خواجہ منظور حسین: خدمتگہِ اُستاد میں
خواجہ منظور حسین: خدمتگہِ اُستاد میں
یک چند بخدمتگہِ استاد شدیم
یک چند باُستادیِ خود شاد شدیم
پایانِ سخن ببیں کہ مارا چہ رسید
چوں خاک برآمدیم و چوں باد شدیم
عمر خیام
کچھ دیر نیاز مندِ اُستاد ہوے
کچھ دیر اُستاد بن کے دلشاد ہوے
آخر میں یہ دیکھ، ہم پہ کیسی بیتی
مٹی کی طرح بکھر کے برباد ہوے
ستمبر 48 ء کے آخری ہفتے میں گورنمنٹ کالج ، لاہور کی تھرڈ ایئر کلاس کے ساتھ، جس میں یہ خاکسار داخل ہوا تھا، ایک نئے تعلیمی تجربے کا آغاز کیا گیا۔ اختیاری مضامین کے تین مختلف گروپ۔ سائنس، آرٹس او رفزکس اے کورس۔ لینے والے طلبہ کی فہرست میں سے دس دس اوپر کے نام منتخب کرکے انگریزی زبان و ادب کی تدریس کے لیے ایک خصوصی سیکشن بنایا گیا جسے پڑھانے کے لیے شعبے کے چار سینئر اساتذہ مامور ہوئے، جن میں خود پرنسپل پطرس بخاری بھی شامل تھے۔ انہوں نے غیر نصابی بول چال یعنی سپوکن انگلشن کی تربیت اپنے ذمے لی تھی لیکن وہ بیرونِ ملک مصروفیات کے درمیان بہت کم اس کا موقع نکال پائے اور بالآخر اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب ہو کر چلے گئے۔ دوسرے اساتذہ میں صدرِ شعبہ پروفیسر سراج الدین اور ڈاکٹر محمد صادق کی معروف شخصیات میں شمار ہوتے تھے لیکن چوتھے بزرگوار، جن کا نام خواجہ منظور حسین بتایا گیا، کہیں باہر سے آئے تھے۔ ان کی زیارت کلاس روم ہی میں جا کر ہوئی۔ معلوم ہوا کہ انگریزی شاعری پڑھائیں گے اور وہ بھی چوڑی دار پیجامے پر بند گلے کی شیروانی پہن کر۔ اپنے بارے میں بس اتنا بتایا کہ علی گڑھ سے آئے ہیں لیکن لاہور ان کے لیے نیا نہیں کہ دس بارہ برس پہلے جب وہ آکسفرڈ سے فارغ ہوئے تھے تو ایک آدھ سیشن یہاں پڑھانے کے بعد علی گڑھ لوٹ گئے تھے۔
باقی کلاس نے تو معلوم نہیں کیا سوچا ہو گا لیکن مجھے یہ محسوس ہو ا جیسے کوئی یریدینہ آرزو پوری ہونے والی ہو۔ والد کا خیال تھا کہ سنٹرل ماڈل سے میٹرک کے بعد علی گڑھ جا کے پڑھوں لیکن جب یہ مرحلہ آیا تو آس پاس کے حالات دگرگوں ہو چکے تھے۔ چلیے اب تو علی گڑھ خود ہمارے پاس آگیا۔ لیکن وہ علی گڑھ کی قطع کا پیجامہ کیوں نہیں پہنتے؟ بعد میں معلوم ہوا کہ اصل میں دہلی وال ہیں۔ اس وقت انہوں نے مختصر تعارف کو کافی سمجھا اور کتاب کھول کر ملٹن کے اس سانیٹ سے، جو اس نے اپنی بینائی کھونے پر لکھا تھا، پہلے سبق کا آغاز کر دیا
بتایا کہ یہ شاعر پیدائشی نابینا نہیں تھا بلکہ چالیس ایک برس کی عمر تک خاصا دانا و بینا آدمی تھا، ایک نہایت فعال سیاسی انقلابی کارکن، کرامویل کا ساتھی اور پیورٹین تحریک کا پرجوش مبلغ۔ شاعری کے علاوہ، آزادیِ اظہار پر اس کا خطبہ اور چند ایک نثری تحریریں بھی ’’کلاسیکی سرمائے‘‘ میں شامل ہیں۔ شاعری میں اس کا بڑا کارنامہ ایک طویل مذہبی رزمیہ ’’پیراڈائز لاسٹ‘‘ ہے اور ایک شعری ڈراما جو بائبل کے قدیم عہد نامے میں مذکور شمعون پیغمبرکے بارے میں ہے جنہیں انگریزی میں سیمسن کہا جاتا ہے اور جن کی آنکھیں زائل کر دی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ شاعر کی چند ایک چھوٹی بڑی نظمیں بھی ، جن میں اس کے سانیٹ بھی شامل ہیں، اس کے کمالات میں شامل ہیں۔ انگریزی شاعری میں اس کا نام شیکسپیئر کے فوراً بعد لیا جاتا ہے بلکہ ایک زمانے میں تو اسے سب سے فائق سمجھا جاتا تھا۔
اس وقت ہمارا سروکار اس زمانے سے ہے جب اس کی بینائی تازہ تازہ زائل ہوئی تھی۔تب اس نے اپنی محرومی کو کس کس زاویے سے دیکھا اور اس سوچ بچار نے اس کی تخلیقی سرگرمیوں پر کیسا اثر ڈالا، یہ ہمیں دیکھنا ہو گا۔پروفیسر صاحب کی نظریں ہوا میں کسی نقطے پر ٹھہر گئی تھیں اور یوں لگتا تھا جیسے خود ملٹن کھڑا ہو۔ شیروانی وغیرہ سے قطع نظر شاید وہ یہ سانیٹ لکھتے وقت انہیں کا ہم عمر رہا ہو گا۔
