شاکر علی کے آس پاس: کاروا ں سالارِ فن
شاکر علی کے آس پاس: کاروا ں سالارِ فن
یہ صدی آخری ہچکیاں لے رہی ہے مگر میری آنکھوں میں اس کی اور اپنی جوانی کا وہ دور پھرتا ہے جب میں نے لفظوں کی آواز پر رقص کرتے ہوے ایک دم خود کو تصویر سازوں کے مابین محصور پایا۔
یہ حادثہ (یا جو کچھ بھی اسے کہیے ) نظر بہ ظا ہر پلک جھپکتے پیش آ گیا تھا لیکن اب سوچتا ہوں تو اس کے پسِ پردہ اسباب وعلل کا ایک پیچ دار سلسلہ ایک نقطے پرمتمرکز دکھائی دیتا ہے۔ اور یہ بھی نہیں کہ واقعہ صرف میرے ساتھ مخصوص ہو۔ یوں لگتا ہے جیسے، آنِ واحد میں ، ادیبوں شاعروں کی ایک پوری پیڑھی، مصوروں کی ایک نئی نسل کے ساتھ باہم مربوط ہوگئی تھی ۔ یوں تو دونوں طرف ایک آدھ بڑی عمر کا آدمی بھی شامل تھا لیکن اس میں شک نہیں کہ آزادی کے بعد نمودار ہونے والے فنکاروں کا یہ ملا جلا جھمگٹ زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل تھا۔ شاکر علی، جو ۱۹۱۶ ء کی پیدائش تھے۔ ۱۹۵٢ ء میں لاہور آئے اور آتے ہیں جس طرح ہاتھوں ہاتھ لیے گئے وہ اس سے ایک آدھ دہائی پہلے یا بعد میں ممکن نہ ہوتا۔ اسی طرح جناب محمد حسن عسکری نے ، جو لاہور چھوڑ کے کراچی جا چکے تھے مگر سال کے سال مہینے دو مہینے کے لیے چکر لگا جاتے تھے،ایک مفصل ملاقات کے بعد شاکر علی پر اپنا تعارفی مضمون ۱۹۵۴ ء میں تحریر کیا تھا۔ تاہم لاہور میں اس سے قبل متعدد اہلِ قلم نے ، تعارف سے گزرکر، جد ید مصوری کے اس جہاں دیدہ مگر نو وارد نمائندے کے ساتھ ہم نظری اور ہم خیالی کا رشتہ جوڑ لیا تھا۔ انتظار حسین کا ماہنامہ ’’خیال‘‘، جس میں یہ ربط با ہم پہلی مرتبہ آشکار ہوا، ۱۹۵۳ ء میں نکالا تھا۔ اگرچہ یہ چھوٹا سا رسالہ تین چار شماروں سے زیادہ جاری نہ رہ سکا پھر بھی یہ اس بات کا مظہر بنا کہ اب مختلف فنونِ لطیفہ سے مربو ط نو جوان آپس میں گتھ متھ کر کچھ کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا کرنا چاہتے ہیں، شایدیہ صاف صاف ان میں سے کسی کو معلوم نہ تھا۔ کوئی غیر شعوری تلاش تھی یا تہذیبی تاریخ کا کوئی پراسرارعمل تھا جو انہیں باہم مربوط کیے چلا جا رہا تھا۔
میرا اپنا واسطہ سب سے پہلے حنیف رامے سے پڑا جو بی اے میں میرے ہم درس تھے اور ناشرین ِادب کے ایک خانوادے کے چشم و چراغ ۔ ایم اے معاشیات میں داخلہ لینے کے بعدیہ توقع تو نہ تھی کہ وہ ادب یا فن کی کسی شاخ سے جھو لنے لگیں گے لیکن سر ِبازار دونوں ہاتھوں سے ہوا میں لکیر یں بناتے ہوئے چلتے تھے اور لاہور کے بزرگ مصوروں اور خطاطوں سے نیاز مندانہ ملا کرتے تھے۔ عبدالرحمٰن چغتائی ، استاد اللہ بخش اور تاج الدین زریں رقم سے ملاقات کے قصے سناتے تھے اور ان سب سے باری باری زانوئے تلمذ تہ کرنے کے بعد کسی نہ کسی بہانے ان سے اُکھڑ جانے کی داستانیں ۔ پھر ایک دن انہوں نے ایک عددطبع زادقلمی ڈرائنگ بنا ڈالی ۔ کسی نوجوان طوائف کا خاکہ جو تین چارخم دار لکیروں کی مدد سے تیار ہوا تھا اور لگتا تھا جیسے ہاتھ لگاتے ہی ہڈی پسلی سرمہ ہو جائے گی۔ میں نے کہا کہ اسے فریم کراکے نیو ہوسٹل میں اپنےکمرے کی دیوار پرلٹکاؤں تو کیسا رہے۔ اگلے دن یہ ڈرائنگ مجھے مل گئی اور میں روز شام کی آوارگی کے بعد رات گئے کمرے میں لوٹ کر آتا تو اسے دیکھتے دیکھتے سو جاتا۔
اُن دنوں مجھ پر برج بھاشا میں کو تائیں اور دوہے لکھنے کی دُھن سوار تھی چناں چہ اس ’’ویشیا‘‘ کو دیکھ دیکھ کر آٹھ دس دوہے بن گئے ۔ حنیف نے انہیں دیکھا تو کہا کہ یہ ڈرائنگ دوہوں کے ساتھ ’’سویرا‘‘ میں چھپے گی جسے حنیف کے سب سے بڑے بھائی ’’نیا اداره‘‘ والے (مرحوم) چودھری نذیر احمد نکالتے تھے۔ میرا رابطہ’’ سویرا‘‘ کے مدیر احمد راہی سے تھا جنہوں نے اس سے پہلے میرا ایک آدھ مضمون اور دو ایک کو تائیں اس مشہور ادبی مجلے میں شائع کی تھیں ۔ پھر بھی طالب علمی کے اس زمانے میں اپنا یہ طنطنہ تھا کہ طلب کے بغیر کسی کو پھر چھاپنے نہ دیتا۔ لیکن حنیف کے کہنے پر میں نے وہ دوہے ان کے سپرد کر دیے۔ چودھری صاحب سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے چھوٹے بھائی کی حوصلہ افزائی کے لیے ڈرائنگ رسالے کے شروع میں چھاپ دی اور اس کے عین بالمقابل اس خاکسار کے دو ہے۔ چھاپنے کے بعد جب کچھ کاپیاں تیار ہو کر ’’نیا اداره ‘‘ پہنچیں بلکہ کچھ تقسیم بھی ہوگئیں تو کسی آتے جاتے سینئر ادیب نے حیرت کا اظہار کیا کہ اس مرتبہ تو آپ کا مقتدر رسالہ ایک طالب علم کی نظم سے شروع ہوتا ہے اور وہ بھی آرٹ پیپر پر۔ تب چودھری صاحب کو احساس ہوا کہ کتنی نا مناسب حرکت سرزد ہوگئی اور انہوں نے دفتر ی کو جا کر ہدایت کی کہ دوہوں کو علیحدہ کر کے صرف ڈرائنگ کو شامل کیا جائے۔ مجھے تو خیر دیر میں پتا چلا اور ذرا پہلے بھی معلوم ہو جاتا تو کیا کر لیتا کہ مجھ سے یہ چیز ادارے نے طلب ہی نہ کی تھی لیکن حنیف کو معلوم ہوا تو وہ بلیڈ لے کر ’’نیا اداره ‘‘ پہنچا اس غرض سے کہ رسالے کی تیار شدہ کا پیوں سے اپنی ڈرائنگ کاٹ کے الگ کر دے۔ معلوم نہیں چودھری صاحب نے روٹھے بھیا کو کیسے منایا اس لیے کہ اس معاملے کا میرے سامنے بھی کوئی ذکر ہی نہیں آیا۔ مجھے رسالے کی جو کاپی موصول ہوئی اس میں نہ ڈرائنگ تھی نہ وہ دو ہے مگر کراچی کے ملنے جلنے والوں سے معلوم ہوا کہ وہاں مرسلہ کاپیوں میں دونوں چیزیں موجود تھیں بلکہ بعض دور افتادہ احباب سے تو ڈرائنگ اوردوہوں کی باہم مطابقت پر دادبھی موصول ہوئی۔
