زندگی بسر کرنے کا خوف دامن گیر تھا۔ ’’حیف کافر مردن و آوخ مسلماں زیستن‘‘۔ غالب کو البتہ یہ معلوم تھا کہ کافر کی موت مرنے پر حیف کیوں؟ اس بحث سے اب کچھ حاصل نہیں کہ راشد نے کوئی تحریری وصیت کیوں نہ کی یا اپنے عقاید کی تبدیلی کا اعلان کیوں نہ کیا۔ جب کہ زبانی وصیت کی دو طرفہ تصدیق ہو چکی ہے اور اعلان تو اب جنگیں شروع کرتے ہوئے بھی ضروری نہیں رہا۔

     مگر یہ تو میں اپنے زمانہِ ملاقات سے بہت آگے نکل آیا۔ ٦٩ء کے نصف آخر میں، جب مجھے تہران میں چھ مہینے کی ہنگامی ماموریت حاصل ہوئی تو، تو اُس کی ایک بہت بڑی کشش راشد کے ساتھ ملنے ملانے اور اُن کے ذریعے ایران کے اہل قلم سے روابط کا امکان بھی تھا۔ اُس سے کچھ دیر پہلے وہ پاکستان آئے تھے اور لاہور میں جدید ایرانی شاعری پر ایک لیکچر دینے کے بعد کراچی کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر تھے جہاں میں اُن کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ تھوڑے ہی دنوں میں ایران لوٹنے والے تھے جہاں وہ اقوامِ متحدہ کے ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ کے طور پر کچھ برسوں سے کام کر رہے تھے۔ میری ماموریت پر خوش بھی ہوئے اور اُس کی مختصر مدت پر کبیدہ خاطر بھی۔ اس سے قبل سال دو سال کے بعد اُن سے کہیں نہ کہیں چھوٹی موٹی ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔ وہ فارسی میں میرے اشتیاق سے با خبر تھے اور میں ان کی مہارت پر اکثر مبہوت ہوا کرتا تھا۔ کہنے لگے کہ تمہیں احمد شاملو سے ملاؤں گا، صادق چوبک سے، خانلری سے، نادر نادر پور، مہدی اخوان ثالث اور اُ ن کے علاوہ جس جس سے تم ملنا چاہو۔ فروغ فرخ زاد تو، تم نے سنا ہو گا، سڑک کے ایک تصادف (یعنی حادثے) میں ہلاک ہو گئیں۔ تصادف کا لفظ البتہ انہوں نے ایسے ادا کیا جیسے واوین کے درمیان ہو۔ یوں بھی انہوں نے کہا کہ خفیہ تنظیم ساوک کا سالانہ ایک بڑے کا سکور کئی برسوں سے بدستور چل رہا ہے، دیکھیں اب کس کی باری آتی ہے۔ میں نے جلال آلِ احمد، علی شریعتی اور رضا براہنی کا پوچھا تو بتایا: جلال تو ہمارے گھر کے قریب تجریش میں رہتے ہیں، آج کل معتوب ہیں کہ کسی مصری طالبہ سے انٹرویو کے دوران اسرائیل کے بارے میں کچھ بے احتیاطی برت چکے ہیں۔ اُن سے ملنا ہو تو اپنے قیام کے آخری ہفتے میں ملنا تاکہ اگر واپس بھی بھجوا دیے جاؤ تو زیادہ افسو س نہ ہو۔ علی شریعتی کو الجزائری قائدین کی سفارش پر شہنشاہ نے رہا تو کر دیا ہے لیکن مشہد کی پروفیسر شپ پر بحال نہیں کیا، تم آؤ تو پتا کریں گے کہ آج کل کہاں ہیں اور ملنا کیسے ہو۔ رضا براہنی دانش گاہِ تہران میں انگریزی ادب پڑھاتے ہیں لیکن خبر نہیں ، کب تک۔

    اُدھر میں سوچ رہا تھا کہ راشد تہران میں بھی اتنی آزادی سے گفتگو کرتے ہوں گے یا دیوار ہم گوش دارد کے مصداق احتیاط روا رکھتے ہوں گے کہ انہوں نے سرہانے کی میز سے جدید ایرانی نظموں کی ایک انتھالوجی میری طرف سرکائی جو اتفاق سے مجھے کہیں سے مل چکی تھی۔ اتنے میں حلقہ اربابِ ذوق کے ایک سینئر شاعر، جو راشد کی عقیدت کا دم بھرا کرتے تھے، دروازہ کھٹکھٹائے بغیر داخل ہوئے اور آتے ہی وہی انتھالوجی پکڑ کر شپا شپ اُس کی ورق گردانی شروع کر دی ہے، اپنے رواں دواں تبصرے کے ساتھ۔ چند ہی منٹوں میں انہوں نے کئی شاعروں اور درجنوں نظموں کے ڈھیر کرکے رکھ دیا۔ راشد واضح طور پر سخت بے مزہ ہوئے اور کہا کہ عزیز من! شاعری پڑھنے کا یہ کوئی طریقہ نہیں اور وہ بھی ایک ایسی زبان میں جسے ڈھنگ سے سیکھا نہ گیا ہو۔ وہ صاحب ورق پلٹتے ہوئے بولے کہ یہ کون ہے،راشد صاحب، احمد شاملوٹ؟ اور یہ ’’پرھیا‘‘ کیا ہوتا ہے؟ شاملو کو شاملوٹ بنانے کی مضحکہ خیزی پر راشد بھی ہنس دیے لیکن پھر انہوں نے سمجھانا چاہا کہ پرھیا کا لفظ، جیسے تم نے بولا ہے، ہندی اور پنجابی کا لفظ ہے۔ یہاں جو نظم کا عنوان ہے ’’پریا‘‘ ہے، پری ہا کا مخفف جسے ہم اردو میں کہتے ہیں ’’پریاں‘‘۔ حضرت بول پڑے کہ پھر یہ لوگ سیدھے سیدھے ’’پری ہا‘‘ کیوں نہیں لکھتے؟ راشد نے کہا: جیسے بولو ویسے لکھو۔ لیکن اب یہ کتاب رکھ دو اور کوئی لطیفہ سناؤ، نہیں تو اُس گوہرے کی کوئی خبر۔ انہوں نے الطاف گوہر کا بے تکلفی سے نام لیا اور ساتھ میں ایک لقب بھی چپکا دیا۔

    یہاں موضوع کی دکھتی رگ پر ہاتھ پڑ گیا تھا۔ میں نے اجازت چاہی مبادا دو سینئرز کے درمیان بے تکلفی حد سے بڑھ جائے۔ راشد نے تہران پہنچتے ہی فون کرنے کو کہا اور اپنا کارڈ بھی عنایت کر دیا۔

