پی این کے ہامزئی

پی این کے ہامزئی

کشمیر میں رقص کی روایات

    کشمیر میں رقص کی روایات

    ساتویں اور آٹھویں صدی میں کشمیر میں فنونِ لطیفہ اپنے شباب پر تھے۔ مارتنڈ اوراونتی پورہ کے مندر اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس وقت کشمیر کا تعمیر اور بُت تراشی کا اپنا خاص فن تھا جس پر یونانی اور رومی اثرات تھے۔ منتش اور خوبصورت ستون مورٹیوں کی مڑی ہوئی ناک یونانیوں کی طرح سے پوشاک کی تہیں اور دیواروں اور طاقچوں پر بنی ہوئی مورتیوں کے اپالو جیسے خدوخال اس زمانے کے صناعوں کے فکرو فن کی پختگی کو بخوبی ظاہر کرتے ہیں۔

    اس زمانے میں شاعری اور ڈرامے کی بعض بہترین تخلیقات وجود میں آئیں اور خوش قسمتی سے ان میں سے کچھ اب تک موجود ہیں۔ ہندوستانی کلاسیکی رقص کا کوئی طالب علم کشمیری شارحین و مصنفین کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ ان لوگوں میں ادھبتہ، لولاپتہ، سنکو کا، نائیک اُو خصوصاً ابھنو گپت مشہور ہیں۔ شیو کے تانڈو رقص کا تذکرہ راجانک رتن کرنے ہر درجے کا ویہ میں کیا ہے۔

    رقص اور موسیقی میں کس حد تک کمال حاصل کر لیا گیا تھا اس کا قطعی کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ بتانا کچھ مشکل نہیں۔ لکھنے والا خواہ کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو اس کے لئے ان جذبات کو قلم بند کرنا بہت مشکل ہے۔ جو کسی فن کار کے مختلف انداز اور موزوں حرکات سے اس کے دماغ میں پیدا ہوں رقص اور موسیقی کی لطیف روایات ہندوستان میں ان فن کاروں کی وجہ سے زندہ رہیں جن کا یہی پیشہ رہا اور جنہوں نے ان روایات کو ترکے میں پایا۔

    بدقسمتی سے گیارھویں صدی عیسوی کے بعد سے کشمیر میں خانہ جنگی، بیرونی حملہ، طلم و جوراور خون ریزی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ساتھ ہی ساتھ قحط آتش زدگی اور وبائی امراض نے رہی سہی کمی کو پورا کر دیا۔ اس لئے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ رقص و موسیقی کی تمام لطیف روایات فنا ہو گئیں اور جو کچھ بچ گیا وہ عظمت گذشتہ کا ایک ناقص نمونہ ہے۔

    کلہن کی راج ترنگی، شہری ورا اور بعد کے فارسی روزنامچوں میں ہمیں رقص و موسیقی کے تذکرے ملتے ہیں۔ ان سے اس کا پورا ثبوت مل جاتا ہے کہ ان فنون میں بھی کشمیری کافی ماہر تھے۔

    کلاسیکی رقص

    ہندوستان کی دوسری جگہوں کی طرح کشمیر میں بھی کلاسیکی رقص کا پس منظر مذہبی ہے اور اس کی ترقی میں مندروں میں رقص کرنے والوں (دیو دا سیاں وغیرہ) نے نمایاں حصہ لیا ہے۔ جنگل میں شکار کھیلتے ہوئے 'للتادتیہ' نے دو خوبصورت لڑکیوں کو ڈھول اور دوسرے سازوں کی ، تال پر رقص کرتے ہوئے دیکھا۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایسی جگہ میں ناچنے کا کیا مقصد ہے تو انہوں نے کہا کہ ہمارا تعلق ایک ناچنے والے خاندان سے ہے اور ہم سامنے والے گاؤں میں رہتے ہیں۔ کئی نسلوں سے ہمارے خاندان میں یہ رواج چلا آ رہا ہے کہ ہم اس جگہ صبح و شام ناچتے ہیں۔ تا کہ وہ دیوتا جن کی مورتیاں یہاں دفن ہیں، ہم سے خوش اور ہم پر مہربان ہوں۔ للتادتیہ نے اس جگہ کی کھدائی کرائی اور اسے زمین کے نیچے ایک بڑے مندر کو پا کر حیرت ہوئی اس میں شیو اور وشنو کی دو خوبصورت مورتیاں تھیں۔ اس نے ان مورتیوں کو اپنے نئے شہر پری ہاسپورہ کے دو مندروں میں رکھ دیا۔

