کتھا کلی
کتھا کلی
کہا جاتا ہے کہ کرالا کے راجہ کنار کرنے اس رقص کو جنم دیا۔ ابتداء میں اس رقص کو راج ناٹیم کہا جاتا تھا۔ کتھا کلی جنوبی ہند کا ناچ ہے۔ کرالا میں خصوصیاً آہ دکن میں عموماً اس کا رواج ہے۔ چوں کہ اس ناچ کے ذریعہ رامائن یا مہا بھارت کی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں اس لئے اس کو ڈرامائی ناچ کہا جاتا ہے۔ پس پردہ رہ کر ایک شخص کہانی کو گاتا جاتا ہے اور اسٹیج پر رقاص اس کہانی کو اپنے ناچ کے ذریعہ بیان کرتا ہے۔ اگر اسٹیج پر بہت سے رقاص مل کرناچتے ہیں تو ایسے رقص کو "کڈی یا ٹم" کہا جاتا ہے اور ایک ہی رقاص ہو تو وہ ناچ "کتھو" کہا جاتا ہے۔ کتھا کلی رقص عموماً شام سے شروع ہو کر رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ پہلے کورس شروع ہوتا ہے جس میں اشلوک گائے جاتے ہیں پھر ساز بجنے شروع ہوتے ہیں اور آخیر میں کورس اور سازکی لَے پر رقص کی ابتدا ہوتی ہے۔ کتھا کلی کا رقاص عموماً اپنے چہرے پر عجیب و غریب نقاب دیا نقلی چہرہ) چرھا کر یا اپنے چہرے کو مختلف رنگوں سے رنگ کر کہانی کے اعتبار سے اپنے کردار کی وضاحت کر دیتا ہے گو چہرہ ڈھک جاتا ہے مگر رقاص اپنے جسمانی اعضاء کے پیچ و خم سے ہی پوری کہانی بیان کر دیتا ہے۔ چہرے کو رنگتے ہوئے کردار کے مزاج کا خیال رکھا جاتا ہے یعنی نیک کردار کا چہرہ سبز، سُرخ اور سفید رنگوں سے رنگا ہوتا ہے اور کسی بدکردار کے چہرے کو سیاہ اور سُرخ بنا دیا جاتا ہے۔ عموماً بغیر نقاب کےبھی رقاص ناچتا ہے۔ اس حالت میں وہ اپنے جسم کی حرکات و سکنات اور ابروؤں۔ آنکھوں کی پتلیوں، رخساروں اور لبوں سے بھی کام لیتا ہے۔ کتھا کلی ناچ میں مدرائیں ایک مکمل زبان بن کر ایک میڈیم کا کام انجام دیتی ہیں اور اس ناچ میں مداؤں کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اگر رقاص اپنے چہرے کے تاثرات سے کام نہ بھی لے تو بھی ہاتھوں کے یہ اشارے (مدُرائیں) ہر قسم کے دلی جذبات اور ارادوں کا اظہار کر دیتے ہیں۔ جب رقاص کا چہرہ کام کرتا ہے تو اس کی آنکھوں کی پتلیاں وہی کام کرتی ہیں جو ایک ٹائپ کی مشین میں ایک 'کی بورڈ' انجام دیتا ہے۔ پتلیوں کی حرکات کی آٹھ قسمیں ہیں جس کو اس رقص کی اصطلاح میں نِرت ورشٹی کہا جاتا ہے۔ کتھا کلی ناچ میں عام طور سے دو ڈھول استعمال کئے جاتے ہیں۔ ایک ڈھول لمبا ہوتا ہے جو دونوں طرف سے بجایا جاتا ہے۔ اس ڈھول کو 'مدالم' کہتے ہیں۔ دوسرے ڈھول کو 'جنڈال' کہا جاتا ہے۔ یہ نقارے کی قسم کا ڈھول ہوتا ہے جو زمین پر رکھ کر لکڑی کے ڈنڈوں سے بجایا جاتا ہے۔ ڈھول کے ساتھ، 'مجیرے' بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ کتھا کلی کے ذریعہ جو کہانی بیان کی جاتی ہے اس میں عموماً بدی پر نیکی کی فتح کا عنصر چھپا ہوتا ہے۔ کتھا کلی ناچ میں پہلے عورتیں شریک نہیں ہوتی تھیں بلکہ نوجوان لڑکے ہی لڑکیوں کا روپ دھارن کرتے تھے۔ مگر اب عورتیں بھی شریک ہوتی ہیں۔