    ٹھکانے پر پہنچا تو ابھی دفتر کے وقت میں گھنٹہ بھر باقی تھا۔ فوراً ہی رابطہ کیا تو کہا کہ مجھے تو آج دو ڈھائی گھنٹے بیٹھنا ہو گا اس لیے ٹیکسی پکڑ کر ہمارے دفتر آجاؤ، خیابانِ تخت جمشید پر۔ زیادہ دور نہیں ہے اور ٹیکسی والے کو ٹھیک جگہ نہ بھی معلوم ہو تو پوچھ لے گا۔   دفتر میں جیسے جملہ اقوامِ عالم کی نمائندگی تھی بجز جنوبی ایشیا کے، پھر بھی سب لوگ آقائی راشد کے مہمان کو خوش آمدید ، صفا آور دید کہنے کے منتظر تھے۔ قیام گاہ پر کب پہنچے تھے؟ اس کے جواب میں انہیں یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ ابھی آدھ گھنٹہ پہلے۔ پوچھا کہ میری طرح تم بھی علامہ مشرقی کی امت میں تو نہیں رہ چکے۔ بتایا کہ ہمارا زمانہ آنے تک تو وہ تحریک ہی تتر بتر ہو چکی تھی۔ ہاں یہ سنا ہے کہ گورنمنٹ کالج میں جب آپ اس موضوع پر تقریر کرنے پہنچے تو باقاعدہ وردی میں، ایک پلٹن کے ساتھ، بیلچہ لگائے ہوے تھے۔ کہا کہ پلٹن تو خیر نہیں ، دو چار جانباز سلامی اور در بانی کے لیے ساتھ آ گئے تھے اور بیلچہ  تو خیر وردی کا لازمی جز تھا۔ پوچھا کہ کب اور کیوں چھوڑ دیا۔ کہا کہ لاہور میں سر سکندر کے کریک ڈاؤن سے بھی کوئی ایک برس پہلے، بلکہ لکھنو ٔکی شیعہ سنی ایجی ٹیشن سے بھی کچھ مہینے قبل جب کہ وہاں امن مارچ کا پروگرام بن رہا تھا۔ اصل میں امن کا تو بس نام ہی نام تھا، براہ راست مقا بلے کی صورت تھی اور جب علامہ گرفتار ہو گئے تو قیادت اور بھی بے قابو ہوگئی ۔ یوں بھی دوسری جنگِ عظیم شروع ہو چکی تھی اور انگریز کوئی لمبا خطرہ مول لینے کو تیار نہ تھا۔ اوپر سے علامہ نے ہٹلر اور مسولینی کی فسطائیت کو ساجی طرزِ عمل کا نمونہ بنانا شروع کر دیا۔ اقتصادی بدحالی عروج پرتھی اور میں بھی تقریباً بیکار ہی تھا اگر چہ کہنے کو ایک ادبی رسالے کا ملازم مدیر تھا۔ اتنے میں ریڈیو کی نوکریاں کھلیں تو والد کے اصرار پر نیوز سیکشن میں بھرتی ہو گیا۔

    پوچھا کہ اس سلسلے میں پطرس کا وسیلہ بھی شامل رہا ہو گا ۔ کہا کہ نہیں، انہیں بعد میں معلوم ہوا۔ تمام خاکسار حکومت کی بلیک لسٹ میں شامل تھے اور میں تو ملتان کا سالار رہ چکا تھا۔ خفیہ رپورٹ والد نے کسی سے کہہ سن کر گول کرا دی ۔ پطرس شاید یہ خطرہ مول نہ لیتے البتہ جب میں لاہور میں جم گیا تو انہوں نے دہلی بلا کر پروگرام کی خدمت پر لگا دیا۔ پوچھا کہ پطرس کو آپ کا اور آپ کے بہت سے معاصرین کا مرشد ِمربی کہا جاتا ہے۔ پھر بھی سنا ہے کہ آپ اُن سے شکایت رکھتے ہیں ۔ کہا کہ ’’ایران میں اجنبی‘‘ کا دیباچہ، جو انہوں نے لکھا ہے، میں اس سے مطمئن نہیں تھا لیکن انہوں نے ضد کی تو میں نے بجنسہٖ چھاپ دیا۔ تم نے دیکھا ہو گا کہ اس میں انہوں نے فیض کو اور بھی اوپر اٹھانے کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ مجھے یہ راشد کا وہم محسوس ہوا، پوچھا کہ ’’نقشِ فریادی‘‘ کا دیباچہ لکھنے کے بعد کیا فیض کے بارے میں آپ کی اپنی رائے میں کوئی تبدیلی تو واقع نہیں ہوئی ؟ کہا کہ خودفیض بدل جائے تو رائےکیوں نہ بدلے؟ پھر ’’کیوں نہیں دیتے‘‘  والی غزل کا ایک شعر پڑھ کر کہنے لگے کہ اب تو فیض بالکل منشی رحمت علی ہو گیا ہے:

     

    اسیر پنجہِ عہدِ شباب کر کے مجھے

    کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے

    میں  نے بات پلٹنے کے لیے کہا کہ کراچی میں ہمارے دوست صہبا اختر کا کہنا ہے کہ ڈراما نگار منشی رحمت علی اُن کے والد تھے جب کہ وہ اصل میں محشر انبالوی کی ناٹک منڈلی کے ادا کارتھے اور محشر کی اچانک موت کے بعد منڈلی اور مسودات پر قابض ہو گئے تھے ۔ ’’محبت کا پھول‘‘، جس کا یہ شعر مقبول عام ہوا، خدا جانے ان کا کلام سے کیا محشر کا؟

    کہنے لگے: خیر جس کا بھی ہو، فیض  کے موجودہ رنگ سے بہت ملتا جلتا ہے۔ اس کے بعد زور کا قہقہہ لگایا اور چائے کے لیے آواز دی۔ پھر یکا یک پلٹ کر مجھ سے پوچھا کہ سنا ہے تم اور تمہارے دوست فیض سے خاصا بغض رکھتے ہو! عرض کیا کہ ہم لوگ تو اُن کے نیازمندوں میں شامل ہیں ۔ ہاں کبھی کبھار کوئی سخن گسترانہ پہلو درمیان میں آجائے تو اُس کاحساب الگ ہے بلکہ وہاں بھی کوشش یہی ہوتی ہے کہ جو بات ہو ادب اور احترام کے ساتھ ہو۔ اور پھر ہمارا ان سے بغض کیسا؟ وہ تو اُن کے پرانے دوستوں کا حق ہے۔ اس پر اور بھی زور کا قہقہہ لگایا اور اتنے میں چائے آ گئی تو کہنے لگے: کسی دن گھر آؤ۔ پھر دفتر کے کاغذوں میں اُلجھ گئے اور میں آئندہ جمعے کا وعدہ کر کے چلا آیا۔