یکایک ذوالفقار اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ ہمارا ہوسٹل کا ساتھی تھا اور کلاس میں ہمہ وقت نوٹس لینے میں مصروف رہتا تھا۔ معلوم نہیں اسے کیا ہوا کہ پوری سنجیدگی سے پوچھنے لگا: سر، اگر میں اندھا ہو جاؤں تو کیا میں ملٹن بن جاؤں گا؟ ایک دم پروفیسر صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا لیکن ذرا تامل کے بعد انہوں نے بس اتنا جواب دیا:
it’s neither impossible, nor necessary
(یہ ناممکن تو نہیں لیکن ضروری بھی نہیں)
باقی طلبہ محفوظ ہوے لیکن ذوالفقار کا جیسے دل ٹوٹ گیا۔ نہایت محنتی اور قابل لڑکا تھا لیکن جلدی سے یونیورسٹی بھر میں اول آنے اور ڈاکٹر عبدالسلام کا ریکارڈ برابر کرنے کا جنون اسے پریشان رکھتا تھا۔ امتحان کا وقت آیا تو ریاضی کے پہلے پرچے میں پانچ نمبر کا سوال غلط ہونے پر اس نے شاہدہ جا کر چلتی ٹرین کے نیچے سر رکھ دیا۔
ادھر کلاس روم میں سانیٹ کی خواندگی کے دوران الفاظ و تراکیب کی تشریح اور ان کی مجموعی تعبیر کے بعد ملٹن کی خصوصیت محسوس ہوئی۔ یکایک کسی نے اردو کا مشہور مصرع پڑھ دیا:
اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی
پروفیسر صاحب مسکرائے: ہاں اردو کا مقبول ِ عام شاعر جرأت بھی اپنی بینائی کھو بیٹھا تھا:
رونا آتا ہے، ہمیں رونے پہ اپنے، یارو
یاں تلک روئے کہ آنکھوں کو بھی رو بیٹھے ہم
لیکن اس نے تلافی کی خاطر، اپنی یادوں اور خوابوں کی دنیا بسا لی۔ دنیا بھر کی شاعری میں بہت سے ممتاز نابینا شاعر ہوئے ہیں: یونانی کا ہومر، عربی کا معری اور فارسی کا رود کی۔ لیکن اپنی معذوری پر ہر ایک کا رویہ مختلف ہے۔ ملٹن کے اس سانیٹ پر توجہ مرکوز کریں تو معلوم ہوتا ہے انسانی آرزو اور انسانی تقدیر کا تصادم درپیش ہے اور یہ کوشش کہ اس تصادم سے کیوں کر اوپر اٹھا جائے۔
ذوالفقار کے علاوہ بھی کلاس میں ہر طرح کے سر پھرے موجود تھے۔ سعید اختر درانی، ادب اور فزکس کے درمیان معلق تھے لیکن جلد پطرس کے بے نیازی نے انہیں سائنس کی طرف دھکیل دیا جہاں بعد میں انہوں نے متعدد بین الاقوامی امتیازات حاصل کیے، اگرچہ ادب کا چسکا پھر بھی نہیں چھوٹا۔ لئیق بابری سائنس کے آدمی تھے لیکن بالآخر فرانسیسی زبان و ادب میں تخصص کے درجے تک پہنچے اور اب بلھے شاہ کے فرانسیسی ترجمے اور اپنے پنجابی کلام کی وجہ سے معروف ہیں۔
اس تجرباتی کلاس کا مقصد یہ تھا کہ انگریزی زبان و ادب کی تدریس نئی بنیادوں پر منظم ہو اور طلبہ بی اے کے بعد ایم اے انگریزی کی کلاس میں پہلے سے زیادہ داخلہ لیں۔ اولیں مقصود تو شاید کسی حد تک حاصل ہوا ہو لیکن یہ عجب اتفاق ہوا کہ اس خاکسار کے سوا، جس کی انگریزی تقریر و تحریر اپنے ہم درسوں کے مقابلے میں خاصی کمزور تھی، کسی دوسرے ساتھی نے ایم اے انگریزی کی طرف رغبت محسوس نہ کی۔ اس وقت میلان فارسی کی طرف تھا لیکن اتنا اندازہ تھا کہ تنقید کا مشغلہ اختیار کرنے کے لیے انگریزی ادب کا تفصیلی مطالعہ لازم ہو گا۔ بی اے میں آنرز تو صوفی صاحب کے ارشاد پر فارسی میں رہی لیکن جو ذہنی کشادگی کا احساس خواجہ منظور صاحب کی کلاس میں ہونے لگا، اس نے آہستہ آہستہ طبیعت کے میلان ہی کو نہیں ، ساری زندگی کے سانچے کو بدل کر رکھ دیا۔ لیکن یہ سب کچھ اتنے سہج سجھاؤ سے ہوا کہ خاصی دیر میں جا کر شعور کی منزل تک پہنچا۔
تاہم شروع میں ایک زبردست دھچکا بھی لگا۔ خواجہ صاحب نے پہلے ماہانہ امتحان کے طور پر بائرن کی شاعری پر ایک تحریر لکھوائی۔ جب یہ جانچنے کے بعد واپس ملی تو ماتھا ٹھنکا کہ دس میں سے صفر کی مستحق قرار پائی تھی۔ جا بجا سطروں کے نیچے لکیریں اور حاشیے میں سوالیہ نشان لگے تھے۔ اپنی تحریر کو دوبارہ غور سے پڑھا تو معلوم ہوا کہ تنقیدی اصلاحات کی بھرمار میں نہ فقروں کی ساخت درست تھی اور نہ کوئی منطقی رابطہ موجود تھا۔ دوسرے لفظوں میں تحصیلِ زبان کا معیار، مطالعہِ ادب کے شوق سے بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ اپنی تعلیمی زندگی میں پہلی بار محسوس ہوا کہ کمزور بنیاد پر کوئی بڑی عمارت کھڑی نہیں رہ سکتی۔ یہ انا کا سوال نہیں تھا کہ اپنے آپ کو مظلوم سمجھ کر دل گرفتہ ہوا جائے۔ تعلیم و تربیت کا مسئلہ، سمجھ کر پڑھنے اور سوچ کر لکھنے کا تھا جس کی اشد ضرورت کا احساس دلایا گیا تھا۔ بجلی کا ایک جھٹکا سا تولگا لیکن اس کے بعد آہستہ آہستہ زبان سیکھنے کی طرف توجہ مبذول ہوئی جس کے بغیر شوقِ ادب ہوس بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ دلچسپ بات ذرا بعد میں معلوم ہوئی کہ خواجہ صاحب نے پرچہ دیکھا تو انہیں حیرانی ہوئی کہ یہ لڑکا، جو کلاس میں خاصی دلچسپی لیتا ہوا پایا جاتا ہے، انگریز ی لکھنے میں اتنا لڑکھڑاتا ہے۔ مناسب فیصلہ کرنے سے پہلے انہوں نے ڈاکٹر صاحب سے مشورہ کیا جنہوں نے بطورِ علاجِ برقی صفر نمبر دینا تجویز کیا۔ ساتھیوں میں اس پر بڑی چہ میگوئیاں ہوئیں اور خواجہ صاحب کی سخت گیری کے خلاف ایک ردعمل سا پرورش پانے لگا۔ ایک ہم درس، جن کا اصل نام تو اب یاد نہیں، سب انہیں کامریڈ کہہ کر پکارتے تھے کہ وہ طلبہ کے حقوق اور ان کے حصول کی خاطر ٹریڈ یونین کے طریق کار کی تبلیغ کیا کرتے تھے، انہوں نے باقاعدہ ایجی ٹیشن منظم کرنے کی پیشکش کی۔ انہیں اتنی سختی سے منع کرنا پڑا کہ ان کی طرف سے دہشت گرد کا لقب عطا ہوا جسے قبول کرنے میں کوئی قباحت نظر نہیں آئی۔ تاہم اس موقع پر خواجہ صاحب کا اندازِ تدریس طلبہ کی تنقید کا ہدف بنا۔ کسی نے کہا کہ بھلا کوئی شیروانی پہن کر بھی انگریزی پڑھا سکتا ہے، گویا سوٹ پہن لے تو انگریزی گھر کی لونڈی ہو جائے گی۔ کسی نے کہا، بولنےکی رفتار بہت سست ہے۔ یہاں ذوالفقار نے بڑی مدد کی کہ ادب پڑھانے کے لیے دھواں دھار تقریر کی بجائے سوچ سمجھ کر بولنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ سننے والے چاہیں تو آسانی سے نوٹ لے سکیں۔ واقعی وہ بڑی تفصیل سے نوٹ لیتا تھا اور بعد میں انہیں دوبارہ فیئر بھی کرتا تھا جسے پڑھتے ہوئے لگتا تھا جیسے کوئی بے حد مربوط اور مدلل مقالہ ہو۔ بس اتنا تھا کہ اپنے کمرے سے باہر کوئی کاغذ نہ لے جانے دیتا تھا۔ یونیورسٹی میں اول آنے کا مراق نہ ہوتا تو آج مجھ سے کہیں بہتر اور مفصل باتیں بتا سکتا۔ اپنے ساتھیوں میں ایک وہی تھا جو آنے والے دور میں رفاقت کا حق ادا کر سکتا تھا مگر اس نے راستے میں ہی ساتھ چھوڑ دیا جس کا قلق اب تک قائم ہے۔
خواجہ صاحب کے بارے میں چند ایک ذاتی معلومات قدرے دیر سے حاصل ہوئیں ۔ ایک بار پوچھا کہ دہلی میں آپ کہاں رہتے تھے؟ چمک کر کہنے لگے : ” ہماری گلی کا رہنے والا ہوں ۔‘‘یعنی کو چہ پنڈت جس پر احمد علی نے اپنا بے نظیر افسانہ ’’ہماری گلی‘‘، لکھ کر اسے کرشن چندر کی ’’دو فرلانگ لمبی سڑک ‘‘کی طرح لا زوال بنا دیا ۔ خلیل الرحمٰن اعظمی کی ایک تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ اشرف صبوحی کی ’’دلی کی چند عجیب ہستیاں ‘‘میں جن خوجم صاحب کا خاکہ شامل ہے، وہ خواجہ صاحب کے بزرگوں میں تھے۔ والد ان کے کسی ریاست میں کوئی اونچی ملازمت کر کے پھر دہلی نشین ہوے تھے اور اپنی واحد اولاد ِنرینہ کی اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی لیکن خواجہ صاحب کو ان کے بارے میں کوئی سوال جواب پسند نہیں تھا۔ شاید کہیں کوئی گرہ تھی جسے کھولنا مستحسن نہیں تھا۔