لیکن یہاں اور وہاں چند ایک ادیبوں میں یہ تجسس پیدا ہوا کہ فن مصوری سے میرا رابطہ کیسے ممکن ہوا۔ چائے خانے اور کافی ہاؤس میں کتنے ہی مصور آتے رہتے تھے: انور جلال شمزا، احمد پرویز، بمبئی سے آئے ہوئے شیخ صفدر، لارنس کالج گھوڑا گلی میں مصوری کے استادعلی امام جو معروف ہندوستانی مصور رضا کے بھائی تھے، ان کے دوست معین نجمی اور سب سے زیادہ ادیبوں اور مصوروں کے درمیان ایک پل کی طرح کام کرنے والے ہم سب کے عزیز دوست نور عالم جو خود تو مصوری چھوڑ چکے تھے مگر شعر و ادب سے بے حد دلچسپی لیا کرتے تھے۔ ان سب سے میرا ہی نہیں، میرے دوستانِ سر ِمیز انتظار حسین ، ناصر کا ظمی اور احمد مشتاق وغیرہ کا تعارف بھی ہوا۔ شمزاسے افسانہ نگار اے حمید کے ذریعے جان پہچان ہوئی ۔ تب وہ بھی رومانی قسم کے افسانے، ناول وغیرہ لکھتے تھے اور اسی طرح ریڈیائی ڈرامے بھی۔ علاوہ ازیں دین محمدی پریس کے ہفت روزہ ’’احساس‘‘ کی ادارت بھی کرتے تھے ۔ اصل میں تو مصور تھے مگر طبیعت کی بے قراری ایک دم نچلا نہ بیٹھنے دیتی تھی۔ بلند آواز میں بات کرنا اور زور زور سے قہقہے لگانا ان کی شناخت تھی مگر ان میں ادیبوں کی وہ عادت نہ تھی کہ حضرتِ داغ جہاں بیٹھ گئے، بیٹھ گئے ۔ شہر میں ادھر سے ادھر ، سرکلر روڈ پر ’’نیا ادارہ ‘‘اور ’’ادب ِلطیف‘‘ کے دفترسے لے کر آرٹ کونسل اور ریڈیو ٹیشن، جہاں جاؤ وہاں موجود ،نہیں تو پتا چلتا تھا ابھی نکلے ہیں ۔ زندگی کے رنگ رس سے چھلکتے ہوئے یار باش آدمی تھے، زُود اختلاط ، زُود کلام، زُود نگار بلکہ زُودرنج بھی ۔ عام طور پر انہیں سہل پسند اور سست الوجود ادیبوں کے مقابلے میں، جو روسی فکشن کے مشہور کردار او بلوموف ( Oblomov ) سے مشابہ معلوم ہوتے تھے ، اوبلوموف کے فعال دوست سٹولزر ( Stolz ) کا مماثل کہا جاتا تھا۔ لیکن ان کی دوستیاں دشمنیاں کسی نہ کسی وقتی ردعمل کی پیداوار ہوا کرتی تھیں اگر چہ تھوڑی دیر کے لیے ان میں ایسی شدت آجاتی تھی جیسے پھرکبھی صلح یا لڑائی نہ ہو سکے گی۔ آرٹ کونسل کے خلیل صحافی ، جنہیں ڈاکٹر تاثیر وغیرہ کی حمایت حاصل تھی ، اور مصور مجسمہ ساز زُوبی ، شمزا کی طنزیہ مزاحیہ گفتگو کے مرغوب نشانے تھے۔ ان میں سے زوبی میرے جانے والے بھی تھے، اشفاق احمد کے ذریعے جو ان کے ساتھ کام بھی کر چکے تھے۔ اس کے علا وہ ایک مرتبہ منٹو کے ساتھ باغِ جناح میں ان کے سٹوڈیو کا پھیرا بھی لگ چکا تھا۔ انہوں نے بہت سے ادیبوں کے چہر ے پلاسٹر آف پیرس میں ڈھال رکھے تھے اور ناشرین ِادب کی مطبوعات کے سرورق بھی زیادہ تر وہی ڈیزائن کرتے تھے ۔ضرورت سے زیادہ سیانے تم کے خودساختہ اور خود ساز آدمی تھے اور ہم دیوانوں کی طرح چائے خانوں میں دھرنا دینے کو فعلِ عبث کہتے تھے ۔ گفتگو میں ایک بزنس لائک رُوکھا پن یا پھر موقع محل کے حساب سے ایک نمائشی بے تکلفی کا انداز تھا۔
مزے کی بات یہ ہے کہ شمزا اور حنیف ایک دوسرے سے بے حد مختلف ہوتے ہوئے بھی زوبی کے ساتھ تقریباً برابر کا الر جک تھے۔ شمزا کو بناوٹ نا گوار تھی اور حنیف کو فارمولائی قسم کی ڈیزائننگ اور لیٹرنگ ۔ مثلاً کتاب کا نام ہو ’’پھول اور پتھر ‘‘تو پھول کے نقطے شگوفوں کی طرح اور پتھر کے نقطے کنکروں کی طرح بنائے جاتے تھے۔ یوں مجسمہ سازی کی طرف ان کی توجہ نے ، جو سیدھے سبھا ؤ تسکین نہ پا سکتی تھی، ان کی تصویروں میں گرے پڑے پتھروں کی افراط پیدا کر دی تھی لیکن یہ پتھر کسی مصورانہ تکنیک کی مدد سے اپنے ’’پتھر پن‘‘ کا احساس نہیں دلاتے تھے بلکہ شمزا کے بقول ” گردے کپورے‘‘ نظر آتے تھے۔ بعد میں البتہ انہوں نے اپنی اطالوی تربیت کے سہارے اپنے اسلوب کو خاصا پرکشش بنا لیا اگر چہ ان کا مجموعی ڈیزائن کسی حد تک پھر بھی فارمولا ئی رہا۔
اُدھر لاہور کے نامور بزرگ مصوروں میں سے عبدالرحمٰن چغتائی اور استاد اللہ بخش اپنی اپنی دریافتوں کے اسیر بن چکے تھے۔ چغتائی صاحب غزالیں آنکھوں اور صرای دار گردنوں کے ساتھ شکن در شکن لباس کے اتنے لہریے لگاتے تھے کہ جسموں کے خطوط کی آبداری کند ہو جاتی تھی۔ آس پاس آرائشی محرابیں ، فرش پر مزین قالین اور اُوپر واش ٹکنیک سے دُھلا دُ هلايا آسمان جس میں لاجوردی اور سنہری شنگرفی رنگوں کی سر تیاں گھٹتی بڑھتی نظر آ تیں ۔ ان میں الاپ کی نغمگی ضرور تھی لیکن کوئی زور دار لےَ نہیں بن پاتی تھی ۔ ہلکی ہلکی فضاتھی اور بھاری بھرکم بناؤ سنگھار۔ معنویت کا سوچیں تو یادِ ماضی کے بوجھ تلے دبی ہوئی عظمت ِپار ینہ غشی کی حالت میں پڑی دکھائی دیتی تھی ۔ عین عین عرفی کی رباعی کا نقشہ تھا جس میں مغل مصوری کے آرائشی پہلو پر تند و تیز محا کمہ ملتا ہے:
گیرم کہ ترا شوخیِ آتش باشد
با نقش و نگار عالمت خوش باشد
گہ معنیِ ہر نقش نیابی، باشی
آں مردہ کہ در قبرِ منقش باشد
مانا کہ ہو تم شوخیِ آتش میں ڈھلے
رنگینی و روشنی کی بارش میں پلے
ہر نقش کے معنے نہ ہوں معلوم اگر
اک مردہ ہو تو تم، قبرِ منقش کے تلے
ایسی ہی تندی و تیزی لاہور کے نوجوان مصوروں اور دانشوروں کے یہاں بھی تھی، نہ صرف چغتائی بلکہ استاد اللہ بخش کے بارے میں بھی ، اگر چہ مختلف وجوہ کی بنا پر چغتائی کی اشرافیت کے مقابلے میں اللہ بخش کے یہاں قدرے عوامیت کا رجحان تھا: لوک رُومان، دیہات کے مناظر، لباس اور زرعی آلات وغیرہ لیکن ان کا اندازِ پیشکش زیادہ تر فلمی اور تھیٹریکل محسوس ہوتا تھا، مصورانہ اور فنکارانہ بہت کم، لے دے کر یہی دو مصور یہاں کی نمائشوں میں نمایاں ہوتے تھے، بہت سے نو آموز شوقیہ فنکاروں کے ہجوم میں ۔ اس دور میں کراچی کے مصوروں میں سے فیضی رحمین، ناگی اور عسکری تو ان سے بھی گئے گزرے محسوس ہوتے تھے اگر چہ انہیں دارالسلطنت کی سرپرستی حاصل تھی۔ چغتائی پر”ماہِ نو‘ کا ایک خاص نمبر ترتیب دینے کی غرض سے سرکاری محکمہِ مطبوعات کے جلال الدین احمد جب لاہور آئے تو انہیں قہوہ خانے میں بیٹھ کر جو کچھ سننا پڑا وہ کسی سرکاری رسالے میں چھپ نہیں سکتا تھا، چناں چہ یہ نمبر ہی منسوخ ہو گیا۔