    درمیان کے دو چار دن اپنے طور پر چند ایک کتب فروشوں اور اُن کے ذریعے چند ایک ادیبوں سے ملاقات میں گزرے۔ ہر جگہ راشد کا تذکرہ درمیان میں آیا اور جدید ایرانی شاعروں کے تراجم کا، جن میں ان کی بڑھتی ہوئی مشغولیت پر ہر کوئی انگشت بدنداں دکھائی دیا ۔ خوش قسمتی سے میں جس باشگاه میں ٹھہرا ہوا تھا اس سے قریب ہی کسی ریستوران یا کتاب فروشی میں کئی ایک نامور ادیبوں کی نشستیں جمتی تھیں ۔ وہیں ایک جگہ ڈاکٹر سیروس طاہباز سے ایک ملاقات ہوئی ۔ وہ ایران کے سب سے بڑےناشر کتاب فروشی امیر کبیر کے یہاں، جس کی شاخیں پورے ملک میں پھیلی ہوئی تھیں، ادبی مشیر کے طور پر کام کرتے تھے اور پابندی زده ممتاز     مجلے ’’آرش“ کے مدیر رہ چکے تھے۔ جلال آلِ احمد اور مہدی اخوان ثالث کے علاوہ کئی ایک ممتاز ادیب ان کے حلقہِ احباب میں شامل تھے ۔ وہ راشد کی مترجمانہ مصروفیات کے علاوہ ان کی شاعری سے بھی تھوڑی بہت بالواسطہ آشنائی رکھتے تھے ۔ پوچھنے لگے کہ شماہا در بارهِ آقائی راشد چطور فکر می کنید؟ (آپ لوگ راشد صاحب کے بارے میں کیسے سوچتے ہیں؟)معاً  منہ سے نکل گیا:’’مثلِ این کہ در بار ہِ مللِ متحد فکرمی کنیم۔‘‘ (ایسے ہی جیسے ہم اقوامِ متحده کے بارے میں سوچتے ہیں ۔ ) فوراً ہی ریستوران میں ایک مشتر کہ قہقہہ گونج گیا اور کئی ایک لوگ دیر تک یہ مکالمہ ایک دوسرے کو سناتے رہے۔ ادھر میں حیران و پریشان ہو کربیٹھا تھا ۔ پریشان اس بات پر کہ اتنے لوگوں میں بات پھیل گئی ہے اب خدا جانے کون اس میں کیسی کیسی کلیاں پھند نے ٹانک کر منزلِ مقصود تک پہنچا   دے گا۔ حیران اس بات پر کہ آخر ان لوگوں کو کیا خبر کہ ہم اقوامِ متحدہ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا واقعی وہ بھی اسی طرح سوچتے ہیں؟ ابھی دو دن پہلے تو راشد کہہ رہے تھے کہ شہنشاہ سے لے کر ایک عام ایرانی تک ہر کوئی اقوامِ متحدہ کے گن گاتا ہے۔ تہران میں اس کا صدر دفتر وزارتِ خارجہ کے پہلو بہ پہلو ایک شاندار عمارت میں واقع ہے، اُس بڑے چوک میں جس کا نام بھی ’’میدانِ مللِ متحد‘‘ رکھا گیا ہے۔ گن گانے کی وجہ یہ تھی کہ سوویت یونین کی فو جیں، جو دوسری جنگ ِعظیم کے دوران ایران کے صوبہ آذربائیجان پر قابض ہو گئی تھیں اور دیر تک وہیں رہیں حتیٰ کہ ایک سوویٹ سٹیٹ آف آذربایئجان بنا کر اسے بھی یونین میں شامل کر دیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کا مطالبہ تھا کہ سوویٹ فوجیں یہ علاقہ خالی کر دیں اور سوویٹ یونین کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کے عوام اُس میں شامل رہنا چاہتے ہیں۔ پھر شاید ماسکو میں یہ گمان پیدا ہوا کہ اس کی فوج نکل بھی جائے تو آذربائیجان کی ریاست قائم رہے گی مگر انخلا ء ابھی پورا بھی نہ ہوا تھا کہ کٹھ پتلی حکومت کا سقوط ہو گیا اور سوویت یونین نے عالمی سطح   پر جارحیت کی بد نامی سہیڑ نے کی جگہ یہ بہتر سمجھا کہ انخلاء کو مکمل ہونے دیا جائے ۔ اصل میں کٹھ پتلی حکومت پر اعتماد غلط ثابت ہوا اور آذربائیجان کی قبائلی صورتِ حال بھی خاصی مخدوش تھی ۔ منقطع صو بہ دوبارہ ایران میں شامل ہوا تو اسےشہنشاہ ، عوام اور اقوامِ متحدہ کی فتح قرار دیا گیا اور سرکاری تبلیغات نے اس میں خوب رنگ بھرے ۔ ادیب اور دانشور بہرحال اس پراپیگنڈے سے مرعوب نہ ہو سکے اور اقوام ِمتحدہ کےلیے اُن کے طرز فکر میں کوئی نمایاں تبدیلی پیدا نہ ہوئی ۔ یوں بھی اس طبقے پر سرکاری تبلیغات کا اثر بالعموم الٹا ہی پڑتا ہے۔

    جمعے  کو راشد کے گھرپہنچا  تو انہوں نے خندہ پیشانی سے استقبال کرتے ہوئے کہا کہ اچھا تو آپ نے آتے ہی ہم پر فقرے کسنے شروع کر دیے۔ عرض کیا کہ حضور ، آپ کی ذاتِ والا صفات کو کسی چھوٹی چیز سے تو نسبت نہیں دی پوری کی پوری اقوامِ متحدہ سے مشابہ قرار دیا ہے۔ راشد پھر ہنس دیے۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے ہمارے ناقدین کو ، جو اردو انگریزی میں لکھتے ہیں ، تھوڑا بہت ضرور پڑھا ہو گا ، ان میں سے کون آپ کو بہتر لگا؟ جواب میں مجھے توقع تھی کہ وہ سلیم احمد کا یا کم از کم جمیل جالبی کا نام لیں گے ، اپنے نام کا تو خیال بھی نہ تھا کہ اس گنہگار نے اُس وقت تک اُن کی شاعری پر کوئی مفصل مقالہ قلم بند نہیں کیا تھا، البتہ حلقہ اربابِ ذوق کے ایک سالانہ اجلاس میں انہوں نے اردو کے لیے لاطینی رسم الخط اختیار کرنے کی جو سفارش کی تھی اُس پر لے دے کر تے ہوئے ایک پورا مضمون گھسیٹ دیا تھا۔ لیکن جب انہوں نے صفدر میر کا نام لیا تو مجھے مارے حسد کے ہضم نہ ہوا۔ انہیں بتایا کہ جن دنوں میں صفدر صاحب نے آپ پر اور میرا جی پر اپنے توصیفی کالم لکھے تھے تو کسی نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ نے انجمن ترقی پسند مصنفین کی پارٹی لائن سے اتنا بڑا انحراف کیوں کیا تو انہوں نے جواب دیا تھاکہ میں نے تو یہ کالم انتظار حسین اور ناصر کاظمی کو زچ کرنے کے لیے لکھے ہیں جو چوتھی پانچویں دہائی کے پورے ادب کو رد کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ راشد کو یہ جواب پسند نہیں آ سکتا تھا کہ اُس سے تو وہ ترقی پسندی کے مخالفین کو زدوکوب کرنے کا ایک آلہ بن کر رہ جاتے۔

