صوفی تبسم: آدم گر
صوفی تبسم: آدم گر
فیض صاحب نے انہیں ’’جگت استاد‘‘کہا ہے۔ یقیناً غلام مصطفیٰ تبسم کے شاگردوں کا شمار نہیں تھا ۔ پورے برصغیر بلکہ ہفت اقلیم میں ہر طرف پھیلے ہوئے تھے اورآئے دن نیو ہوسٹل کے وارڈن ہاؤس میں، جو قیام پاکستان کے بعد ایک غیر سرکاری مہمان خانے کی صورت اختیار کر گیا تھا، کوئی نہ کوئی آیا ہی رہتا تھا۔ لاہور میں بھی جسے دیکھو ، سارے دَر چھوڑکر، ادھر ہی کا رخ کرتا تھا۔
اُن کے ساتھ ذرا باہر نکلو تو سڑک پر دو قدم چلنا دُوبھر تھا۔ کہیں نہ کہیں سے ایک نہ ایک قدیمی نیاز مند نمودار ہو جاتا تھا اور وہ ہر کس و ناکس کے سلام کا مفصل جواب دینے رُک جاتے تھے: کیسے ہو، آج کل کہاں ہو، کیا کرتے ہو اور بالآخر یہ کہ کبھی گھر پہ آؤ، ذرا بیٹھیں گے۔
غضب یہ کہ باید و شاید ہی کوئی ایسا ہوتا جو نہ آتا اور دھرنا دے کے بیٹھ نہ جاتا۔ فلاں سیکرٹری یا جج صاحب کے پاس فلاں کیس کے کاغذات اٹکے ہوئے ہیں۔ ڈھماکے پروفیسر کے پاس بہن یا بیٹی کے امتحان کا پرچہ گیا ہو اہے جو عزیزہ کی ناسازی طبع کے باعث ذرا کمزور رہ گیا تھا۔ آپ زحمت کریں تو عزت رہ جائے گی۔ سواری موجود ہے، ابھی آدھ گھنٹے میں واپس آجائیں گے۔
کسی کو سمجھاتے کہ آج مناسب نہیں، میں خود کسی وقت بات کروں گا۔ کسی کے سامنے کانوں کو ہاتھ لگاتے: ارے بھائی وہ تو اصول کا پکا ہے، کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ لیکن اکثر کہتے: ذرا بیٹھو، تھوڑی دیر میں چلتے ہیں اور پھر سچ مچ چل پڑتے۔ اسی طرح فرصتِ حیات کا ایک بڑا حصہ انہوں نے لوگوں کے کاج سنوارنے میں صرف کر دیا۔
اپنے وطن امرتسر کے کسی سائل کو تو وہ ٹال ہی نہ سکتے تھے لیکن دہلی، لکھنؤ، رامپور، الٰہ آباد اور علی گڑھ کے حاجت مند بھی ان کے لیے بے حد محتر م تھے ۔ کوئی مرزا محمد سعید کا فرستاده نکلتا تو کوئی جوش ملیح آبادی، امتیاز علی عرشی ، فراق گورکھپوری، پروفیسر ہادی حسن یا رشید احمد صد یقی کا رَوَنَا ۔ دوستوں کی جماعت الگ تھی جو یوں تو نیاز مندان ِلاہور کے لقب سے ملقَب تھی مگر جس کا کوئی فرد اپنے سوا کسی کا نیاز مند نہ تھا، ایک صوفی صاحب کو چھوڑ کر جن کا دل ہر ایک کے لیے کشادہ تھا۔ لیکن شاگردوں کی وہ منڈ لی، جسے 48 ء سے 54 ء تک، جب وہ گورنمنٹ کا لج کے شعبہِ اردو و فارسی کی صدارت پر فائز رہے، ان کے ساتھ خصوصی وابستگی کی حامل تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جس میں ان کے جگری دوستوں کا جھمگٹ تتر بتر ہو گیا تھا۔ سب سے پہلے پطرس، جو گلدستہِ احباب کی بندش کی گیاه تھے، اقوام متحدہ کے لیے منتخب ہو کر گئے، پھر فیض زندانی ہوئے اور آخر میں تاثیر داغ ِمفارقت دے گئے۔