میوسکول آف آرٹ، جسے بعد میں نیشنل کالج آف آرٹس بننے کا شرف حاصل ہوا، اُس وقت پورے ملک کا واحد فنی تربیتی ادارہ تھا۔ یونیورسٹی کا فائن آرٹ ڈیپارٹمنٹ غیرمسلم لڑکیوں کے چلے جانے کے بعد اجڑ چکا تھا اور لگتا تھا کہ اپنے میوزک سیکشن کی طرح اس کا مصوری کا سیکشن بھی جلد ہی تخفیف کی زد میں آجائے گا۔ بہر حال وہاں اینامولکا احمد نے قلعہ سنبھال رکھا تھا جو اُن کی پیہم کوششوں سے آہستہ آہستہ خاصا مضبوط ہو گیا۔ اس کی سالانہ نمائشیں آرٹ کونسل کی نمائشوں سے قدرے بہتر ہوتی تھیں تاہم ان میں تخلیق سے زیادہ تعلیم کا پہلو نمایاں ہوا کرتا تھا۔ اینا مولکا کے شوہر شیخ احمد ان سے جدائی کے بعد کراچی چلے گئے تھے۔ ان کے جاننے والوں کا کہنا تھا کہ وہ بڑی صلاحیت کے تربیت یافتہ اور اپنے مقامی بزرگوں سے مختلف قسم کے فنکار ہیں مگر ان کا کام شاذ ہی کبھی دیکھنے میں آتا تھا اور کراچی جا کر تو وہ غیرملکی ناشرین کی چھاپی ہوئی نصابی کتابوں کو چتیرنے ( illustrate کرنے ) میں ایسے خضوع و خشوع سے مصروف ہوئے کہ باقی سب کچھ فراموش ہو گیا۔ خود اینا مولکا جن اظہار یاتی تصویروں کے لیے اب جانی جاتی ہیں وہ ابھی معرضِ اظہار میں نہیں آئی تھیں۔
آرٹ کونسل اور یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ کے مقابلے میں گورنمنٹ کالج کی نمائش شوقیہ فنکاروں کی جنت تھی، جس میں ہر قسم کے تجربوں کی کھلی چھٹی تھی۔ اس لیے کہ کالج میں فنونِ لطیفہ بطور مضمون پڑھائے ہی نہیں جاتے تھے۔ یہاں ایک نمائش میں حنیف رامے کی کچھ تصویریں بطور خاص شامل ہوئیں اور کیٹلاگ کا ایک صفحہ ان کی تحسین کے لیے مخصوص ہوا۔ اس صفحے کی بھرائی میرے حصے میں آئی اور یوں مصوری کے بارے میں میری پہلی نثری تحریر( انگریزی میں ہی سہی ) وجود میں آئی۔ اس کے بعد تو گویا دبستاں کھل گیا، انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں ۔ لیکن حنیف اور شمزا کی رفاقت کے علاوہ اس میں کچھ دوسرے محرکات بھی کام کر رہے تھے۔ مثلاً کباڑیوں کے پاس بکتی ہوئی ’’متروکہ‘‘ کتابیں اور رسالے جن میں مصوری کے کئی ایک جدید و قدیم اساتذہِ مغرب و مشرق کے نمونے بھی شامل تھے۔ خصوصاً لاہور سے نکلنے والے ’’اوشا‘‘ کے چند ایک شمارے جو سانیال اور امرتا شیرگل کی تصویروں سے مزین تھے۔ امرتا شیرگل کی لاہور اور شملہ میں منعقدہ نمائشوں کی روداد یں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ جوان مرگ مصورہ ایک دہائی پہلے اُس کام کا آغاز کر چکی تھی جس کی ہمیں اب بھی شد یدکی محسوس ہوتی تھی یعنی اپنے یہاں کی زندگی کا تجربہ و مشاہدہ اور ان کی موزوں نقاشی کے لیے مصوری کے نئے مکاتب سے تخلیقی استفادہ۔
حیرت کی بات کی تھی کہ آزادی سے صرف چھ برس پہلے لاہور شہر میں مرنے والی اس فنکارہ کی بنائی ہوئی اصل تصورکم ہی کہیں نظر آتی تھی ۔ عجائب گھر میں سانیال کی ایک پینٹنگ تو موجود ہے لیکن امرتا کا کوئی فن پارہ وہاں تھا تو معلوم نہیں کیا ہوا۔ اشفاق احمد کو ایک خاتون کا بنایا ہوا بے دستخط پورٹریٹ کی کباڑیے سے ملا تھا جس پر امرتا کی چھاپ موجودتھی۔ بعد میں انہوں نے یہ پورٹریٹ اسلام آباد کے نیشنل میوزیم کو دے دیا اور عجب اتفاق ہے کہ یہ بھی وہاں سے چوری ہو کر خدا جانے کہاں گیا۔ بہر حال چند ایک مطبوعہ نمونوں کے سوا برصغیر میں جدید مصوری کی اس پیشرو کے بارے میں جو بھی اس زمانے میں معلوم ہوا سنے سنائے افسانوں سے معلوم ہوا یا پھر شاکر علی جب لاہور آئے تو ان سے امرتا کی فنی اہمیت معلوم ہوئی ۔ کھنڈل والا کا تنقیدی مطالعہ اور اَین اقبال سنگھ کی سوانح اور ان میں چھپی ہوئی تصویریں تو بہت دیر سے دیکھنے کوملیں۔
یوں اپنے یہاں بھی ایبسٹریکٹ آرٹ میں زبیدہ آغا کا نام لیا جاتا تھا لیکن ان کی جوتصاویر اس وقت تک نظر پڑیں بے حد تقلیدی اور بے جان لگیں ۔ شاید وہ ایبسٹریکٹ زیادہ تھیں اور آرٹ بہت کم جیسا کہ بعد میں اُردو کا تجریدی افسانہ۔ اس وقت یہ بھی مشہور تھا کہ جو لوگ سیدھی تصویر نہیں بنا سکتے وہ الٹی سیدھی لکیریں کھینچ کر انہیں ماڈرن آرٹ کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ یہ بات خاصی حد تک درست بھی تھی کہ ان میں سے اکثر نے مصوری کی با قاعدہ تربیت حاصل نہیں کی تھی ۔ یوں تو حنيف رامے اور ان کے علا وہ احمد پرویز بھی کسی با قاعدہ آرٹ سکول میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن بزرگ مصوروں کے پاس اٹھے بیٹھے تھے اور اس سے زیادہ انہوں نے ذاتی محنت سے بہت کچھ حاصل کیا تھا۔ جو کمی رہ گئی تھی وہ شاکر علی کے وار دِشہر ہونے سے پوری ہوگئی۔
شاکر کا یہاں آنا بھی عجیب تھا۔ رام پور کی پیدائش، دہلی اور نینی تال کی تعلیم ، بمبئی اور لندن اور پیرس اور پراگ کی فنی تربیت کے بعد وہ ا ۵ ء میں کراچی آئے تو وہاں ایک سکول کی ڈرائنگ ماسٹری کے سوا کوئی روزگار نہ مل سکا۔ اتفاق سے لاہور کے میو سکول آف آرٹ میں پروفیسر شپ کا اشتہار چھپا تو درخواست دے دی اور شکرِ خدا ہے کہ لے لیے گئے ۔ آنے سے پہلے کچھ لوگوں کو کراچی سے محمد حسن عسکری کے ذریعے اور کچھ کو لندن سے ڈاکٹر اجمل کی وساطت سے بس اتنی اطلاع موصول ہوئی کہ جدید مصوری کا ایک استاد میو سکول کے سٹاف میں شامل ہونے آ رہا ہے۔ اس خبر نے نوجوان مصوروں اور دانش وروں میں ایک سنسنی سی دوڑا دی جیسے کہ سبھی لوگ ایک ایسے ہی آدمی کے منتظر تھے۔ جسے دیکھو شاکر صاحب سے ملنے جا رہا ہے اور انہیں ساتھ لے کر قہوہ خانے اور چائے خانے کے دوستوں سے ملانے لا رہاہے۔ حنیف نے بتایا کہ وہ میو سکول میں ان کے دفتر جا کر ان سے ملا ہے ۔ تعارف کیسے ہوا؟ بس جا کے دروازے سے الگ کر کھڑے ہو گئے، اندر آنے کو کہا گیا تو عسکری صاحب کا حوالہ دے دیا۔ بس پھر کیا تھا، دونوں طرف سے دو چار تصویر یں دیکھی دکھائی گئیں اور ملتے رہنے کی تاکید ہوئی ۔ بس ذرا سی دیر میں شاکر علی لاہور کے نوجوان مصوروں میں ایسے گھل مل گئے جیسے کہ ہمیشہ سے یہیں کے باشندے ہوں۔