شادی علی گڑھ میں پروفیسر ایم ایم شریف صدر شعبہِ فلسفہ کی بڑی صاحبزادی سے ہوئی ۔ شریف صاحب باغبان پورہ لاہور کی میاں فیملی سے تھے اور ان کی دوسری صاحبزادی ’’پاکستان ٹائمز‘‘کے مالک اور ممتاز leftist لیڈر میاں افتخار الدین سے بیاہی گئیں۔ مسز پطرس بھی غالباً انہی کی عزیزہ تھیں ۔ بہر حال یہ تعلق علی گڑھ سے لاہور منتقل ہونے کا باعث تو بنا مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں ان کا رہن سہن اور نشست و برخاست اشرافیانہ ہو گئی اور نئے دور کے طلبہ، جن کی اکثریت نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی ، ان سے ذرا فاصلے پر رہے۔ ساتھ ہی انہیں سرکاری ملازمت کے سلسلے میں جو بھی مشکلات پیش آئی ہوں، رشتہ داروں اور قدیم شاگردوں کی مدد سے چپ چاپ حل ہوتی رہتی تھیں اور انہیں اس بات کا کم ہی خیال آتا تھا کہ نئے شاگردوں کی مشکلات اگر وہ حل نہ کریں گے تو کون کرے گا۔ تاہم انہیں یقین تھا کہ جو بھی توجہ اور محنت سے کچھ سیکھ لے، خود ہی کشمکش کر کے کہیں نہ کہیں پہنچ جائے گا۔
چناں چہ ان کے سامنے کوئی جذباتی بہانہ نہیں چلتا تھا نہ اپنے سپرد کسی کام میں کوتاہی قابلِ معافی تھی ۔ یہ بات مشہور تھی کہ کوئی طالب علم خواجہ صاحب کے ماہانہ امتحان میں فیل ہو جائے یا ٹیوٹوریل میں پیپر پڑھنے نہ پہنچ سکے تو ڈانٹ کھانے کے سوا چارہ نہیں۔ اگر کوئی کہےکہ پچھلے ہفتے والد صاحب کا انتقال ہوگیا، گھر کا سارا بوجھ مجھ پر آپڑا، رات کو اخبار کی نوکری کرنی پڑی اس لیے یہ کام نہ ہو سکا تو خواجہ صاحب کا ردعمل یہی ہوتا کہ اب تو آپ کو زیادہ ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے۔
صفر نمبر دینے کے علاوہ انہوں نے مجھ سے صرف ایک مرتبہ سختی سے کام لیا جب ایم اے کے آخری سال میں مجھ پر ایک ایسی کیفیت طاری تھی کہ تن بدن کا ہوش نہیں تھا۔ انہوں نے امتحان کی تیاری کا پوچھ لیا، کہا کہ اس دفعہ تو شاید نہ دے سکوں، اگلے سال سہی۔ کہنے لگے: اس دفعہ امتحان نہ دیا تو پھر کبھی پاس نہیں ہو سکتے۔ مطلب یہ کہ ابھی تو سبق تازہ ہیں اور غیرنصابی دلچسپیوں کا پھیلاؤ بھی کسی قدر قابو میں ہے، پھر ہر طرف کو بکھر گئے تو سمٹ نہیں سکو گے۔ خیر بکھرنے سے کون کسی کو روک سکتا ہے اور خود کو سمیٹنا کون سا آسان کام ہے، اتنا ہوا کہ ان کی ڈانٹ ڈپٹ میں آ کر امتحان کی بلا سر سے اتارنے کا حوصلہ نصیب ہوا۔
آگے جو زندگی میں امتحان پیش آتے رہے، ان میں خواجہ صاحب کا براہ ِراست دخل تو بہت کم تھا لیکن ان کا یہ پیغام جیسے رگ و پے میں اتر گیا تھا کہ ادب ایسے پڑھو جیسے کسی محبوب نے تمہیں نامہِ شوق لکھا ہو اور اس میں جو بھی مشکلات پیش آئیں اور جو بھی اشارے کنائے نظر آئیں ان کا تجز یہ تمہارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ ایک ایسے پیغام سے جانبر ہونا تو آسان نہیں تھا لیکن ان کا فیضان تھا یا کرامت کہ بڑی بڑی رکاوٹیں دور کرتے ہوئے ایسے محسوس ہوتا تھا کہ میں اکیلا نہیں ہوں ۔
خواجہ صاحب نے شاید ہی کبھی کسی کو اپنے دل یا اپنے جذبات کی ہوا لگنے دی ہو۔ یہ ان کا سب سے مضبوط پہلو بھی تھا اور سب سے کمزور پہلو بھی ۔ کمزور اس لیے کہ اس میں کسی قد ر اشرافیت بلکہ حاکمیت کی خو بو آجاتی تھی اور مضبوط اس لیے کہ وہ شاید ہی کسی وقت کسی شخص سے امداد کے امید وار ہوے ہوں۔ جو کوئی ان کے لیے کچھ کرتا تھا، اپنی خوشی سے کرتا تھا، یا انہیں خطرے میں دیکھ کر بے ساختہ بچاؤ کا انتظام کر دیتا تھا۔
ایک مرحلے پر ایسا لگا جیسے ان کو مجھ سے کوئی کام پڑ گیا ہو۔ جس زمانے میں میرے غیر رسمی استاد جناب محمد حسن عسکری نے ، جن سے فرنچ سیکھنے میں لاہور میں ان کے گھر جاتا تھا اورجن کو میں اپنے زمانے کا ایک بے مثل ادیب بھی سمجھتا تھا، خواجہ صاحب کے بارے میں ایک خاصی گرم تحریر لکھ کے چھاپ دی تو ایک زمانہ ساز ادیب نے ، جو خواجہ صاحب کے ماتحت کام کرتے تھے، مجھے اس کی تردید کہنے پر مائل کرنے کی کوشش کی ۔ یہ تو واضح نہیں تھا کہ وہ خواجہ صاحب کے اشارے پر مجھے ان کا حکم سنانے آئے تھے لیکن مجھے یوں لگا کہ شخص مذکور مجھ سے یہ کام کرا کے خواجہ صاحب سے کوئی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ ادھر میں نے اس ’’گرم تحریر‘‘ کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ خواجہ صاحب کے فراق گورکھ پوری سے برابری کے تعلقات تھے اور وہ ان کے شاگردِ خاص عسکری کی طرف شفقت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ اب اسے خواجہ صاحب کی اشرافیت کہیے یا آکسفرڈ کی باقی مانده وکٹوریائیت کہ وہ عسکری صاحب کی چلبلی طبیعت کا ساتھ نہیں دے سکتے تھے۔ کلاس میں جب کسی کھلے کھلے اقتباس کا حوالہ دینا ہوتا تو رک رک کر مسکراتے ہوئے اسے پڑھ جاتے تھے جیسے کوئی خلاف ِطبع لیکن نہایت ضروری فریضہ انجام دے رہے ہوں۔ ایک بار انہوں نے سٹیلا کے نام سؤیفٹ کے روزنامچے کا وہ حصہ پڑھنا شروع کیا جس میں اس نے بچہ بن کے توتلی زبان میں ہر طرح کی کھلی ڈلی با تیں بڑی معصومیت سے لکھ ڈالی ہیں تو ہماری ہم درس مسزایلس فیض کے تت تت کی آوازیں اب بھی یاد ہیں ۔ تاہم انسانی زندگی اور معاصرانہ تحریر میں جس رکھ رکھاؤ کے وہ قائل اور سختی سے عامل تھے اس میں عسکری کی مطبوعہ تحریر کو پی جانا ہی بہتر تھا۔ اس کی تردید میں کچھ لکھنا بات کو مزید اچھالنے کے مترادف ہوتا جو خواجہ صاحب کی طبیعت سے لگا نہیں کھاتا تھا۔ ایف آر لیوسں کی بصیرتوں کے وہ بے حد قائل تھے لیکن اس کے جارحانہ طرز ِتحریر کو ضروری نہیں سمجھتےتھے، برعکس کلیم الدین احمد کے، جنہوں نے جارحیت تو وہاں سے لے لی مگر بصیرت میں بہت پیچھے رہ گئے ۔ تا ہم عسکری کی جارحیت ایسی نہ تھی جیسی کہ اثر لکھنوی کے سلسلے میں انہوں نے روا رکھی ، فراق کی ہجویات کو پسندیدگی سے نقل کر کے۔
غنیمت تھا کہ عسکری کے خطوط بنام سبط ِحسن، جن میں خواجہ صاحب کو ’’سرکاری آدمی‘‘ قرار دے کر ادبی منصوبہ بندی کے الزام لگائے گئے ہیں، خواجہ صاحب کی زندگی میں شائع نہ ہوئے اور نہ انہیں واقعی دکھ ہوتا۔ وہ کسی وقت بھی کسی قسم کی ادبی سیاست میں ملوث نہیں ہوےاور آزاد ادیبوں کی غلام سازی میں سرکاری جوڑ توڑ ان کے بس میں ہی نہیں تھا۔ ممکن ہے کسی بڑے بیورو کریٹ یا سابق شاگرد نے خواجہ صاحب کو کوئی اکاڈمی قسم کی سکیم بنانے میں شریک کرنا چاہا ہو۔ لیکن انہوں نے کیا واقعی کوئی ایسا کام کیا؟ اس کا ثبوت مل سکے تو اعتراض کی بات ہوگی، محض تجویز پراتنی برہمی کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔
اصل میں وہ انجمن ترقی پسند مصنفین سے اپنی وابستگی اور اس سے زیادہ سجاد ظہیر سے آکسفرڈ کی دوستی کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ دونوں کی آکسفرڈ کے زمانے میں تصویر میں نے آفتاب احمد خان صاحب کے پاس دیکھی ہے۔ سبطِ حسن کے بقول علی گڑھ میں انجمن کا پہلا اجلاس خواجہ صاحب کے گھر پر منعقد ہوا تھا اور سجاد ظہیر نے علی گڑھ کے جن اساتذہ کے ٹھنڈے پڑ جانے کی شکایت ’’روشنائی‘‘ میں درج کی ہے خواجہ صاحب کا شماران میں بہت مشکل ہے۔ پھر آل احمد سرور کی یادوں میں ’’انگارے‘‘ کے بارے میں خواجہ صاحب کے ’’نرم گوشے‘‘ کا ذکر بھی آتا ہے کہ ان افسانوں میں ہیئت کے کچھ ایسے تجربےملتے ہیں جیسے داخلی گفتگو، جن کے بارے میں کسی قدر رعایت ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں خواجہ صاحب یقیناً تحریرکے مجموعی امپیکٹ کی بجائے اس کے ایک جز کی بنا پر رعایت کے طلب گار نظر آتے ہیں جو اپنی جگہ تاریخی طور پر کتنی بھی اہم کیوں نہ ہو، اس کا فنی استعمال پھر بھی زیر بحث آئے گا۔