    پوچھنے لگے کہ آپ نے بھی کبھی اس قسم کا کوئی ارادہ کیا ہے؟ عرض کیا کہ ارادے اور منصوبے  تو بہت ہیں لیکن ایک ہی مضمون برسوں تک چلتا رہتا ہے۔ دریافت کیا کہ آپ کس زاویے سے مجھ پر لکھنا پسند کریں گے ۔ کہا کہ مثلاً آپ کے یہاں جو ایک ضدِ تاریخ قسم کا مستقل  رجحان ملتا ہے، جی چاہتا ہے اسے کبھی الٹ پلٹ کے دیکھا جائے۔ کہنے لگے: یہ تو  بڑا اچھا خیال ہے، میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ میری نظموں میں جو فکری رویے پائے جاتے ہیں اُن پر سنجیدگی سے بحث کی جائے ۔ آپ جو چاہیں لکھیں بس اتنا ہے کہ بات کے مختلف پہلوسمٹتے ہوئے لکھیں  ۔ یہ اُن کا احسان ہے کہ نہ تو انہوں نے اس بارے میں کسی عجلت  کا اظہار کیا اور نہ اس موضوع پر میری رہنمائی کے لیے کوئی لیکچر پلا یا۔ یہ الگ بات کہ پچھلے اٹھا ئیس برس میں یہ مضمون پھر بھی مکمل نہ ہو سکا اور اس کا ایک حصہ ’’ راشد اور ایران ‘‘کے زیر ِعنوان لکھا بھی گیا تو اُن کی وفات کے اُنیس بیس برس کے بعد شائع ہوا۔

    اصل میں وہ ہمارے کسی بھی دوسرے شاعر یا افسانہ نگار کے برعکس یہ بات بخوبی سمجھتے تھے کہ فن میں اسی بات کی اہمیت ہے جو دیر تک زندہ رہے اور بحث و گفتگو کا موضوع بنتی رہے۔ اس گفتگو کے برس دو برس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ عین  اُس زمانے میں، جب ہم یہ باتیں کر رہے تھے، حیدر آباد دکن کے مغنی تبسم صاحب اپنے رسالے ’’شعروحکمت‘‘  کا راشد نمبر مرتب کر رہے تھے مگر نہ تو راشد نے مجھے اس منصوبے میں شرکت کی دعوت دی اور نہ ’’شعر و حکمت‘‘ والوں کو لکھا کہ مجھ سے بھی لکھوایا جائے ۔ اور اس کے باوجود ان کی مہمان دوستی میں کوئی فرق نہ آنے پایا حالاں کہ میرے اُن کے میل ملاپ کی اردو فارسی ادب سے مشتر کہ دلچسپی  کے سوا کیا وجہ ہو سکتی تھی۔

    یوں اُس دن بہت کچھ کھایا پیا گیا کہ راشد کی ولایتی بیگم شیلا گھر پر موجود تھیں اور چھوٹی بیٹی تمزین بھی آئی ہوئی تھی ۔ کئی گھنٹوں کی نشست کے بعد البتہ راشد کی ایک بات نے حیرت زدہ کر کے رکھ دیا۔ پوچھنے لگے کہ آپ آئے ہوئے ہیں تو جدید ایرانی شاعروں کے مجموعہ ہائے کلام بھی خریدنا پسند کریں گے؟ میں نے کہا کہ ضرور بلکہ پچھلے چند دنوں میں کچھ مجموعے لے بھی چکا ہوں اور چار پانچ میرے ایک پرانے شاگرد، جو یہاں ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں، پچھلے سال وطن آتے ہوئے ساتھ لے آئے تھے، علاوہ چند ایک ناولوں اور افسانوی تنقیدی مجموعوں کے۔ کہنے لگے یہ بہت اچھی بات ہے کہ آپ کو ادب کی مختلف اصناف سے دلچسپی ہے، اس کو اور وسیع کرنا چاہیے مثلاً اس زمانے میں ڈراما لکھنے والے بہت اچھے جارہے ہیں خصوصاً گوہر مراد جو غلام حسین ساعدی کے نام سے ناول اور افسانے لکھتے ہیں اور ان کے علاوہ ابراہیم را دی ۔ ترجمہ بھی بہت اچھا ہو رہا ہے، ہمنگوے اور فا کنر کے مترجمین ابراہیم گلستاں اور بہمن شغلور نے کمال کر کے رکھ دیا ہے۔ انگریزی کے علاوہ یہاں فرانسیسی، روسی ، ترکی اور عربی زبانوں سے براہ راست ترجمہ کرنے والے بھی وافر تعداد میں موجود ہیں بلکہ میرا خیال ہے کہ آنے والی چند ایک دہائیوں میں مغرب کی بڑی زبانوں کی طرح فارسی بھی ترجمے کی زبان بن جائے گی جس میں دنیا بھر کا ادب اور فلسفہ دستیاب ہوگا، بس کمی ہے تو اردو سے ترجمہ کرنے والوں کی خصوصا ًجدید  ادب کے سلسلے میں ۔ چند ایک لوگوں نے انگریزی سے ترجمہ در ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس سے فاصلہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ میں آپ کو یہاں کی شاعری کے کچھ مجموعے دکھاتا ہوں جو اتفاق سے میرے پاس ڈپلیکیٹ ہو گئے ہیں ۔ اُن میں سے ایک ایک آپ لے لیجیے جو آپ کے پاس موجود نہ ہوں ۔ بات کی روانی میں ، ر کے بغیر ، یہ بھی کہہ گئے کہ میں آپ سے صرف آدھی قیمت لوں گا، چلیے اندر چل کے دیکھتے ہیں۔