اب یاد ہیں کہ تہہ خانے میں وہ کس کے ساتھ آئے تھے لیکن اتنا یاد ہے کہ ان کی آمد کے پہلے ہفتے میں ہی ان سے وہیں ملا قات ہوئی۔ مجھ سے پوچھا کہ آپ کو مصوری سے کیسے دلچسپی ہوئی۔ بتایا کہ دیکھنے کی حد تک تو بچپن سے تھی لیکن اشتیاق اس وقت پیدا ہوا جب عسکری صاحب کا مضمون رُوؤ( Rouault ) کے بارے میں پڑھا اور ان سے فرانسیسی سیکھنے کے دوران پتا چلا کہ فرانس کے ادبیوں اور مصوروں کے درمیان کیسے قریبی روابط قائم تھے۔ بودلیر صرف شاعر نہ تھا اپنے دور کا بہت بڑا ناقد ِفن بھی تھا، سیزان کاز ولا سے تعلق ، پھر اپولینیر اور ماز ژاکوب کی کیوبسٹ ( Cubist ) مصوروں کے ساتھ دوستی اور سرئیلزم کی تحریک میں متعدد فنون کے لوگوں کا اشتراک ِعمل۔ کہنے لگے کہ لاہور میں تو پہلے سے یہ روایت موجودہے۔ چغتائی اور تاثیر کا انہوں نے حوالہ دیا، بمبئی اور کلکتے کی ملی جلی محفلوں کا ذکر کیا لیکن یہ جان کر انہیں بڑا تعجب ہوا کہ مرقعِ چغتائی کی اکثر مبینہ illustrations بطور تصاویر کے پہلے تیار ہوئی تھیں اور غالب کے شعر ان پر بعد میں چپکائے گئے تھے، یہ بھی کہ تا ثیر صاحب نے غالباً یہ کا م عبدالرحمٰن بجنوری کے ’’محاسن کلامِ غالب‘‘ کے ایک پیر ے سے متاثر ہو کر کیا ہوگا۔ کہا کہ خیر جیسے بھی کیا ہو، یہ کیا کم ہے کہ حکیم یوسف حسن کے رسالہ ’’نیرنگِ خیال ‘‘اور بعد میں ’’ کارواں‘‘ کے سال ناموں نے عام پڑھنے والوں میں مصوری کا ذوق پیدا کیا۔ یہاں تو اس پس منظر کا ردعمل شروع ہو چکا تھا ، اقبال کا شعر یاد آ گیا:
اے اہل نظر ، ذوق ِنظر خوب ہے لیکن
جوشے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا؟
کہنے لگے وہ لوگ اپنا کام کر چکے، اب ہماری باری ہے، دیکھیں ہم سے کیا بن آتا ہے۔
شاکر علی میں اور ہم میں بڑا فرق یہ تھا کہ ان کا افق وسیع تھا اور ہم اپنی گھٹن میں گھٹے بیٹھے تھے۔ ہم میں تلخی اور شدت بہت تھی اور اسی لیے آپس میں لڑتے جھگڑتے بہت تھے۔ اب اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ ۵۲ء سے ۵۸ ء تک، یعنی جب تک میرا لاہور کے ادبی اور فنی ماحول سے واسطہ رہا، یاروں میں جو بھی لڑائی بھڑائی ہوئی شاکر علی کی غیر موجودگی میں ہوئی ۔ وہ کہتے تھے: یار ، شعر سناؤ ، تصویریں دیکھو اور گھر جا کر جو جی میں آئے لکھو۔ میرا احوال اُلٹا تھا۔ سمجھتا تھا کہ جو بھی اختلاف ہے یک بیک میز پر آجائے اور آج ہی اس کا فیصلہ ہوجائے ۔ یاروں کی جان عذاب میں تھی۔
شاکر علی نے پہلی ہی ملاقات میں میوسکول آنے کا کہا اور بتایا کہ یہاں آتے ہی انہوں نے کچھ نیا کام شروع کیا ہے۔ ایک دو تصویریں تقر یباً مکمل ہیں اور ایک دو پر وقتاً فوقتاً کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے۔ ہاں ایک بات بھول گئی۔ میں نے پوچھا تھا کہ سری لنکا کے مصور جورج کیٹ کے بارے میں بتائیے کہ ان سے بمبئی میں ملے ہوں گے اور ان کا کام بھی دیکھا ہو گا ۔ پوچھا کہ آپ اسے کیسے جانتے ہیں؟ بتایا کہ ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ میں چھپنے والے اے ایس رمن کے آرٹ کالم کے ذریعے تعارف ہوا تھا اور کچھ تصویروں کے عکس بھی اخباروں رسالوں میں دیکھے۔ پھر بمبئی کے کتب پبلشرز کی چھائی ہوئی ’’گیتا گووندا‘‘ ہاتھ لگی، اس میں جا بجا کیٹ کی ڈرائنگز شامل ہیں ۔ کہنے لگے: ان سے بمبئی میں کئی برس ساتھ رہا۔ یہ کام انہوں نے اس وقت شروع کیا تھا جب میں لندن جا رہا تھا اور یہ کتاب میری غیرحاضری میں چھپی ہو گی ۔ آپ آئے تو اسے ساتھ لیتے آئیے ۔
اگلے ہی دن شا کر کے دفتر جا پہنچا۔ چند ایک بنی ادھ بنی تصویر یں دیکھیں تو یوں لگا جیسے جو کچھ کتابوں میں پڑھتے تھے سب زندہ ہو کر سامنے آ گیا۔ ” گیتا گووندا‘‘ دکھائی تو کچھ دیر جورج کیٹ اور بمبئی کے دوسرے ساتھیوں مقبول فدا حسین، ڈی سوزا، اکبر پدمسی وغیرہ کی باتیں کرتے رہے۔ میں نے پوچھا کہ سنا ہے وہاں آپ لوگوں نے انجمن ترقی پسند مصور ین بنائی تھی، اس کا انجام کیا ہوا؟ ہنس کر کہنے لگے: ارے، وہ تو ہمارے دوست سبط ِحسن کی وجہ سے ہوا۔ میری دلچسپی کی بات یہ تھی کہ ایک موبائل قسم کا آرٹ یونٹ بنے جو گاؤں گاؤں جا کر کام کرے اور مزدوروں ،کسانوں کو مصوری کے نمونے دکھائے ۔ لیکن مصوری بہت مہنگا میڈیم ہے، پھر کہیں سے ٹرک کا انتظام نہ ہو سکا۔ میرے علاوہ حسین کو بھی یہ خبط تھا اور سنا ہے کہ اب وہ اپنے طور پر یہ کام کرتا رہتا ہے۔ لیکن یہاں معلوم نہیں کیا گنجائش نکلے۔ پرابلم یہ ہے کہ مصوری سر پرستی کی محتاج ہے جو غریب غرباء کے بس کی بات نہیں ۔ سرکار ہی کچھ کرے تو کرے۔ میں نے کہا: سرکار تو اپنی سماجی اور سیاسی مصلحتوں سے باہرنہیں نکل سکتی۔ ہاں یہ بات تو ہے، انہوں نے کہا، پھر بھی کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔ پھر بھی کے جملے پر مجھے فراق کی غزل یاد آ گئی:
کسی کا کون ہوا یوں تو عمر بھر پھر بھی
یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی
شاکر عینک اتار کر شیشے صاف کرنے لگ گئے ۔ شاید یہ شعر سیدھا کلیجے میں جا لگا مگر سنبھل کر کہنے لگے: یہ ’’گیتا گووندا‘‘ جو ہے اس کی کوئی اور کا پی مل سکتی ہے؟ میں نے کہا: دیکھوں گا۔ کتب فروشوں کے یہاں تلاش کیا ،نہیں ملی تو سوچا کہ منگوا لیں گے۔ فی الحال یہی کاپی شاکر صاحب کی نذر کرتے ہیں ۔ سرورق پر پیشکش لکھنے بیٹھا تو ایک نظم سی بن گئی:’’خالق کے نام‘‘ جو فلائی لیف پر لکھ دی اور اس کے ساتھ ہی وہ کتاب پیش کر دی۔ کوئی نقل اپنے پاس نہ رکھی ، خیال تھا کہ دونوں یہیں ہیں تو پھر کبھی اتار لیں گے ۔ لیکن نہ یہ بات یادر ہی نہ شاکر کی زندگی میں اس کا موقع ملا۔ مدت کے بعد شاکر علی میوزیم میں تلاش کیا تو نہیں تھی۔ ایک دن زاہد ڈار نے بتایا کہ اسے ایک کباڑیے سے اس کتاب کی ایک کاپی ملی ہے جس کا سرورق غائب ہے اور اگلے صفحے پر ایک نظم لکھی ہوئی ہے لیکن کتاب کا سائز ایسا ہے کہ کہیں رسالوں کے انبار میں دب گئی ہو گی۔ ڈھونڈنا بہت مشکل ہے۔
مصوری کا ردعمل نظم کی صورت میں، جس کا دوسری مرتبہ تجر بہ ہوا اور بھی کبھی کبھار ہوتا رہا، یقیناً کافی نہ تھا۔ شاکر کے حوالے سے تجریدی مصوری پر نثر میں کچھ لکھنے کو جی چاہا۔ اتفاق سےجلد ہی انتظار حسین نے ماہنامہ ’’خیال‘‘ کا ڈول ڈال دیا۔ طے ہوا کہ اس میں ہر مہینے ایک فیچر آرٹ پر چھپے اور ساتھ میں ایک آدھ تصویر بھی ۔ قرعہِ فال اس دیوانے کے نام پڑا جو اُن دنوں کوئی قلمی نام اختیار کرنے کے چکر میں گرفتار تھا۔ خیر ’’کلا بھید‘‘ کے زیرِ عنوان ’’موج دریا ‘‘نے’’شدھ کلا‘‘ پر لکھنا شروع کیا اور تان ہر مرتبہ شاکر علی پرٹوٹتی، جس کی ایک نہ ایک تصویر ساتھ چھپتی ۔ لیکن یہ سلسلہ صرف تین شماروں تک جاری رہ سکا کہ اس کے بعد رسالے کے مالک نے ہاتھ کھینچ لیا اور ہم سٹپٹاتے رہ گئے ۔
تاہم جلد ہی شاکر کے ساتھ نوجوانوں کے میل جول سے نئی مصوری کی سرگرمیاں تیز ہونا شروع ہو گئیں ۔ سال ڈیڑھ سال میں چند ایک نے ڈھیروں تصویر یں تیار کر ڈالیں ۔ سب سے پہلے احمد پرویز نے ، کہ جن بھوت کی طرح کام کرتا تھا، اپنی خصوصی یک فردی نمائش کا انتظام کیا ۔ کیٹلاگ کے ساتھ ایک آدھ تو صیفی یا توضیحی مضمون بزبان انگریز ی چھاپنے کا رواج تھا ، یہ بھی اپنے ہی ذمے لگا۔ اس کے بعد شمزا نے یہی کام کیا اور پھر یہ فریضہ اسی خاکسار کو انجام دینا پڑا۔ چناں چہ اس زمانے میں اپنا لقب آرٹ کر ٹک ہو کر رہ گیا جسے میں یا شاکرعلی سنتے تھے تو خوب ہنستے تھے۔ لیکن بعد میں کہتے ہیں کہ شاکر علی کو یہ زمانہ بہت یاد آیا کرتا تھا۔ بلکہ آخر عمر میں، ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو کے دوران، انہوں نے میرا نام ان لوگوں میں شامل کر دیا جن سے مل کر اُن کو تقویت محسوس ہوئی ۔سہیل احمد خان نے بھی کچھ ایسا ہی ذکر کیا ہے۔
لیکن شکر ِخدا کہ ہماری آپس کی ملا قا تیں اس با ہی غرض مندی سے آلودہ نہ ہوئیں ۔ پھر بھی وہ یہ ضرور چاہتے تھے کہ میں فنِ مصوری کی وسعتوں اور گہرائیوں سے اچھی واقفیت بہم پہنچاؤں تا کہ نقدِفن کے لیے کیل کانٹے سے لیس ہو جاؤں ۔ میرے لیے ان کی ہمت افزائی بہت تھی اور جب بھی ہماری الگ ملاقات ہوتی میں ان سے کرید کرید کر کچھ نہ کچھ پوچھا ہی کرتا۔ لاہور سے زیادہ یہ موقع کراچی میں ہاتھ لگتا جہاں ہم دونوں گرمیوں کی چھٹیاں کاٹنے جایا کرتے تھے۔ انہیں یہ تجسس تھا کہ یہ آدمی ، جو مختلف زبانوں کا ادب پڑھا کرتا ہے، فتون ِلطیفہ کی تاریخ اور تھیوری میں کیوں الجھنے لگا ہے؟ ایک دن میرا تعلیمی پس منظر معلوم کرنےکے درپے ہوئے اور یہ جان کر مسرور کہ مجھے ہائی سکول اور کالج کے ابتدائی زمانے میں جیومیٹری کا جنون ہوا کرتا تھا۔ گھر یلو پس منظر میں انہیں حکیموں کے خاندان سے تو کوئی خاص دلچسپی نہ ہوئی لیکن ننھیال میں زردوزی کے ہنر کا ذکر سن کر بہت خوش ہوئے۔ جب یہ بتایا کہ جارج پنجم کے دربار کے لیے سلمے ستارے کا سارا کام میرے نانا نے تیار کیا تھا تو پوچھنےلگے کہ ڈیزائن کہاں سے حاصل کرتے تھے؟ گھر میں سنا ہوا تھا کہ دہلی ، آگرے اور فتح پور سیکری کی عمارتوں میں فرش پر لیٹ کر چھت کے ڈیزائن اتار کر لائے تھے۔ یہ بتایا تو کہنےلگے: خدا کی قسم میں نے بھی ویٹی کن میں سسطین چیپل کی چھت پر مائیکل اینجلو کا بنایا ہوا کام، فرش پر ہی لیٹ کر دیکھا تھا ۔ اس کے بعد پھر کبھی انہوں نے تصویری فنون میں میری دلچسپی کو شک کی نظر سے نہیں دیکھا۔
البتہ الٹا میں نے سوال کیا کہ خود آپ کو تصویروں سے کب اور کیسے رغبت پیدا ہوئی ؟ کہاکہ میرے دادا رام پور سٹیٹ لائبریری کے مہتمم تھے ۔ بچپن میں ان کے دفتر چلا جاتا تو وہ کسی نہ کسی قدیم خطی نسخے کو دیکھ رہے ہوتے۔ کئی ایک نسخوں میں پرانے استادوں کی بنائی تصویریں ہوا کرتی تھیں جن کی طرف نظر پڑتی تو دیر تک دیکھتا رہتا۔ ہوتے ہوتے یہ دستور سا بن گیا کہ میں جاتا تو تصویروں والے چار پانچ مخطوطے نکال کر میرے سپرد کر دیتے اور خود اپنے کام میں مصروف ہو جاتے۔ اس سے بڑا شوق پیدا ہوا۔ پوچھا کہ آپ کے دادا کا نام؟ معلوم ہوا کہ مولوی احمد علی خاں ۔ یاد آیا کہ اس نام کے ایک عالم کا لکھا ہوا ’’تذکرہ کا ملا نِ را م پور‘‘ کبھی دیکھا تھا۔ ہاں ہاں وہی ، شاکر کہنے لگے، مگر یہ تم کیا کیا پڑھتے رہتے ہو؟
اکثر کہتے تھے کہ کسی بھی فن میں کتابوں کے بغیر گزارا نہیں لیکن صرف پڑھنے سے کچھ سمجھ میں نہیں آتا ،تھوڑا بہت سیر سپاٹا ، دیکھنا بھالنا، سننا سنانا بھی چاہیے۔ میں کہتا کہ اتنا تو مجھے بھی معلوم ہے لیکن اپنی دوڑ تو بس خیبر سے کراچی تک ہے سو کر تے رہتے ہیں ۔ پوچھا کہ ڈھاکہ اور چٹاگانگ بھی نہیں دیکھا؟ کہا کہ ابھی تک تو نہیں ۔ کہنے لگے: کم از کم وہاں تو ہو آؤ، زین العابدین سے ملو، اس کا اور اس کے ساتھیوں کا کام دیکھو، بہت اچھا ہے۔ جیمنی رائے کی بھی بہت سی چیز یں وہاں ملیں گی لیکن اب اس کا بہت سا کام فارمولائی ہو گیا ہے ۔ لیکن بنگال کا فوک آرٹ تو ہے ہی اور پھر زین العابدین جو امرتا شیرگل کے بعد برصغیر کی جدید فنی تاریخ کا سب سے بڑا نام ہے۔ وہاں جانے کا موقع تو بہت دیر سے فضائیہ کی ملازمت کے دوران ملا مگر شاکر کی بات کے چند ہی دنوں بعد ڈھاکہ سے دستاویزی فلموں والے نذیر احمد لاہور آئے تو زین العابدین کے دس بارہ لتھوگراف ساتھ لیتے آئے۔ ان میں وہ کیفیت تو نہیں تھی جو قحط ِبنگال کے خاکوں یا سنتھال ناریوں کی رچناؤں میں تھی لیکن یہ معلوم ہوتا تھا کہ تجریدی ہوئے بغیر بھی تھوڑی سی لکیروں سے کیا کیا کام لیا جا سکتا ہے۔