۱۹۳۸ ء سے ۱۹۵۲ ء کے چار برسوں میں کسی پاکستانی شاگرد کو ان سے اتنی قربت کا موقع نہیں ملا جتنا کہ اس خاکسار کو ملتا رہا۔ میرا ان سے اکہرا کلاس روم کا تعلق نہ تھا۔ ’’راوی‘‘ کے سلسلے میں اور اپنے تحریری منصوبوں میں ان کی رہنمائی حاصل کرنے ان کے گھر جاتا رہتا تھا جہاں بقول رشید احمد صدیقی ان کے لان میں شام کے وقت ان کے ساتھ تین چار سو چکر بھی لگانے پڑتے تھے۔ ایسے موقعوں پر ان سے وہ مصنف بھی پڑھے جا سکتے تھے جو اس وقت نصاب میں شامل نہیں تھے، جیسے ایلیٹ اور پاؤنڈ ، ژیٹس اور آڈن، لارنس اور جوئس، فورسٹر اور ورجینیاوولف، آئی اے رچرڈز اور ایف آر لیوس وغیرہ ۔ اصل میں ان کے پاس سکھانے پڑھانے کو اتنا کچھ تھا کہ آدمی برسوں تک زیرتعلیم رہے تو ختم نہ ہو ۔لیکن ان کے پڑھانے کا انداز ایسا تھاکہ طلبہ کو ادب پڑھنے کی ایک بنیادی تربیت حاصل ہو جائے کہ اس کے بعد وہ جو بات بھی چاہیں، اپنے طور پر، طریقے سلیقے سے پڑھ سکیں اور اس کے بارے میں آزاد اور باخبر رائے بھی قائم کر سکیں ، ایک ایسی رائے جس کی بین الاقوامی علمی و ادبی دنیا میں شنوائی بھی ممکن ہو۔
انگریزی ادب اور تعلیم کے بین الاقوامی میدان میں ان کا متعدد شخصیتوں سے گہرا قریبی رابطہ تھا۔ آکسفرڈ اور کیمبرج کے اساتذہ کے علاوہ برصغیر کی مختلف یونیورسٹیوں جیسے مدراس، کلکتہ، پٹنہ ، الہٰ آباد، لکھنؤ اور لاہور کے ساتھ ان کے روابط یہاں آنے سے پہلے ہی قائم تھے اور وہ طلبہ کا زبانی امتحان لینے، جس کا پنجاب یونیورسٹی میں کوئی رواج نہ تھا، دور دراز کا سفر بھی اختیار کر لیتے تھے، جب تک صحت اجازت دے۔ ایلیٹ اور آڈن، ایمپسن اور لیوس کی تازہ کتابیں ان کو تحفہ ملتی رہتی تھیں اور وہ ان کے بارے میں اپنے مختصر تاثرات ذاتی خطوط کی شکل میں بھجواتے بھی رہتے تھے۔ وہ اگر چاہتے تو انگریزی کی نئی کتابوں پر بڑی آسانی سے ایک ہفتہ وار نہیں تو ایک ماہانہ کالم یا تبصرہ یا مضمون شائع کرتے رہتے لیکن اپنی ملازمت کے دوران، علی گڑھ کے ابتدائی برسوں کو چھوڑ کر، انہوں نے اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں کی اور سب کچھ اپنی تدریس میں شامل کر دیا۔ بقول غالب:
تا باده تر شود و سینہ ریش تر
بگدازم آبگینہ و در ساغر افگنم
(میں آ بگینے کو پگھلا کر ساغر میں ڈال دیتا ہوں تا کہ شراب زیادہ تلخ ہو جائے اور سینہ زیادہ زخمی ۔)
غالب، اقبال ، عرفی ،نظیری ، حافظ اور امیر خسرو کے اشعار انگریزی ادب کے لیکچروں میں اتنی منا سبت کے ساتھ انہیں یاد آتے تھے کہ تقابلی ادبیات کا مطالعہ ہو جاتا تھا۔ یوں ان کے منہاج کا ایک بڑا حصہ اس حکمت کا حامل تھا کہ انگریزی تنقید سے حاصل کی ہوئی بصیرتوں کا اطلاق اردو اور فارسی ادب پر کیا جا سکے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جو تصانیف انہوں نے مرتب کرکے شائع کیں ان سے یہ منہاج پوری طرح واضح نہیں ہوتا ۔ اصل میں وہ لکھنے سے زیادہ پڑھانے پر اپنی بہترین توجہ صرف کرتے تھے اور ہیں ان کے جو ہر پوری طرح کھلتے تھے۔ ہو پکنز پڑھاتے ہوئے اس کے مذہبی اضطراب کو انہوں نے غالب کے ایک شعر سے آئینہ کردیا:
ہے دل شوریدہ غالب، طلسم پیچ و تاب
رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے
ایسے موقعوں پر ان کا نقطہِ نظر خاصا بیدار ہو جا تا تھا اور عام طلبہ کی دسترس سے دور ۔ تا ہم ان کو اصرار تھا کہ سادہ لوحی کے ساتھ مغربی یا مشرقی ادب کو دیکھنا ادبی مطالعے کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ باتیں اکثرپیچ در پیچ ہوتی ہیں اور ان کا کھولنا آسان نہیں ہوتا۔ چناں چہ وہ لوگ، جو مشرقی ادب کی روشنی میں مغربی ادب کو رد کرتے ہوں یا اس کے برعکس، ان سے خواجہ صاحب کی نہیں نبھتی تھی۔ کلیم الدین احمد نے لکھا ہے کہ انہوں نے علی گڑھ میں خواجہ صاحب سے پوچھا کہ اردو شاعروں کے یہاں خیال کی مرحلہ وار تعمیر کیوں نہیں ملتی۔ اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ دو مصرعوں میں جو ایک جہانِ معنی جھلکتا ہے، اس کا کیا کیجیے گا ۔ کلیم الدین کہتے ہیں کہ میں نے مثال طلب کی تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ یقیناً خواجہ صاحب نے اس بحث کو لا حاصل سمجھ کر خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا ہو گا۔