یوں تو یہ لوگ پہلے بھی لاہور سے باہر جا چکے تھے ، خصوصاً جنگ کے زمانے میں ، لیکن اُس وقت لاہور، امرتسر، دہلی اور سری نگر کے درمیان راستہ کھلا تھا اور احباب سے رابطہ قائم تھا جو قیام پاکستان کے آس پاس پھر سے مستحکم ہوا۔ لیکن جلد ہی یہ محفل منتشر ہوگئی ۔ اب کی بار ہمیشہ کے لیے ۔ پھر بھی انہوں نے ہمت نہ ہاری اور اپنے آپ کو کاج کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں مصروف کر لیا۔ فارسی آنرز کی کلاس، جس میں یہ خاکسار شامل تھا، ایم اے اردو کی کلاس، جو انہوں نے پھر سے کہہ کر کھلوائی تھی اور جس میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ شامل تھیں ، راوی کابخشِ اردو جوان کے زیرانتظام تو نہیں تھا لیکن جس کے منیجر پروفیسر خواجہ منظور حسین ان کو بہت عزیز تھے، ڈرامیٹک کلب جس کے انچارج ڈاکڑ صادق تھے لیکن جب بھی اردو یا پنجابی ڈراما کھیلنے کا فیصلہ ہوتا تو صوفی صاحب کا تعاون درکار ہوتا جو غیر مشروط طور پر دستیاب تھا۔ کاج کی بزم ِادب جو بزمِ اقبال کہلاتی تھی خودصوفی صاحب کی زیر نگرانی کام کرتی تھی اور سوندھی ٹرانسلیشن سوسائٹی ، جس میں اُن کی شرکت کے بغیر رنگ نہ جیتا تھا۔ باہر والوں کی نظر میں صوفی صاحب ایک رنگین مزاج آدمی تھے جو حلیم سقراط کی طرح نوجوانوں کوگمراہ کرنے کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ کالج میں داخل ہونے سے بہت پہلے ان کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں سنی تھیں اور ایک شعر بھی جو پطرس کی تخلیق مشہور تھا:
رات کو رند،میج کو صوفی یہ تبسم عجیب انساں ہے
یہاں صوفی کا لفظ پنجابی محاورے کے مطابق برتا گیا تھا ، سوبر ( sober ) یعنی مجتنب کے معنوں میں اور بادہ خواری کی ضد کے طور پر ۔ لیکن، دن ہو یا رات، وہ منٹو اور مجاز کی طرح بلانوش نہیں تھے۔ چراغ حسن حسرت کہتے تھے کہ صوفی صاحب: آپ تو سونگھ کر بے ہوش ہو جاتے ہیں اور اس عرق ِسہ آتشہ کو لخلخے کی طرح استعمال کرتے ہیں ۔ جواب میں وہ یہ شعر پڑھتے:
مے کہ بدنام کند اہل خرد را غلط است
بلکہ مے می شود از صحبتِ ناداں بدنام
ایک دن ان سے پوچھا گیا کہ آپ حسرت صاحب کے برعکس حلال و حرام کی بحث میں نہیں پڑتے لیکن کیا آپ اس رویے کو پسند کرتے ہیں: تنہا خور و کم کم خور و گہہ گہہ می خور، فر مایا کہ تنہا خوری کا دوسرا نام شراب الیہود ہے جس سے بچنا چاہیے۔ کم کم کا اصل مفہوم گھونٹ گھونٹ پینا ہے جو اس چیز کا خلقی تقاضا ہے اور گہہ گہہ خوری یعنی کبھی کبھار کا پینا ہمارا مقدّر۔ اس لیے کہ اول تو بڑی مشکل سے باوا کے مول ملتی ہے، پھر موافق صحبت بہم نہیں ہوتی۔