تجریدی مصوری شاکر کی شناخت تھی لیکن تصویر کشی کے دوسرے پیرایوں کے سلسلے میں انہوں نے بھی تعصب سے کام نہیں لیا۔ رئیلزم کے بارے میں کہتے تھے کہ اس میں بھی رئیلزم کے پار جانے کی خاصی زور دار کوشش ملتی ہے۔ ایک مرتبہ بودلیر کے محبوب مصور دلا کروا کا ذکر آیا تو کہنے لگے: یار، اس نے کوئی گھوڑے بنائے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے خودگھڑ کے بنائے ہوں اور پھر ان میں جان بھی ڈال دی ہو۔ ایسا رئیلزم نہ اللہ بخش کے یہاں ملے گا نہ روی ورما کے یہاں ۔ ایک بار مجھ سے پوچھنے لگے کہ تم چغتائی صاحب سے اتنا چڑتے کیوں ہو؟ میں نے کہا کہ ان کے یہاں دلبری بہت زیادہ ہے، قاہری بہت کم بلکہ شاید بالکل نہیں ۔ کہنے لگے : ٹھیک ہے مگر پھر اقبال نے ’’مرقعِ چغتائی‘‘ کا دیباچہ کیوں لکھا؟ کہا کہ اس دیباچے میں جو نظر یہِ فن بیان ہوا ہے اس کا سراغ چغتائی کے یہاں نہیں ملتا۔
کہنے لگے کہ انہوں نے تو اقبال کو بھی پینٹ کیا ہے۔ عرض کیا کہ یہ کام تو انہوں نے اقبال کی زندگی میں شروع کر دیا تھا ، تبھی تو یہ کہا گیا:
شاہين من بصید ِپلنگان گز اشتی
ہمت بلند و چنگل ازیں تیز تر بده
( تم نے میرے شاہین کو چیتوں پر چھوڑ دیا، اسے بلند تر ہمت اور تیز تر چنگل بخش دیتے تو بہتر ہوتا)
پوچھنے لگے: اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ شعر چغتائی صاحب پر کہا گیا ؟ بتایا کہ خود چغتائی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ شاہین کی تصویر بنا کے اقبال کو دکھائی تو انہوں نے یہ فرمایا۔ حیرت ہے یار، شاکر نے کہا، چغتائی کو فارسی شعرمفہوم نہ ہوا۔ میں نے کہا: جادو وہ سر چڑھ کر بولے۔ اگر معلوم ہو جاتا تو درج ہی کیوں کرتے۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ اس بہانے ہمیں بھی پتا چل گیا ورنہ ’’زبور عجم ‘‘میں تو یہ شعر ایک دعا ئیہ غزل میں آتا ہے: ”یارب درون ِسینہ دلِ با خبر بده‘‘۔ پھر بھی ایک بات ہے، شاکر نے کہا، ان کی ایچنگز میں لائن ورک بہت اچھا ہے۔ کہا کہ ییلو بک ( Yelow Book ) والے بیررڈزلے ( Beardsley ) بہت یاد آتے ہیں ۔ کہنے گے: تم نے بھی لگتا ہے اس جرگے کے مصور وسلر ( Whistler ) کی کتاب گھول کر پی رکھی ہے: The Gentle Art of Making Enemies - عرض کیا کہ Gentle ہوتو کیا مضا ئقہ ہے۔ ہنستے رہے مگر آخر تک مان کے نہ دیا کہ چغتائی کی فنکاری کا منکر ہوا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ جس رات ان پر فالج گرا، اسی شام کو انہوں نے چغتائی کی تعزیتی تقریب پر حلقے سے خطاب کیا اور سننے والے کہتے ہیں کہ خلاف ِمعمول اچھی خاصی تقریر کرتے ہوے بزرگ منصور کو فراخ دلانہ خراج ِتحسین پیش کیا۔
یہ فراخ دلی محض تعزیتی تقریبات تک محدود نہ تھی۔ چغتائی ہوں یا اللہ بخش، اینا مولکا ہوں یا شیخ احمد بلکہ خالد اقبال ہوں یا مبارک حسین، وہ اپنے سے مختلف انداز نظر رکھنے والوں کے لیے ایک نرم گوشہ ضرور رکھتے تھے۔ یار، کوئی تو بات ہوگی جو اچھے خاصے لوگ انہیں پسند کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ تجریدی مصوری اور جدید فن کے دوسرے اسالیب کو طفلانہ سمجھتے تھے، ان کی بات بھی آرام سے سن لیتے تھے اور زیادہ سے زیادہ یہ کہتے تھے کہ صاحب، جو کچھ آپ فرماتے ہیں اس کے مطابق تو پکاسو اور ماتیس ، براک اور مودیلیانی جیسے جدید اساتذہ طفل ِمکتب ٹھہر تے ہیں جب کہ ان لوگوں کی فنی مہارت میں شبہے کی گنجائش نہیں۔
خود انہوں نے اپنی فنی زندگی کے مختلف مراحل میں بنگال سکول، مغل مصوری، اجنتا کے فریسکو ، جین مصوری بلکہ ایرانی اور چینی ، جاپانی فنون سے استفادہ کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی۔ کہتے تھے کہ جامعہ ملیہ دہلی میں ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی سے مل کر مغل ایرانی طرز کا کام کیا کرتا تھا۔ حال ہی میں جامعہ کے استاد شمیم حنفی صاحب سے پچھوایا گیا کہ اس کام کا کوئی نمونہ و ہاں تلاش کر کے بتائے تو معلوم ہوا کہ اس زمانے کی چیزوں کا اب کچھ پتا نہیں چلا۔ ایک دن بہزاد کی تعریف کر رہے تھے اور سامنے ایک مطبوعہ تصویر دھری تھی جس میں حمام کا منظر تھا۔ میں نے شرارتاً پو چھا کہ یہ حمام شاہی تو نہیں لگتا؟ کہنے لگے: کیوں؟ میں نے کہا: اس میں بانس پر چڑھا کر تو لیے جو سکھائے جارہے ہیں۔ کہنے لگے کہ پانی گرم کرنے کا ٹینک جو اونچا بنا ہوا ہے۔ میں نے کہا: بادشاہوں کو تولیے سکھانے کی کیا جلدی؟ پھر بتایا کہ داتا صاحب کے سامنے جو گرم حمام ہیں ان میں اب بھی تو لیے اسی طرح سکھائے جاتے ہیں۔ کہنے لگے: چلو، دکھاؤ۔ وہاں گئے تو کہنے لگے: یہ نکتہ عجیب نکالا، اس سے تو پوری تصویر کا ماحول ہی بدل جاتا ہے۔ بالکل ٹھیک ہے، یہ کوئی شاہی حمام ہیں، باقی تصویر میں بھی عام لوگ ہی نظر آتے ہیں ۔ پھر کہا کہ تم اپنے یہاں کے ماحول سے خوب واقف معلوم ہوتے ہو۔ اس دن نذیر بنگالی کے ساتھ جو تم نے اندرونِ لاہور دکھایا تو کیا کیا یاد آیا۔ کہیں رامپور، کہیں پرانی دلی اور کہیں لکھنؤ کی جھلکیاں ۔ اسی لیے تو میں کہتا ہوں کتابیں پڑھنا کافی نہیں ، تمہیں یورپ کی خوب سیر کرنی چاہیے،تبھی جدید مصوری سمجھ میں آئے گی بلکہ جدید ادب اور موسیقی بھی۔ وہ رلکے کی شاعری اور باخ کی موسیقی کے بڑے شیدا تھے اور اپنے یہاں کی شاعری اور کلاسیکی بھی بڑے شوق سے سنتے تھے ۔ فیض سے بعد میں ان کا خاصا میل جول ہو گیا تھا لیکن راشد کو زیادہ پسند کرتے تھے۔ یہ شکایت البتہ کرتے تھے کہ جوش کی طرح راشد بھی روح کو نہیں مانتے جب کہ ہم تو ’’بے جان چیزوں‘‘ میں بھی جستجو کرتے ہیں۔ اقبال کو رلکے سے مماثل سمجھتے تھے بس اتنا کہ اقبال بعض اوقات بہت ’’لاؤڈ‘‘ ہو جاتا ہے۔