    ذرا کی ذرا میں دم بخود ہو کے رہ گیا، لیکن پھر یہ سوچ کر چل پڑا کہ مجھے مزید مجموعے در کار تو ہوں گے ہی اور آدھی قیمت پر کیا برے ہیں۔ انہوں نے نیمایوشیج شاملو، فروغ اور اخوان کے کئی مجموعے دکھائے جن میں سے کچھ میرے پاس تھے، کچھ نہیں تھے ۔م آزاد، سہراب پہری، یدالله رویائی اور چند ایک دیگر شاعروں کا کلام میرے لیے نیا تھا مگر اُن کے نام راشد کے خطبے میں اور بعض اخباروں رسالوں میں دیکھ چکا تھا، اس لیے وہ بھی رکھ لیے۔ ایک نکتہ نوٹ کر کے البتہ خاصی تفریح  محسوس ہوئی کہ یہ وہ کتابیں تھیں جو راشد نے اپنے شوق سے خریدی تھیں اور بعد میں جب شاعروں سے ملاقات ہوئی تو ان کا ایک ایک نسخہ انہیں تحفۃً مل گیا۔ وہ چاہتے تو مجھے بھی فالتو نسخے تحفے میں دے سکتے تھے مگر ان کی زندگی کا کوئی اصول راستے کی رکاوٹ بن چکا تھا۔ اُوپر سے کاغذ پنسل لے کر فہرست اور قیمتوں کے گوشوارے بنائے، ان کی صحیح میزان کی اور پھر اسے دو پرتقسیم کر کے بتایا کہ بائیس کتابوں کے ایک سو دس تومان بنتے ہیں۔ اس زمانے میں تو مان کی کھلی قمت ہمارے روپے کے قریب تھی، میں نے رقم نکالتے ہوئے سوچا کہ اس سے زیادہ تو آج کھانے پینے پر خرچ ہو چکا ہو گا لیکن مجھے اُن کی کمینگی بہت اچھی لگی، ایک دیانتدارانہ قسم کی تجارت جس میں استحصال کا کوئی شائبہ نہ تھا۔ ہمارے دانشور دوست شاید اسے بہت برا سمجھیں مگر ان لوگوں کے عمل میں ایک آدھ نمائشی فیاضی کے بعد جو مفت خورا پن شروع ہوتا ہے تو پھر رکنے کا نام ہی نہیں لیتا ۔ عجیب تر بات یہ کہ راشد نے شیلا کو بُلا کر کہا کہ انہوں نے یہ کتا بیں لی ہیں اب اسے لے کر کیسے جائیں ۔ وہ لپک کر ایک پرانا میز پوش لے آئیں کہ پھر کبھی آنا ہو تو لوٹا دیکھے ورنہ اپنے کمرے میں کسی میز پر بچھا دیے، اتنا پُرانا بھی نہیں۔

    راشد جیسے با اصول آدمی دنیا میں بہت کم ہوں گے لیکن اس سے زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی اصول پسندی کو بڑی سہولت سے نبھا جاتے تھے۔ انہیں یہ کہنے کی ضرورت نہ پڑتی تھی کہ یہ میرا اصول ہے اور میں اس سے سر مو انحراف نہ کروں گا۔ اس کے علاوہ کہتے ہیں کہ وہ بڑے ضدی اور مغلوب الغضب آدمی تھے مگر میں نے انہیں اس حالت میں نہیں دیکھا، نہ گھر میں نہ دفتر میں ۔بعض اوقات میرے سامنے اُن کے خلاف ِمزاج کچھ ہوا بھی تو انہوں نے آرام سے صرف اتنا کہا کہ ایسے نہ کیجیے یا ایسے کر دیجیے۔

     یہ درست ہے کہ انہیں جذبات کی نمائش پسند نہ تھی، نہ اپنی جراحتوں کو بڑھا چڑھا کر ہمدردیاں وصول کرنے کا کوئی شوق تھا۔ اندر سے وہ کتنے بھی پژ مردہ کیوں نہ رہے ہوں اور دنیا سے کتنے بھی آزردہ خاطر کیوں نہ ہوں، اُن کے چہرے پر صبح سویرے سے لے کر رات کو دیر تک ایک ایسی تازگی اور توانائی چھائی رہتی تھی جو دوسروں کو بھی متاثر اور متحرک کر سکتی تھی ۔ اُن میں ایک افسرانہ ا کڑ اور ایک جابرانہ قسم کا جلال ضرور موجود تھا ، جس کے زیر ِاثر وہ کئی مرتبہ غلط فیصلے بھی کر بیٹھتے تھے لیکن وہ اپنے نتائجِ عمل بھگتنا بھی جانتے تھے اور اپنی بلا کو دوسروں کے سرنہیں ڈالتے تھے۔ ریڈیو میں اپنے ماتحتوں کے ساتھ بدسلوکی کا تذکرہ کئی ایک لکھنے والوں نے کیا ہے لیکن میں نے جس زمانے میں اُنہیں دیکھا، ان کو اپنے ساتھیوں سے اتنا شا کی نہیں پایا حالاں کہ اُن میں سے چند ایک اپنی کارکردگی اور معاملہ فہمی  کے لحاظ سے ہرگز اعتماد کے قابل نہیں تھے۔ گھر کی فضا میں بھی وہ تناؤ ابھی موجود نہ تھا جو ریٹائرمنٹ کے بعد لندن منتقل ہونے کے بعد بہت سے ملنے والوں کے تجربے یا مشاہدے میں آیا۔ ایران میں وہ بہت کام کرتے تھے، بے حد مصروف رہتے تھے ، چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں کے کالجوں سکولوں میں جا جا کر اقوام ِمتحدہ کی سرگرمیوں پر طلبہ کی اپنی زبان میں تقریر یں کرتے تھے اور اُن میں سے کئی ایک فرائض اُن کی اپنی ایجاد تھے جو اُن سے پہلے اور اُن کے بعد شاید ہی کوئی غیرملکی ڈائر یکٹر انجام دے سکا ہوگا ۔ عشق ، فرض اور ماحول کی یہ  سازگاری ممکن ہے زندگی میں اُن کو کسی دوسری جگہ اور پھر کبھی حاصل نہ ہوئی ہو۔ اور کمال کی بات یہ ہے کہ جملہ مصروفیات کے باوجود لکھنے پڑھنے کے لحاظ سے بھی اُن کی حیاتِ ادب کا یہ دور نہایت بارآور ثابت ہوا۔

    فطری طور پر وہ چاہتے تھے کہ بقیہ زندگی بھی وہ کسی نہ کسی بہانے تہران ہی میں بسر کریں لیکن اُس کی بہترین صورت، دانش گاہِ تہران میں مطالعہِ پاکستان پڑھانے کی ماموریت، ہمارے اپنے سفارت خانے کی تائید حاصل نہ کرسکی حالاں کہ پورے پاکستان میں کوئی بھی شخص اس کام کے لیے اُن سے زیادہ موزوں نہ تھا۔ نتیجہ یہ کہ جس دن وہ اقوامِ متحدہ سے کئی برس کی توسیع کے بعد بالآخر ریٹائر ہوئے تو اگلے دن ہی لندن منتقل ہو گئے ۔ اس لیے کہ شیلا پاکستان میں آباد ہونے کو تیار نہ تھیں اور اب اُن میں جدائی کا حوصلہ باقی نہ تھا۔ یہ مرحلہ میری وطن واپسی کے برسوں بعد پیش آیا مگر لگتا ہے کہ تہران میں اُن کی زندگی کے نشے کا اُتاراسی طرح ممکن تھا۔