نا موافق صحبت کا علاج انہوں نے یہ نکالا کہ جب بھی کہیں سے کوئی پرانا دوست آنکلتا تو اس کی تواضع میں شرکت کے لیے چند ایک شاگردوں کو بلا بیتے۔ نیو ہوسٹل کا وارڈن ہاؤس تیسری منزل پر واقع ہے اور اگر چہ اس کی سیڑھیاں الگ ہیں لیکن وارڈن کی آسانی کے لیے گھر کا ایک دروازہ ہوسٹل کے سیکنڈ فلور کی طرف کھلتا ہے جس پر اس زمانے میں ہم میں سے چند ایک طالب علم ادیب رہا کرتے تھے ۔ صوفی صاحب کا ملازم فضل اس دروازے سے ہوسٹل میں داخل ہو کر پیغام پہنچا جاتا اور واپسی میں چٹخنی نہ لگا تا تا کہ سب لوگ تیار ہو کر پہنچ جائیں۔ یہاں کبھی عابد علی عابد سے ملاقات ہوئی، کبھی زیڈ اے بخاری اور ایک آدھ مرتبہ ن م راشد اور مجاز سے۔ سنا تھا کہ ان محفلوں میں جوش ملیح آبادی ، فراق گورکھپوری اور ان سے بھی پہلے مرزا یاس یگانہ بھی تشریف لا چکے ہیں لیکن وہ زمانہ گزر چکا تھا۔ البتہ اثر لکھنؤی سے 48 ء یا 49 ء میں یہیں ملاقات ہوئی تھی۔ وہ ایک پر ہیزی ادیب تھے اس لیے چائے کا دور چلتا رہا اور پیچوان کاجو مہمانِ خصوصی اور میزبان کے درمیان محدود تھا۔ اور اہل اجتناب وہاں آتے تھے جیسے حفیظ ہوشیار پوری اور عرشی امرتسری کے ساتھ شعر و شخن اور دانشورانہ گفتگو کی محفلیں رہتیں۔ عابد صاحب اور چھوٹے بخاری مستی میں آ کر شاگردوں سے مذاق کرتے تھے اور شاگرد ان کے ادبی اور سماجی مرتبے کا لحاظ اٹھا دیتے تھے۔ اس موقع پر صوفی صاحب فخر سے کہتے تھے کہ دیکھا نہ ہمارے کالج کے لڑکے ریڈیو والوں کی طرح جی حضوریے نہیں۔ بخاری صاحب کہتے کہ ریڈیو میں ایسے لڑکے آنے چاہئیں، پھر اپنے ماتحتوں کا تمسخر اڑاتے کہ میں انہیں شعر سناتا ہوں تو ایک صاحب کھڑے ہو جاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ یوں تو غالب نے بھی کچھ ایسا ہی کہا ہے لیکن بخاری صاحب، آپ کا جواب نہیں۔ ایک صاحب دامن پسار کر کہتے کہ بخاری صاحب یہ شعر میری جھولی میں ڈال دیجیے، آپ کی بھابھی کے لیے تحفہ لے جاؤں گا۔ ستم ظریفی یہ کہ ایسے ہی لوگ ریڈیو میں پنپتےتھے چناں چہ ہم میں سے کوئی ریڈیو کی نوکری پر راغب نہ ہوا۔ عابد صاحب لکھنے والوں کی نئی نسل کو طعنہ دیتے کہ تم لوگ کافی ہاؤس، ٹی ہاؤس میں بیٹھ کر وقت ضائع کرتے ہو اور چونی اٹھنی چندہ کرکے چائے پیتے ہو۔ انہیں بتانا پڑتا کہ یہ شہر بہت پھیل گیا ہے اور یہ جگہیں مرکز شہر میں واقع ہیں جہاں دوست احباب مل بیٹھ سکتے ہیں جو اس آپا دھاپی کے زمانے میں غنیمت ہے۔ ان کا کوئی قصور ہے تو یہ کہ ایک دوسرے کو گھر بلا کر ام الخبائث کا دور نہیں چلا سکتے۔ صوفی صاحب کہتے: اور دلواؤ گالیاں۔
ایک بار عابد صاحب نے پوچھا کہ نئی نسل کہتی کیا ہے؟ خاکسار نے عرض کیا کہ بہت پہلے ایک کلاسیکی شاعر نے ان کےرویے کا خلاصہ کر رکھا ہے:
عوض طرب کے گزشتوں کا ہم نے غم کھینچا
شراب غیر نے پی اور خمار ہم کھینچا