’’لاؤڈ‘‘ چیز چاہے وہ لفظوں میں ہو یا رنگ و نغمہ میں انہیں بے لطف کر دیتی تھی حتیٰ کہ ’’لاؤڈ‘‘ قسم کی تجریدیت بھی۔ ’’شدھ کلا‘‘ پر پہلا مضمون چھپا تو اشفاق احمد نے انتظار کو لکھا کہ یہ ’’موجِ دریا‘‘ صاحب اتنی اچھی باتیں کر سکتے ہیں تو اس قدر جھجکتےکیوں ہیں، ’’دھڑلے داری‘‘ کیوں نہیں کرتے؟ شاکر سے پوچھا کہ آپ کی تعریف دھڑلے سے کی جائے تو کیا زیادہ پسند آئے گی؟ کہا کہ ہرگز نہیں۔ جھجکتا وہی ہے جسے دوسری طرف کا کچھ پتا ہو اور جد ید مصوری تو طرفِ ثانی کو نظر انداز کرنا پسند ہی نہیں کرتی ۔ یہی تو فن کی جدلیات ہے جسے ہمارے اکثر جد ید لوگ بھی نہیں سمجھتے۔ تم نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ جدید ہونے سے آج کا فنکار اینٹی کلاسیکل نہیں ہو جاتا اور یہ بھی درست ہے کہ کلاسیک کے ظاہری مقلد ین کی طرح جعلی تجرید پسند بھی نقالی کرتا ہے، پکاسوکی یا براک کی ۔
شاکر کی چند ایک تصویریں دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ جعلی تجرید پسند نہیں ہے، نہ اینٹی کلاسیکل ۔ لکھا تھا کہ اس کے یہاں ایک کلاسیکی طمانیت ایک جد ید شکستگی سے سر بہ گریبان نظر آتی ہے۔ یوں اس دور کی تصویروں میں تناؤ کی کیفیت بہت تھی جیسے دو برابر کی قوتیں آپس میں ٹکرا رہی ہوں ۔ عسکری صاحب نے ٦۰ ء تک کی تصویریں دیکھ کر تضادات کے تصادم کی طرف توجہ دلائی تھی ۔ تقریباً اسی برس صفدر میر نے لکھا تھا کہ شا کر کے نقوش تجریدی صورت میں بھی با معنی ڈرامائی کیفیتوں کا اظہار کر تے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہ ’’میں نے ایسا کوئی فنکار نہیں دیکھا جس سے اس کے معاصرین نے اتنی ٹوٹ کر محبت کی ہو جیسی شاکر علی کو لاہور کے مصوروں اور قلم کاروں سے ملی۔‘‘
تاہم یہ محبت فورا ًکے فورا ًہی نہیں مل گئی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس زمانے میں على امام جب بھی لاہور آتے تو اپنے دوست معین نجمی سے مل کر شاکر کے ساتھ شدید بحث کرتے اور تجرید، مکعبیت اور سر رئیلزم کو بیک وقت رد کرنے کی کوشش ۔ کراچی میں صادقین کی بھی ان دنوں یہی کیفیت تھی۔ یہ لوگ کسی نہ کسی طرح تاثر یت کی روشنی تو دریافت کر چکے تھے لیکن اس سے زیادہ جاننے کو تیار نہیں تھے ۔ میں نے علی امام سے پوچھا کہ شاکر سے آپ کیسے ملے ؟ انہوں نے کہا کہ بڑے بھیا یعنی رضا نے پیرس سے لکھا تھا کہ شا کر لاہور میں ہے، اس سے ملتے رہا کرو۔ پھر ایک دن شاکر علی نے زچ ہو کر علی امام سے کہا کہ تم تجرید وغیرہ کو جانے دو، یہ بتاؤ کہ تمہیں تا ثریت کے بعد سیزان بھی نظر آیا کہ نہیں؟ خودعلی امام نے شاکر کی موت کے بعد لکھا ہے کہ اس ایک بات نے اس کے پورے رویے کو بدل کر رکھ دیا۔ تقریباً ایسی ہی کیفیت آہستہ آہستہ صادقین کے یہاں بھی نظر آئی اگرچہ بعد میں صادقین شاکر علی سے خاصا مختلف ہو جاتے ہیں۔
جیسا کہ انتظار حسین نے لکھا ہے شاکر علی عسکری صاحب کی طرح بہت کم گفتگو کرتے تھے اورفن کے بارے میں دانشورانہ بحث میں تو بالکل کوئی حصہ نہیں لیتے تھے۔ یقیناً یہ بات بڑی حد تک درست ہے لیکن جس طرح عسکری صاحب مجلسی کم سخنی کے باوجود پڑھاتے بھی تھے، اسی طرح شاکر علی تھوڑے سے لفظوں میں بہت کچھ سمجھا جاتے تھے۔ میرے ساتھ تو لگتا ہے انہوں نے خاصی شفقت برتی اور فرانسیسی سیکھنے میں میری رغبت دیکھ کر جد ید مصوری کے فن پر اپنے استاد آندرے لوت کی فرنچ کتاب بھی مجھے عنایت کر دی۔ مصوری کے مطا لعے اورتفہیم کے لیے انہوں نے مجھ پر جو محنت کی اور جو وقت صرف کیا وہ میرے خیال میں خود یورپ جا کر بھی شاید ہی کہیں سے ملتا تو ملتا۔ انہوں نے مصوری کے علاوہ ادب میں اعلیٰ تعلیم کی تحصیل پر بھی بہت زور دیا اور جب انہیں معلوم ہوا کہ والد کا کاروبار ٹھپ ہو جانے کے بعد میرا کیمبرج جانا رہ گیا تھا انہوں نے سرکاری و ظیفے کے حصول کے لیے کوشش کی بے حد تاکید کی لیکن ایک نہ ایک ایسا مزاحم پیش آتا رہا کہ بات بنتے بنتے رہ جاتی تھی۔
۵۸ ء میں، میں نے فضائیہ کی ملازمت اختیار کر لی جس نے مجھے اور کوئی نقصان پہنچایا ہو یا نہیں ، مصوری اور فرانسیسی اور شاکر علی سے یقیناً دور کر کے رکھ دیا۔ تھوڑا بہت اور کبھی کبھارکا رابطہ تو پھر بھی قائم رہا لیکن اگلے سترہ برس میں نقد ِفن کے باب میں مجھ سے بہت کم کچھ لکھاگیا، یہاں تک کہ شاکر علی کے جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکا ، نہ اس کے بعد منعقد ہونے والی تقریبات میں ۔ مدت کے بعد ۱۹۸٢ ء میں جب پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس نے شاکر علی پر ایک مجموعہِ مضامین میں میرے اولیں مضمون کو شامل کرنا چاہا تو ایک نیا مضمون لکھنے کو جی بھر بھرایا ۔ اس کے لیے پشاور سے لاہور آ کر شاکر علی میوزیم میں کچھ دن گزارنا ضروری تھا لیکن پی این سی اے سے اتنا بڑا اہتمام نہ ہو سکا۔