ایک بار ان سے پوچھا کہ اقبال سے آپ کی رغبت کب اور کیسے شروع ہوئی ؟ کہنےلگے طالب علمی کے زمانے میں سجاد حیدر یلدرم سے خاصا ملنا جلنا تھا اور وہ اقبال کا تازہ کلام، جو رسائل و اخبارات میں شا ئع ہوتا رہتا تھا، لہک لہک کر سنایا کرتے تھے۔ پوچھا کہ بیلدرم کی اقبال پر کوئی تحریر بھی موجود ہے؟ کہنے لگے ’’علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ‘‘کے ۱۹۰۱ ء کے شمارے میں (یعنی جب ابھی ’’مخزن‘‘ نکلنا شروع ہوا تھا) ایک استقبالیہ نوٹ ہے جو یلدرم کے مجموعہ ’’حکایات و احساسات‘‘ میں شامل ہے ۔ خواجہ صاحب ایسی حیران کن معلومات کا ایک خزانہ تھے۔ یلدرم کے علاوہ ان کی دوستیاں علی گڑھ کے اساتذہ ہادی حسن، رشید احمد صدیقی اور پروفیسر حبیب کے ساتھ قائم تھیں ۔ جامعہ ملیہ کے پروفیسر مجیب اور ڈاکٹر عابد حسین سے دلی رابطہ تھا۔ احمد علی اور سجاد ظہیر کے علاوہ، جن کا ذکر ہو چکا ہے، شعراء میں فراق گورکھپوری اور ان سے پہلے فانی بدایونی سے ان کے مضبوط مراسم تھے۔ پاکستان میں پطرس اور فیض کے علاوہ صوفی تبسم سے ان کی گاڑھی چھنتی تھی لیکن اس کی وجہ صوفی صاحب کی سبقت ہوگی اور خواجہ صاحب کی مروّت ۔ صوفی صاحب کے گھر میں طلبہ کی شعری نشست میں ضرور تشریف لاتے تھے لیکن کسی کو اپنے یہاں کم ہی بلاتے تھے، ماسوا ان کے جو خود ہی ہمت کر کے جا پہنچیں ۔ وہ ایک خانہ نشیں بلکہ گھر میں بھی گوشہ نشیں آدمی تھے جو ہمہ وقت اپنے کام میں لگا رہتا تھا۔ ایک بار گرمیوں کی چھٹیوں میں جانا ہوا تو دیکھا کہ کونر یڈ کی بیسیوں کتابیں اور اس کے بارے میں تنقیدی اور سوانحی مسالے کا انبار ان کے چاروں طرف لگا ہے۔ یہ مصنف پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار خود ان کی فرمائش پر نصاب میں شامل ہوا تھا۔ کہنے لگے :علی گڑھ میں پڑھایا تھا لیکن اب بہت سانیا مسالہ وجود میں آ چکا ہے جس کی روشنی میں اس کے جملہ کارنامہِ حیات کو نئے سرے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے تازہ نوٹس تیار کرنے ہوں گے کہ تعطیلات کے بعد اس پر درس دینا ہے۔
خواجہ صاحب ناسازی ِطبع کو چھوڑ کر، جو شاذ ہی کبھی ہوتی تھی، کسی دن کلاس سے غیر حاضر نہیں پائے گئے ۔ صرف جب ایک مصنف پر ان کے لیکچر پورے ہو جاتے تھے تو نیا موضوع شروع کرنے سے پہلے ایک دن کا وقفہ دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ اس وقفے والے دن ان کا پیغام ملا کہ سب لوگ کلاس میں آ جائیں ۔ حیرانی ہوئی کہ آج کیوں بلایا ہے۔ جا کر معلوم ہوا کہ رسکن کے بارے میں، جو پچھلے دن مکمل ہو چکا تھا، ایک نئی کتاب کل شام ہی موصول ہوئی ہے، اس کی نفسیاتی سوانح، پیٹر کینل کے قلم سے جو آرٹ اور ادب کی تاریخ و تنقید میں ایک اہم معاصر نام تھا۔ دومسلسل پیریڈ اس کتاب پر صرف ہوے۔ کینل نے رسکن کے یہاں ایک مستقل جنسی جنون کا سراغ لگایا تھا جسے ناممکن کی جستجو Nympholepy کا نام دیا جا سکتا ہے یعنی چھوٹی عمر کی لڑکیوں کی طرف وجد و حال تک پہنچی ہوئی رغبت جس نے اسے بالغوں کے ساتھ ہم آہنگی کے نا قابل بنا دیا تھا۔ کتاب نہایت دستاویزی انداز میں لکھی گئی تھی اور ادب میں نفسیات کے میکا نکی استعمال کے برعکس بڑی احتیاط سے نتائج اخذ کیے گئے تھے۔ خواجہ صاحب نے یہاں وہاں سے اس کے اجزاء شرماتے شرماتے سنائے اور پھر ان پر ایک زور دارمحا کہ کیا ۔ یہ غالباً ان کا بہترین لیکچر تھا، ٹیوٹوریل کلاسوں کو چھوڑ کر جن میں ہمارا دستور یہ تھا کہ الٹی سیدھی باتیں لکھ کر خواجہ صاحب کو اشتعال دلا یا جائے کہ وہ اپنے تحفظات سے باہر نکل کر بے ساختہ گفتگو کر سکیں۔ اس وقت ان کے ذہن اور زبان دونوں کی رفتار خاصی تیز ہو جاتی تھی اور تیار شدہ نوٹ بہت پیچھے رہ جاتے تھے۔ ایک بار سویفٹ کو ہیملٹ سے مشابہ قرار دے کر انہوں نے ایک ایسا برجستہ تجزیہ صرف حافظے کی مدد سے سنایا تھا کہ بیالیس تینتالیس برس کے بعد آج بھی کانوں میں گونجتا ہے۔