کہنے لگے کہ ہاں یہ قائم چاند پوری کا شعر ہے۔ تم لوگوں کی ترجمانی کرتا ہو یا نہ کرتا ہو ہر لحاظ سے عمدہ شعر ہے۔ اصل میں قائم چاند پوری جنات کے دور میں ایک سلجھا ہوا بیدار مغز غزل گو تھا، میر و سودا اور درد کے مدمقابل ایک چھوٹی آواز لیکن اپنی جگہ بے حد کٹیلی اور طرح دار۔ ایسے خطبے دیر تک جاری رہتے اور بڑا لطف آتا۔
ان محفلوں میں شہزاد احمد، غالب احمد، جاوید شا ہین اور یہ نیاز مند اکثر شریک ہوتے۔ کبھی کبھار بذل حق محمود، سعید اختر درّانی اور شیخ الٰہ آبادی بھی آ جاتے لیکن ذرا لیے دیے رہتے۔ تیغ کوفراق صاحب کی محفلیں یاد آتیں اور وہ اداس ہو کر اجازت طلب کرتے ، ساتھ میں دوسرے سنجیدہ حضرات بھی اٹھ کھڑے ہوتے ۔ ان کے جاتے ہی آلاتِ رندی بر آمد ہوتے اور شہزاد سے کہا جا تا: الا یا ایہا السّاقی ۔ میرے لیے اس محفل میں بڑی کشش تھی مگر دیکھنے سننے کی حد تک اس لیے سادہ پانی کو مئے نکلیں سمجھ کر پیتا رہتا حالانکہ دوسری جگہ مثلاً مصوروں کی محفل میں، اپنی محرومیوں کا انتقام لینے میں پس و پیش سے کام نہیں لیتا تھا۔ اصل میں یہاں صوفی صاحب کا احترام حایل تھا جیسے خواجہ منظور صاحب کے گھر سگریٹ نوشی سے اجتناب۔ برسوں کے بعد ایک مرتبہ صوفی صاحب کے اصرار پر ان کا ہم پیالہ بننا نصیب ہوا تو اس کی کیفیت آج تک نہیں بھولی۔
لیکن میرے دوست احباب مجھ سے الگ بھی ان محفلوں میں شریک ہوتے اس لیے کہ میری اکثر شامیں نیو ہوسٹل سے باہر گزرتی تھیں اور صوفی صاحب کا پیغام مجھ تک پہنچ نہیں پاتا تھا۔ لیکن اس کی تلافی کسی دن صبح کے وقت ہو جاتی جب وہ ناشتے کی میز پرمنتظر ملتے۔ کشمیری چائے، امرتسری کلچے کے ساتھ جو لگتا تھا ابھی تندور سے نکلا ہے، ساتھ میں مکھن اور مربّہ اور صوفی صاحب کا تازہ کلام اور شکایتیں کہ تم شام کو نہیں ملتے۔ ایک دن اچھے خاصے مرزا کڑھلے بنے بیٹھے تھے، کہنے لگے: یہ سامنے دیکھو۔ دیکھا تو دیوار سے لگی نشست پر کچھ کی سی محسوس ہوئی ۔ یاد آیا کہ یہاں تو شہنشاہِ ایران کا سوغات میں بھیجا ہوا ایک تبریزی غالیچہ بچھا رہتا تھا۔ پوچھا تو معلوم ہوا دُھلنے گیا ہے۔ اس لیے کہ ایک نوجوان شاعر نے رات کو اس پر سب کھایا پیا الٹ دیا تھا۔ میں نے سوچا کہ آدم گری کے لیے استاد کو کیسے کیسے عذاب جھیلنے پڑتے ہیں۔
کلچے کی تعریف کی تو بتایا کہ پچھلے دنوں خلیفہ عبد اشکیم صاحب سے کسی نے لفظ صوفی کے معنے پر تھے تو انہوں نے اسے صُوف اور صفا سے بیک وقت مر بوط قرار دینے کے بعد یہ بھی کہہ دیا کہ امرتسر میں کلچے لگانے والوں کو بھی صوفی کہا جاتا تھا جن میں سے صوفی تبسم کو آپ جانتے ہوں گے۔ ظاہر ہے ہلکی بات تھی اگرچہ مرحوم سے بعید نہ تھی۔ میرے لیے ، جو صوفی صاحب کا ہم وطن تھا، لفظ صوفی کا معنوی دائرہ محض طبقاتی نہ تھا، اس لیے کہ ایران کی طرح اہل کشمیر کے لیے بھی، جن کی خاصی بڑی تعداد امرتسر میں آباد تھی، مختلف اصناف یعنی کاریگروں کی برادری میں تصوف کی کوئی نہ کوئی شکل مدت سے موجود تھی اور امرتسر کے ’’کاندرو‘‘ یعنی تندور پر کام کرنے والے ایک طرح کے صاحبانِ حال بن چکے تھے۔ وہ ہر صبح ایک چھوٹا سا دوزخ روشن کرکے اس کی آگ میں اپنا ہاتھ ڈال کر خمیرے آٹے کی مختلف شکلیں بنا کر گرم دیوار کے ساتھ چپکاتے تھے اور سرخ مہکتے ہوئے پھول نکالتے تھے۔ یہ سارا عمل ان کے لیے روزی کا ذریعہ بھی تھا اور ایک روحانی تجربہ بھی۔ جو لوگ صرف تصوف کی کتابیں پڑھتے ہیں یا کسی الگ تھلگ گوشے میں بیٹھ کر مراقبہ کرتے ہیں انہیں یہ معلوم نہیں کہ پیٹ کا تندور بھرنے کے ساتھ ساتھ کوئی انسان عرفان کی منزلیں بھی طے کر سکتا ہے۔
ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے دیوسماج روڈ پر اپنے مرتضیٰ کے ساتھ رہنا شروع کیا۔ یہاں ایک بالاخانے میں ان کی بیٹھک تھی جس کے نیچے تندور چلتا تھا۔ ایک دن کلچوں کے تخت پر اوپر سے ایک نیم پختہ کلچہ آن گرا اور آواز آئی۔ اوئے مرتضیٰ، ایہہ کیہ کلچہ لایا ای۔ ذرا سی دیر میں صوفی صاحب تہ بند اور بنیان میں نیچے اترے اور خود کلچے لگانے لگے۔ سب نے کہا کہ ایسے کلچے تو کبھی کھائے نہیں۔
یہی کیفیت صوفی صاحب کے ہر کام میں تھی۔ پڑھنا پڑھانا، لکھنا لکھانا اور کھانا پینا ہر چیز میں ایک معیار ، کاریگردی اور حسن وجمال کا ایک پیمانہ تھا جو کبھی نظرانداز نہ ہوتا تھا۔ ایک دن عرفی کا قصیدہ پڑھا رہے تھے در مدح شاہزادہ سلیم۔ ایک مصرعے کے آخر میں تعلم و تعلیم کی ترکیب آئی۔ کلاس سے سوال کیا: دونوں میں کیا فرق ہے؟ لڑکوں نے کہا: ہم معنی معلوم ہوتے ہیں۔ کہا کوئی سے دو لفظ بالکل ایک جیسے معنے نہیں رکھتے اور کوئی بھی اچھا شاعر ایک کی جگہ دو لفظ استعمال نہیں کرتا۔ پھر بتایا کہ تعلم سے مراد ہے سیکھنا اور تعلیم سے سکھانا۔ یہ مترادف نہیں متقابل الفاظ ہیں اور اب شعر پڑھو تو ان کا تصادم دیکھو۔ آنرز کی کلاس کو سلجوق دور کا ادب پڑھاتے تھے، ایک دن ناصر خسرو زیر بحث تھا، ایک شاعر طالب علم نے کہا کہ اس کے یہاں شعریت نہیں ملتی۔ کہا کہ شعر پہلے ہے اور ایت بعد میں۔ شعر پڑھو اور سمجھنے کی کوشش کرو اور اس کے بعد تمہارا شعریت کا تصور بھی ذرا وسیع ہو جائے گا۔ ایسے ہزاروں نکتے ان کی رسمی اور غیر رسمی محفلوں میں بیان ہوتے تھے۔