شاکر علی کے فن پر مفصل تنقیدی مطالعے کا لکھنا اب تک مجھ پر قرض چلا آتا ہے ۔ اس کی جگہ محض چند ایک یادداشتیں سنا کے رہ جانا کافی تو نہیں لیکن چھ برس کی وہ مدت، جو مصوروں کے درمیان گزری ، اپنی جگہ کئی ایک سوال پیدا کرتی ہے جن کا نقدِ فن سے زیادہ سماجی اور تہذیبی تاریخ سے تعلق ہے۔ مثلاً یہ کہ مختلف فنون لطیفہ سے ربط رکھنے والوں کا آپس میں قریبی رابطہ کیوں ضروری ہے اور یہ ربطِ با ہم قائم رکھنے کے سلسلے میں اتنی مشکلات کیوں پیش آتی ہیں؟ یہ بھی کہ چھٹی دہائی میں جب یہ امکان پیدا ہوا تو اس سے کیا اجتمائی نتائج مرتب ہوئے؟ اور سب سے زیا دہ یہ کہ اب ایسے کیوں نہیں ہوتا اور کس طرح ایسی صورت ِحال پھر سے پیدا کی جائے؟
اتنے سارے سوالوں کا مختصر جواب دینا، جیسا کہ شاکر علی دیا کرتے تھے، کوئی آسان کام نہیں ۔ پھر بھی کہا جا سکتا ہے کہ نو آزاد ممالک میں سماجی سطح پر تہذیبی سرگرمیوں کو جاری رکھنا اور ان کے بارے میں سوچ بچار کو رواج دینا بے حد ضروری بھی ہے اور بے حد مشکل بھی ۔ اس کےلیے لازم ہو گیا ہے کہ فنکاروں اور دانشوروں کے مابین ، ادیبوں اور مصوروں ، موسیقاروں اور ماہرین ِتعمیرات بلکہ ذرائع ابلاغ میں صاحب ِنظر کارکنوں کے درمیان بھی ذاتی سطح پر اور تہذیبی اداروں کی شکل میں باہمی تعاون کی فضا پیدا کرنے کے لیے اپنے اپنے طور پر کام کیا جائے ۔ یہ کام نہ سرکاری محکموں سے ہوسکتا ہے نہ بین الاقوامی سر پرستی میں چلنے والے مبینہ ’’غیرسرکاری اداروں‘‘ (این جی اوز )کے ذریعے ۔ اس کا فطری ماڈل تو وہی ہے جو ایک صدی بھر، انیسویں صدی کے وسط سے لے کر بیسویں صدی کے وسط تک، فرانس میں چلتا رہا لیکن چند ایک پسماندہ اور عقب افتادہ ملکوں میں بھی اس طرح کی کچھ کوششیں ہو چکی ہیں جن میں ہمارے یہاں چھٹی دہائی کی کارگزاری ایک ایسی مثال ہے جو ناممکنات میں شامل نہیں۔
اس چھٹی دہائی نے ہمیں کیا دیا، یہ جاننے کے لیے بہت سے مصوروں اور بہت سے ادیبوں کی انفرادی اور مجموعی کارکردگی پر ایک نظر ڈالنی پڑے گی جس کی ضرورت کا احساس بھی بہت کم ہے۔ تاہم جس کسی کو پاکستان میں مصوری کی تاریخ سے تھوڑی بہت واقفیت ہو، یہ جان سکتا ہے کہ اس مختصر سے دور میں بین الاقوامی فنی تحریکوں کے خلاف ہمارے مقامی تعصبات کے بہت سے بند ٹوٹ گئے تھے اور یہ جو تازہ تر مصوروں کا ایک سیلاب سا اب آیا ہوا ہے، اس کے بغیر وجود میں ہی نہ آسکتا تھا۔ آج کوئی بھی آرٹ ہسٹری ، مثلاً اعجاز الحسن صاحب کی عمدہ تصنیف ’’پینٹنگ ان پاکستان‘‘ ، موجودہ ہوائے تغیر کے ماخذ کی تلاش میں شاکر علی کے دور پر توجہ کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔ پھر بھی عجب اتفاق ہے کہ ایسی شاندار کتاب میں بھی چھٹی دہائی کی بنی ہوئی بہت کم تصویریں شامل ہیں۔ پی این سی اے نے شاکر علی پر جو مجموعہِ مقالات بارہ برس پہلے شائع کیا تھا اس کے ٢٣٢ صفحات میں شاکر علی کی بنائی ہوئی صرف دو تصویریں شامل ہیں، ایک پورٹریٹ اور ایک مصورانہ خطاطی کا نمونہ لیکن جس شاکر علی نے کاروانِ مصوری کے قافلہ سالار کا فریضہ ادا کیا تھا اس کی نمائندگی ان مثالوں سے نہیں ہو سکتی۔ ایک لحاظ سے یہ بھی غنیمت لگتا ہے کہ اس سے پہلے مجلس ترقیِ ادب نے عبدالرحمٰن چغتائی پر جو مجموعہِ مقالات شائع کیا تھا اس میں چغتائی کی ایک بھی تصویر شامل نہیں تھی۔ وزارتِ مطبوعات نے کبھی شاکر علی پر ایک بروشر نکالا تھا جو اب نایاب ہو چکا ہے۔ شاکر علی میوزیم نے ایک چھوٹا سا پورٹ فولیو شائع کیا ہے لیکن شاکر علی کے سوا سب کچھ ہوتا ہے۔ پچھلے مہینے پی این سی اے کے ہیڈ آفس نے اپنے پروگرام میں یہ خبر چھاپی تھی کہ ٢٠ دسمبر کو شاکر علی میوزیم میں چھٹی دہائی کی تصاویر نمائش کے لیے رکھی جائیں گی۔ خود میوزیم سے ایسا کوئی دعوت نامہ جاری نہ ہوا تو ٹیلی فون کرنے پر معلوم ہوا کہ مطلوبہ تصاویر جمع نہ ہو سکیں اس لیے فی الحال نمائش ملتوی کر دی گئی ہے یعنی جب یہ دلِ لخت لخت جمع ہو جائے تو دعوتِ مژگاں بھی مل جائے گی۔ چناں چہ اب دعائے خیر کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے۔
لیکن بالفرض ایسا ہو بھی جائے، بلکہ اس دور کی تصویروں کا ایک نمائندہ مرقع مرتب ہو کر شائع ہو جائے اور اُس کے لیے ایک تقریب خاص بھی منعقد ہوتو زیادہ سے زیادہ چند ایک محدود اشاعت والے انگریزی اخباروں میں ایک آدھ خبر یا ر پورٹ چھپ جائے گی اور آدھ تہائی تبصرہ۔ کثیر الاشاعت اردو روز ناموں کے لیے تو مصوری شجرِ ممنو نہ بن چکی ہے اور ادبی رسالے اپنی اپنی اجارہ داری قائم اور بحال رکھنے میں بے حد مصروف ہیں ۔ ان کے قلمی معاونین، مدیران ِکرام کی انا کی مالش کرنے کے سوا کسی کام کو اپنا تہذہبی فریضہ ہی نہیں تھے ۔ آرٹ کا کوئی رسالہ پورے ملک میں موجود نہیں ۔ آرٹ کالجوں کے میگزین بھی اس قسم کے موضوع پر کوئی خاص نمبر نکالنے کا خطرہ مول نہیں لیتے۔
باقی رہا اب کسی ایسی صورت حال پیدا کرنے کا سوال تو اس کے لیے ہم سب کو غور وفکر کرنا ہوگا، حلقہ ارباب ِذوق کو دوسروں سے زیادہ کہ چھٹی دہائی میں اسی کے کارکن اد یبوں نے شاکر علی کے ساتھ بھر پور تعاون کیا تھا لیکن اس وقت کے لوگوں کا فلسفہِ حیات اور نظریہِ فن اسی کام کا متقاضی تھا جو انہوں نے انجام دیا۔ چناں چہ اب ہمیں اپنے سماجی اور تہذیبی تصورات کا بھی جائزہ لینا ہو گا اور یہ بھی نئے سرے سے دریافت کرنا ہو گا کہ ادب اور فن، سماج اور تہذیب سے بے تعلق رہ کر وجود میں آتے ہیں یا ان کے وجود میں جاری و ساری ہونے کی کشمکش میں مبتلا ہو کر ۔ اُس وقت اقبال کا ایک مصرع زبان زد عام ہو گیا تھا اور آج بھی جب ہم سنتے ہیں کہ فن کی دنیا میں نئی سے نئی موجیں اٹھ رہی ہیں ہمیں یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے:
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
( حلقہ ارباب ِذوق ، لاہور : آخر دسمبر ۱۹۹۵ ء، صدارت: انتظار حسین )