    ایک دن اُن سے کہا کہ یہاں کے ادیبوں شاعروں سے مل کر یہیں کے کسی انگریزی اخبار میں کالم نگاری کا ارادہ ہے لیکن کوئی رابطہ درکار ہے۔ کہنے لگے: کوئی مسئلہ نہیں، اگلے ہفتے یو این او کے ایک اُردنی افسر اعلیٰ ایک آدھ دن کے لیے یہاں رکنے والے ہیں ۔ اُن کی آمد پر میرے گھر میں ایک کاک ٹیل پارٹی ہو گی جس میں اور لوگوں کے علاوہ ’’تہران ژورنال ‘‘کے ایڈیٹر مسٹر براؤن بھی مدعو ہوں گے۔ آپ بھی آ جائیے، ذراشغل رہے گا اور اُن سے تعارف بھی ہو جائے گا۔ مسٹر براؤن نے کسی دن دفتر آکر تجویز پرمفصل گفتگو کے لیے کہا۔ بہرحال آزمائش کے طور پر پہلی تحریر کے لیے احمد شاملو کو موضوع بنانا طے ہوا۔ شاملو کے یہاں راشد خود مجھے ساتھ لے کر گئے اور انٹرویو کا پروگرام تیار کیا۔ انٹرویو کے دوران شاملو نے بہت عمده باتیں کیں اور اقبال کے فارسی کلام کی خاصی تعریف کی۔ میرے مسودے میں البتہ اس تعریف کا صرف ایک فقرہ شامل تھا کہ برطانوی نژاد ایڈ یٹوریل  سٹاف کو گراں نہ گزرے لیکن چھنے پر معلوم ہوا کہ میں ایک فقرہ کٹ گیا۔ جگہ بچانا مقصود ہوتا تو دوسرےمقامات سے بہت کچھ کم ہو سکتا تھا۔ اُن دنوں راشد تہران سے باہر کہیں دورے پر نکلے ہوئے تھے چناں چہ سیدھے ہی جاکر ایڈیٹر سے فریاد کی تو انہوں نے ایک صاحبزادی کے سپرد کر دیا۔ اُس نے کہا کہ پالیسی کا معاملہ ہے، مسٹر براؤن سے بات کیجیے۔ پوچھا کہ یہ کیسی پالیسی ہے؟ کہنے لگیں کہ آپ کو ایران کے شاعروں کی پروجیکشن کے لیے کام دیا تھا نہ کہ پاکستانی شاعروں کا پراپیگنڈا کرنے کےلیے۔ بات کچھ  بڑھی تو مسٹر براؤن نے فیصلہ سنا دیا کہ بس اتنا ہی، آئندہ زحمت نہ کیجیے۔ راشد نے واپسی پر بتایا کہ مسٹر براؤن ان سے الٹی شکایت کر چکے ہیں کہ کیسے fussy آدمی کو ہمارے پاس بھیج دیا۔ تفصیل بتائی تو کہنے لگے گولی ماروان گوروں کو، ابھی تک راج کے لیے آہیں بھرتے پھرتے ہیں، خیر دیکھو کچھ اور سوچیں گے۔

    بعد میں یہی انٹرویو قلم زدہ فقرے کی بحالی کے ساتھ فارسی کے ہفت روزہ ’’فردوسی‘‘ میں معروف نقاد عبدالعلی دستغیب کے تر جمے کی شکل میں شائع ہوا تو راشد نے پسند کیا لیکن ایک دلچسپ بات انہوں نے یہ کہی کہ میں جدید ایرانی شاعروں پر کام کر رہا ہوں، آپ کے لیے مناسب ہے کہ فکشن اور تنقید لکھنے والوں پر توجہ کریں تا کہ دونوں کے میدان الگ الگ رہیں اور کام بھی زیادہ ہو جائے۔ میں نے وعدہ کیا کہ ایسے ہی ہو گا اور اس میں کوئی قباحت بھی نہ تھی کہ دوسرا کوئی انگریزی اخبار ان چیزوں کا طلب گار ہی نہ تھا۔

    چند ہفتوں کے بعد ’’فردوسی‘‘ ہی کے ایک شمارے میں راشد کا ایک انٹرویو شائع ہوا جس میں انہوں نے جدید اردو ادب پر گفتگو کرتے ہوے فیض کے بارے میں ایک ایسا لہجہ اختیار کیا تھا جو راشد کے شایانِ شان نہیں تھا (فقرہ تھا کہ آج فیض مر جائے تو جدید اردو شاعری کے نمو میں کوئی فرق نہیں پڑے گا) ۔ میں نے ڈرتے ڈرتے شکایت کی تو کہا کہ تم نے ٹھیک نشاندہی کی، اصل میں غلطی  رپورٹر کی ہے۔ میں نے تو اتنا کہا تھا کہ جدید اردو شاعری کے تکنیکی نمو میں فیض کو جو کچھ دینا تھا بہت پہلے دے چکے ہیں، اب اُن سے کسی نئے اجتہاد کی توقع بیکار ہو گی ۔ کیوں تمہارا کیا خیال ہے؟ عرض کیا کہ مستقبل کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے ،ممکن ہے وہ خود ہی کوئی نئی کروٹ لے لیں۔ کہنے لگے: ہاں اصولی طور پر تم صحیح  کہتے ہو مگر عملی سطح پر مجھے کوئی توقع نہیں ۔ میں اسے جانتا ہوں، سخت کاہل آدمی ہے۔

    میں کہنے کو تھا کہ بڑے بڑے کا ہل آدمی بھی کسی وقت بیدار ہو جاتے ہیں لیکن مارے ادب کے خاموش رہا۔ ہاتھیوں کی لڑائی میں بے چارے مینڈک ہی مارے جاتے ہیں ۔ لیکن شخصی سطح پر راشد کو ایک فوقیت حاصل تھی کہ وہ اپنے ساتھ مذاق سے بھی محظوظ ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتے تھے اور خود انہیں کوئی شائستہ جواب سوجھ جاتا تو اُدھار بھی نہیں کرتےتھے۔ اس کے برعکس فیض ہر قسم کی چھیڑ چھاڑ کو، چاہے وہ کتنی بھی نفاست سے کیوں نہ کی گئی ہو، دل میں گرہ بنا کر رکھ لیتے تھے۔ راشد اپنے بڑ بولے پن میں بولتے چلے جاتے تھے لیکن وہ جانتے تھے کہ کہاں دوسروں کی بات سن کر اُس سے لطف اندوز ہونا بہتر ہو گا ۔ فیض سب کچھ   پی جاتے تھے اور یہ ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے کہ کون سی بات ناگوار ِخاطر محسوس ہوئی اور کون سی قدرے مزیدار لگی۔