پطرس کی حد تک عشق کرتے تھے لیکن جب یہ سنا کہ انگریزی آنرز کی پہلی کلاس میں انہوں نے کیسی بے دلی سے لیکچر دیا تو کہنے لگے: چھوڑو، فارسی آنرز رکھ لو۔ اصل میں اس عقاب کا اب اپنے آشیانے میں دل نہیں لگتا، اونچی اڑانوں کے لیے پر تول رہا ہے۔ ایک ان کا گھیراؤ کرنا پڑا کہ امتیاز علی تاج کی ’’انارکلی‘‘ ان کے سارے ڈراموں سے الگ کیوں ہے؟ پہلے کہا کہ ادیب کبھی ساتویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے کبھی اپنی پشت پا سے اوپر نہیں اٹھتا۔ ضد کرنےکے بعد بڑی مشکل سے بتایا کہ پنجایتی کام تھا مگر اکثر و بیشتر پطرس کا قلم لگا ہے۔ پوچھا کہ ’’نقش فریادی‘‘ کا احوال بھی اسی طرح ہے؟ کہنے لگے: نہیں اتنا نہیں بس کہیں کہیں ایک آدھ لفظ بدلا ہے اور چند ایک مصرعے حذف کرنے پڑے۔
بعد میں جب ایلس کے خطوط فیض کے نام شائع ہوئے تو معلوم ہوا کہ جیل سے بھیجا ہوا کلام ویسے کا ویسا شائع ہو جاتا تھا تو فیض صاحب کو ندامت ہوتی تھی چناں چہ پھر صوفی صاحب کو دکھانا پڑا۔ جنہوں نے ہمیشہ ایک آدھ ضربِ قلم سے اعتراض کی گنجائش ختم کر دی۔
اصلاحِ سخن کے باب میں ایک جینئس لیکن بعض اوقات صوفی صاحب بات کی پچ بھی کرنے لگ جاتے ہیں۔ مثلاً جب ان سے پوچھا کہ اقبال کے مشہور شعر میں:
محمد بھی ترا، جبریل بھی، قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرفِ شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا
یہ ’’حرفِ شیریں‘‘ سے کیا مراد ہے؟ تو کہا کہ قرآن مجید۔ کس طرح؟ تو بتایا کہ یہ کا لفظ اشارہِ قریب، جو قریب تریں اسم کی طرف راجع ہوتا ہے۔ لیکن یہ ’’مگر‘‘ کیوں؟ اور قرآن کریم کو کیا انسان کا ترجمان کہا جا سکتا ہے؟ کہنے لگے: میرے نزدیک اقبال کا یہی مفہوم تھا۔ اصل میں وکٹر کیرنن نے اقبال کے تراجم میں اس شعر کی یہی تعبیر کرتے ہوئے ڈاکٹر نذیر کا حوالہ دیا ہے اور اس کا دفاع صوفی صاحب کے لیے لازم تھا۔
اصل میں وہ یاروں کے یار تھے چاہے درمیان میں اقبال بھی کیوں نہ آجائیں۔ لیکن ایک مرتبہ جب ’’ذکر اقبال‘‘ پڑھنے کے بعد یہ جاننے کی ضرورت پڑی کہ عبدالمجید سالک اگر اقبال کو ہمیشہ اتنا ہی نا پسند کرتے تھے جتنا کہ اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر ان کے گھر کیا کرنے جاتے تھے؟ صوفی صاحب سے پوچھا تو کہنے لگے: مجھ سے نہ پوچھو۔ لیکن یہاں اپنے استاد کی عزت داؤں پر لگی تھی۔ کہا کہ آپ نہیں بتائیں گے تو قیامت تک کسی کو معلوم نہ ہو گا۔ آنکھوں میں آنسو بھر لائے، بس اتنا کہا کہ ’’مخبری‘‘ اور گھر کے اندر تشریف لے گئے۔
صوفی صاحب کی شاعرانہ حیثیت سے یہاں براہِ راست کوئی بحث نہیں، نہ استادِ فارسی کے طور پر عابد علی عابد اوروزیرالحسن عابدی کے مقابلے میں ان کے مرتبے کا تعین مقصود ہے۔ اتنا بہت ہے کہ ان کی صحبت میں بیٹھ کر کوئی علامہ بنے یا نہ بنے،آدمی ضرور بن سکتا تھا۔ اگرچہ ہم جیسے گستاخ شاگرد ابھی تک نہیں بن پائے، خیر، اپنی اپنی صلاحیت ہے، شانِ استادی پر کوئی حرف نہیں آتا۔
(حلقہ اربابِ ذوق، لاہور: 1993 ء، صدارت صفدر میر)