گویا خواجہ صاحب سے کچھ غیر معمولی بصیرتیں حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ انہیں طیش دلایا جائے۔ جس کے لیے ضروری تھا کہ طلبہ خود بھی کوئی دلچسپی لیں ۔ لیکن طلبہ سے ان کی اپنی توقعات کا حد وشمار نہیں تھا جو ایک تہائی یا ایک چوتھائی بھی پوری ہو جاتیں تو شاید ہم سب علامہِ دہر بن جاتے۔ ہر مصنف پر پہلا دن تعارف گفتگو پر مشتمل ہوتا تھا، جس میں کتابیات کی ایک لمبی فہرست لکھائی جاتی تھی۔ مصنف کی زندگی اور فن کے بارے میں ایک ابتدائی کتاب سے شروع کر کے، جس کا پڑھنا سب کے لیے ضروری تھا، اس کے بعد مفصل سوانح حیات اور شخصیت کے بارے میں دوسروں کی اور اس کی اپنی یادداشتیں، جن میں خطوط پر توجہ کی بطور خاص تاکید ہوتی تھی ۔ اس کے بعد اس کے زمانے سے لے کر اب تک لکھی ہوئی تنقیدی، تشریحی اور تعمیری کتابوں کی ایک طویل فہرست جس کے بعد ضروری اجزاء کی نشان دہی کی جاتی تھی ۔ مصنف کا داخل ِنصاب حصہ تو سب کو تفصیل کے ساتھ پڑھنا ہی تھا، اس کے علاوہ اس کی دوسری اہم تحریروں کا مطالعہ بھی واجب تھا جن کی معنویت روز ِاول سے ہی معلوم ہونی چاہیے تھی۔ کتابوں کے علاوہ ناقدین اور علمائے ادب کے مجموعہ ہائے مقالات، مختلف اداروں کے شائع کردہ خطبات و مطالعات، یادگاری کتابوں کے مشمولات اور ستم بالائے ستم یہ کہ تازہ ترین رسائل و جرائد میں نکلے ہوئے تبصرےاور مضامین ۔ خصوصی طور پر لیوس کا رسالہ ’’سکروٹنی‘‘ جو ابھی بند نہیں ہوا تھا، امریکہ کا بے نظیر رسالہ Partisan Review جو ٹراٹسکی کے پیرو کار شائع کرتے تھے۔ ایلن ٹیٹ کا رسالہ Kenyan Review اور ہفت روزوں میں Times Literary Supplement اور ’’سیٹر ڈے ریویو آف لٹریچر‘‘ کبھی کبھار ”نیو ٹیٹس مین‘‘ اور ’’ آبزرور‘‘ ویکلی بھی۔ غرض کہ ایک ناممکن الحصول ذخیرہ اور اس کے تفصیلی مطالعے کا تقاضا ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا تھا۔
یاروں نے اس میں اور مصیبت پیدا کر دی۔ کتابیات کی فہرست لے کر دوسرے اساتذہ کے پاس جا پہنچے اور پوچھتے کہ مثلاً ملٹن پر کیا پڑھا جائے۔ پاس ہونے کے لیے عام طور پر یہ بتایا جاتا تھا کہ والٹر رالے کی کتاب بہت کافی ہے۔ پو چھتے کہ رابرٹ گریوز کا ناول " Wife of Mr Milton " کیسا ہے؟ کہتے کہ بس ناول ہے ، لیکن ملٹن آپ کے نصاب میں شامل ہے یا اس کی بیوی؟ پوچھتے کہ ٹی ایس ایلیٹ نے جوملٹن کی ایسی تیسی کی ہے، اس کا جواب کیسے ہو؟ کہتے کہ نظر انداز کرو۔ پھر پوچھتے کہ پروفیسر Tillyard کیسے رہیں گے؟ کہتے کہ فضول، بالکل فضول ۔ پوچھتے کہ ’’پیراڈائز لاسٹ‘‘ پرسی ایس لوئس کا مقدمہ کیسا ہے؟ کہا جاتا کہ کلاس میں جو کچھ پڑھایا جائے اسی پر اکتفا کرو ۔ اور راجن کی کتاب ؟ الٹا پو چھتے کہ یہ کون بلڈی انڈین ہے لیکن یہ بتاؤ کہ تمہیں یہ سب نام کہاں سے معلوم ہوے؟ بچارے جھولے طلبہ قبول دیتے کہ خواجہ صاحب سے۔ پھر کوئی نہ کوئی تیز فقرہ خواجہ صاحب کی شان میں نکل جاتا کہ یہ علی گڑھ والا ہمارے طلبہ کو برباد کر کے ہی دم لے گا۔
اور واقعی خواجہ صاحب نے بہت لوگوں کو برباد کیا، پیچھے کو اپنی پیروی کی وجہ سے اور کچھ کو اپنے خلاف ردعمل کی وجہ سے ۔ نوبت بایں جا رسید کہ کلاس روم سے لے کر کمرہِ امتحان تک کلکتہ کے نوٹس چلنے لگے۔ پروفیسر صاحبان بھی یہی کچھ پڑھ کے پڑھانے لگے اور شاگردوں کو جب اس سہل الحصول منبعِ علم و دانش کا پتا چلا تو انہوں نے بھی اسے خرید کر کلاسوں میں جانا چھوڑ دیا۔ مقامی ناشروں نے یہی نوٹس فراہم کر کے طلبہ کو اصل ادیبوں کی نگارشات اور ناقدین و علمائے ادب کی بحثوں سے بے نیاز کر دیا۔ گو یا انگریزی ادب کی تعلیم ایک تجارت بن گئی اور اس میں سے مناسبت طبع،تحصیلِ زبان، تربیتِ ذوق کن اور نقد ِادب کی اطلا قیات کے اربعہ عناصر تتر بتر ہو گئے۔
گیا وقت خوبانِ دل خواه کا
ہمیشہ رہے نام اللہ کا
( حلقہ ارباب ِذوق ، لا ہور: ۱۹۹۳ ء، صدارت: سہیل احمد خان)