    ایک دن راشد نے پوچھا کہ منیر نیازی نے اپنے ادارے ’’المثال‘‘ سے جو اُن کی تین کتابیں شائع کی ہیں، ان کی فروخت کیسی جا رہی ہے؟ انہیں بتایا کہ ایک دن جب میں نے خود منیر سے شکایت کی کہ تمہاری چھپائی ہوئی راشد کی کتابیں بک سٹالوں پر کیوں نظر نہیں آتیں تو اس نے بڑے فخر سے اعلان کیا کہ میں اُنہیں Rare Books بنا دوں گا۔ راشد نے کہا کہ یہ کیا احمقانہ بات کر دی اُس نے۔ میں نے کہا کہ مارے کا ہلی کے وہ کسی کتاب فروش کے پاس نہیں جاتا نہ کسی سے آرڈر لیتا ہے اور نہ اپنے آپ آئے ہوئے آرڈر سپلائی کرنے کا انتظام کرتا ہے۔ بس یہی خواب دیکھتا ہے کہ بہت سی دولت ایک دم کہیں سے آجائے ۔ اس نے کہیں سے سن لیا ہے کہ نایاب کتا بیں بہت مہنگے داموں بکتی ہیں مگر یہ اسے کسی نے نہیں بتایا کہ نئی کتابوں کے پورے پورے ایڈیشنوں کو نایاب نہیں بنایا جا سکتا۔ کہا کہ اچھا میں کسی کو لکھتا ہوں اُن کی تقسیم کا بھی انتظام کرے ورنہ ایسے تو پڑی پڑی گل جائیں گی ۔ لیکن یہ انتظام بھی بہت دیر تک نہ ہو سکا تو راشد نے خود لاہور آ کر انہیں ٹھکانے لگایا۔ اس سوال پر کہ پھر وہ چھپ کیسے گئیں؟ انہوں نے صیغہِ راز میں دو ایک باتیں بتائیں جو اتنا عرصہ گزرنے کے بعد ڈی کلاسیفائی ہو جانی چاہئیں لیکن یارِ عزیز کا کچھ پتا نہیں کسی دن بیدار ہی ہو نہ جائے۔

    راشد سے میری پہلی ملاقات کب ہوئی، یہ بات اب آخر میں بتانے کی ہے کہ میں کسی بھی پسند یدہ آدی سے پہلی مرتبہ ملوں تو یہ لمحہ یادوں کی سکرین پر سالہا سال تک روشن رہتا ہے لیکن اب حافظہ خراب ہو چکا ہے اور پتا نہیں راشد سے پہلی بار کب ملنا ہوا تھا؟ پشاور میں احمد فراز کے ساتھ؟ کراچی میں سحاب قزلباش کے ساتھ کتاب محل میں؟ جواب معدوم ہو چکا ہے۔ نہیں نہیں، ان دونوں سے پہلے نیو ہوسٹل میں صوفی تبسم کے وارڈن آفس کے آگے سےگزرتے ہوئے جب صوفی صاحب نے آواز دے کر بلا یا تھا کہ آؤ راشد صاحب سے ملو اور میرا تعارف یوں کرایا تھا کہ ففتھ ایئر میں انگریزی پڑھتا ہے اور ہندی بھا شا میں دو ہے لکھتا ہے۔ کہنے لگے: سناؤ۔ ان ہی دنوں میں نے چھ سات دوہے جوئے بازوں کی زبان میں جوئے ہی کے استعارے برت کے لکھے تھے، وہی سنانے بیٹھ گیا۔ ایک مصرعے پررک گئے:

    پھڑ بازوں کو لوٹنے ، نئے کھلاڑی آئے

     پوچھنے لگے کہ ’’پھڑ باز؟‘‘ کون ہوتے ہیں؟ صوفی صاحب نے کہا: پھڑیں مارنے والے، شیخی خورے۔ راشد نے کہا: نہیں صوفی صاحب، آپ نے تو اپنی ساری زندگی کبھی کوئی جو انہیں کھیلا۔ تم بتاؤ میاں! عرض کیا کہ ’’پھڑ‘‘ جوئے بازی کے اڈے کو کہتے ہیں اور ’’پھڑ باز‘‘ ان کے چلانے والوں کو۔ جب روز مرہ کے جواری کسی نو وارد سے باری باری ہار چکتے ہیں توآخر میں پھڑ باز میدان میں اُتر آتے ہیں تا کہ اپنے تجربے اور چال بازیوں کی مدد سے ہارا ہوا مال واپسں جیت سکیں ۔ لیکن اب جو نئے کھلاڑی آئے ہیں وہ ایسے ہوشیار ہیں کہ پھڑ بازوں کو بھی لوٹ لے جائیں۔ کہنے لگے : مفہوم تو بہت اچھا ہے اور صوفی صاحب جیسے پھڑ بازوں کے لیے، چاہے وہ پھڑیں مارتے ہوں یا ہوسٹل چلاتے ہوں، ایک نیا چیلنج لے کے آتا ہے لیکن لفظ ساتھ نہیں دے رہے کہ پھڑ بازوں کا مفہوم پھڑ جمانے اور پھڑ چلانے والے نہیں ہوتا، یہ تو سب قمار بازوں کے لیے استعمال ہوتا تھا، چاہے کوئی پرانی ڈکشنری دیکھ لیجیے۔ یہ وہی gamblers اور den-keepers کا فرق ہے جو آڈن کی ایک نظم میں بھی آتا ہے۔

     عرض کیا کہ شعر کہنے والوں کو لغت کے معنوں میں تصرف کی اجازت نہیں کیا؟ کہا کہ ہوتی ہے مگر پہلے کوئی ’’پھڑ‘‘ کو تو جانے کیا چیزتھی اور کس کام آتی تھی؟ اب تمہارے استاد تک تو تمہاری بات سمجھتے نہیں، کوئی اور کہاں سمجھے گا۔ در اصل پرانی زبان لکھنے میں یہی قباحت ہے کہ آپ نے زور تو بہت مارا لیکن سمجھنے والے تو قبرستانوں میں اور شمشان بھومیوں میں گل سڑ چکے۔ پھر بھی ابھی کچھ نہیں گیا، اسے ذرا بل لو بلکہ ہو سکے تو آج کی زبان میں لکھو کہ بات تو نئے زمانے کی ہے۔

    مجھے پھر فیض صاحب یاد آئے جنہوں نے اس اصغر سلیم کی زبانی جیل سے پیغام بھجوایا تھا کہ مظفر سے کہو، موچیوں کی زبان میں لکھنا چھوڑ دے۔ ان دونوں بزرگوں کے مزاج میں کتنا فرق تھا؟ فیض صاحب نے اپنے طبقاتی شعور کے باوجود نچلے طبقے کی زبان کو حقارت سے دیکھا حالاں کہ وہ پرانی ادبی زبان کی باقیات تھی۔ راشد کو باقیات سے کوئی سروکار نہ تھا، نہ موچیوں نائیوں سے کوئی نفرت، وہ تو اس سوال پر غور و فکر کی دعوت دیتے تھے کہ اس زبان کو اب کون پڑھتا ہے اور کون سمجھتا ہے اور آپ اس میں تصرف سے کام لیں تو بات پھر بھی پلے پڑے گی کہ نہیں ۔ بہر حال وہ مصرعہ مجھ سے مدت تک نہ بدلا گیا اور نہ دوہوں کا وہ سلسلہ شائع کرنے کو تیار ہو سکا بلکہ کچھ دیر کے بعد دو ہا نویسی بھی طاق پہ دھری رہ گئی۔ حیرت کی بات ہےکہ جدید شاعری کے ایک اُستاد نے قدیم زبان اور ایک بھولی بسری صنف ِسخن کے بارے میں کیسی کیسی کام کی باتیں بتائیں ۔ میں نے سوچا کہ آخر ہمارے استاد ایسے کیوں نہیں ہوتے؟

    اتنے میں صوفی صاحب نے کہا: چلیے۔ اوپر چلتے ہیں وہاں کچھ کھانے پینے کو بھی مل جائے گا اور ضروری کام بھی ہو جائے گا۔ ہاں تم بھی چلو میاں، تم سے بھی کچھ کام لینا ہے، خواہ مخواہ فارسیاں بھگارتے پھرتے ہو۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بتایا کہ ایرانی پروفیسر آقای سعید نفیسی، جو علی گڑھ میں پڑھاتے ہیں، کل ہمارے کالج میں آنے والے ہیں ۔ راشد اپنی تقریرلکھیں گے اور عبدالمجید سالک صاحب کی تقریر کا ڈرافٹ بنائیں گے۔ اتنے میں تم میرے خطبہِ استقبالیہ کا ڈرافٹ تیار کردو جسے راشد دیکھ لیں گے۔ پوچھا کہ صوفی صاحب، آپ کیا کریں گے؟ کہنے لگے: نطق نگاروں کی خاطر تواضع، تقر یرنویسوں کے لیے یہ ایرانی اصطلاح ابھی راشد نے بتائی ہے۔

    میرا ڈرافٹ تو خیر کیا ہوتا مگر راشد نے ادھر ادھر سے دو چار لفظ بدل کر اور ایک آدھ فقره بڑھا کر اُس میں جیسے جان ڈال دی جو بعد میں صوفی صاحب نے اپنے دیسی تلفظ کی مددسے دوبارہ نکال کے رکھ دی۔ سالک صاحب کی تقریر میں فوں فاں تو بہت تھی لیکن مغز بہت کم تھا اور راشد کی نطق زنی، ان کی نطق نگاری کی طرح، ایسی تھی کہ باید و شاید۔ فارسی میں اس پائے کی بے تکلف تقریر پھر کسی پاکستانی ہندوستانی سےنہ سنی ۔ وزیرالحسن عابدی سے بھی نہیں جن کے پاس محاورہ تو موجود تھا لیکن محاورے کی جیتی جاگتی تڑپ کچھ کم تھی۔ یہ سوچ کر دکھ ہوتا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی بھی، جو راشد کو سینئر اساتذہ منتخب کرنے والے بورڈ کا رکن تو بناسکتی ہے۔انہیں پروفیسر شپ نہیں دے سکتی کہ ان کے پاس مطلوبہ کاغذی اسناد موجود نہیں ۔ سو اب ہماری تعلیم میں کاغذ کھڑ کھڑاتے ہیں اور سچ مچ پڑھانے کی اہلیت رکھنے والے وطن سے باہر جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں ۔

    پاکستان میں آباد ہو کر لکھنے پڑھنے کا شغل ہمہ وقت بنیادوں پر جاری رکھنے کا منصوبہ بھی دھرا رہ گیا کہ یہاں لکھنے والا تو فلسطینی ہے اور چھاپنے والے اسرائیلی ۔ زندگی میں ایک مرتبہ انہوں نے اپنی فوجی وردی سے کام لے کر ایک ناشر کے یہاں پولیس کا چھاپہ پڑوا دیا تھا اور مادرا‘‘ کے غیر مصدقہ نئے ایڈیشن کی رائلٹی وصول کی تھی۔ اُس وقت ادبی کتابوں کی اشاعت کا اجارہ ایک چودھری فیملی کے پاس تھا جن کے کم از کم پانچ مکتبے چل رہے تھے۔ چناں چہ راشد کی کوئی بھی دوسری کتاب اُن میں سے کسی چودھری نے کبھی شائع نہیں کی ۔ ایسے میں کوئی بھی قلم کار لکھ پڑھ کے دال روٹی کھانا تو کجا چائے پانی بھی نہیں پی سکتا۔ راشد یہاں آباد ہو کر وہی کچھ کرنے پر مجبور ہوتے جو ہمیں آپ کو کرنا پڑتا ہے لیکن اُن کی خوددار طبیعت نے اسے گوارا نہ کیا۔

    ایران میں مفصل ملاقاتوں سے پہلے اور بعد میں وہ کئی بار وطن آئے لیکن ہر بار کسی دوسرے سیارے کی مخلوق معلوم ہوئے یا زہرہ کی نہیں تو مریخ کی کوئی ماورائی شخصیت جو ہماری آپ کی دسترس سے بہت دور کسی انجائی دنیا میں رہتی ہے۔ پھر بھی وطن اور احوالِ وطن کی کیفیت ہمیشہ اُن کے پیش نظر رہی لیکن وہ اس کے آر پار دیکھنے کی کوشش بھی کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے اپنی تہذیبی روایت اور تاریخ کے ماورا جانے کا ایک راستہ نکال ہی لیا۔ آخر تدفین کا رواج تاریخ میں شامل رہنے کی ایک صورت ہی تو ہے۔ پھر بھی انہیں معلوم تھا کہ ادب کی تاریخ  انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔ شاید یہ شعر ان کے کانوں میں گونجتا رہا:

    بعد از وفات ، تربت ما در زمیں مجو

    در سینہ  ہای مردم ِعارف مزارِ ماست

    ( حلقہ ارباب ِذوق، لا ہور: ۲۳ مارچ ۱۹۹۷ ءکو جسٹس ریٹائرڈ عطاء الله سجاد کی صدارت میں پڑھا گیا)