    اس پیشے کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا اس کا پتہ اس سے بھی چلتا ہے کہ راجہ چکرورمن(936صدی عیسوی) نے دو پیشہ ور رقاصہ بہنوں ہمس اور ناگ لتا سے شادی کی تھی۔ حالاں کہ ان کا تعلق کسی نیچی ذات سے تھا مگر اس نے ہمس کو اپنی پہلی رانی بنایا اور راجہ کی سب رانیوں میں اسے یہ خاص امتیاز حاصل تھا کہ اسے چوہری جھلی جاتی تھیں۔

    پُرانے مندروں کی دیواروں اور ستونوں پر بنی ہوئی مورتیوں کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں رقاصوں کی بھی مورتیاں ہیں جو مختلف زیوروں سے آراستہ ہیں اور ان کے بال گوندھنے کا طرز بھی بڑا دل آویز ہے۔ ہارون میں ابھی جو کھدائی ہوئی ہے اس میں چوتھی صدی عیسوی کی مٹی Terracotta   کی بنی ہوئی مورتیاں برآمد ہوئی ہیں۔ کچھ مورتیاں ہندوستان کے کلاسیکی رقص کے مختلف انداز کو ظاہر کرتی ہیں۔

    چودہویں صدی میں اصلام کشمیر میں آیا مگر اس کی وجہ سے یہ روایات فنا نہیں ہو گئیں۔ مسلم حکومت کے ابتدائی زمانے میں ناچ نے کیا صورت اختیار کی اس کا حال شری ور کے اس بیان سے معلوم ہو گا جو اس زمانے کی مشہور رقاصہ رتن مالا کے ایک رقص کے بارے میں ہے۔ وہ کہتا ہے۔ "بادشاہ کی رقاصاؤں کا حسن دمک رہا تھا اور وہ رات کو چراغ کے مانند چمک رہی تھیں محبت کے دیوتا نے ان کے دلوں میں آگ لگا رکھی تھی۔ وہ جوانی کے جذبات سے پُر تھیں جیسے کسی چراغ میں نئی بتی ڈالی جائے اور موم سے بھر دیا جائے رتن بالا، دیپ مالا اور نرپ مالا نے خوبصورت ناچ پیش کیا اور جذبات و اشارات کا بڑا اچھا مظاہرہ کیا۔ رتن مالا کی پیشانی پر تلک لگا تھا۔ بادشاہ نے اس حسین اداکارہ کے رقص کی تعریف کی اور کہا کہ اس نے اپنے قدموں، حرکتوں اور جنبشوں سے سبھوں کے دل موہ لیے۔ اس کے اشارے، بدن کی جنبشیں، جذبات کا اظہار در دل کش گانے نے سبھوں کے دلوں میں ہیجان برپا کر دیا تھا۔"

    زیوروں اور بالوں کی آرائش کے متعلق بھی اس نے چند الفاظ کہے ہیں۔ اس کے گانے میں کوئی نقص نہیں تھا۔ اس کا جسم جواہرات سے مزین تھا۔ اس کے چہرے کا حسن دیوتاؤں کی شراب کی طرح سرور آ گئیں تھا۔ اور اس شراب کا ایک قطرہ آویزے کی طرح اس کی ناک سے لٹک رہا تھا۔ اس کے بالوں میں موتی گندھے ہوتے تھے اور بالوں کی یہ لٹ اس کے گالوں کو چُھو رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ شراب کے یہ قطرے اس کے چہرے کی چاندنی میں پگھلے جا رہے ہوں۔"

    حافظہ رقص

    مسلمانوں کی آمد کے بعد کشمیر میں ہندوستانی اور ایرانی طرز نے مل کر ایک نئے قسم کے رقص کو جنم دیا۔ ان ناچوں کے نام "صوفیا نہ کلام" اور "حافظہ" ہی صوفی اثرات کے مظہر ہیں۔

    1920ء تک ان حافظاؤں یاناچنے والی لڑکیوں کی شادی بیاہ بلکہ مذہبی اجتماع اور سیرو تفریح کی پارٹیوں میں بہت مانگ تھی اس کا تعلق پیشہ ور رقاصاؤں کے خاندان سے تھا اور انہیں ماہر استادوں کی نگرانی میں کافی دنوں تک بڑی سخت تربیت دی جاتی تھی۔ ان کے رقص میں جو ساز ہوتے تھے وہ عموماً صوفیانہ کلام کے ہوتے جیسے سنتور ساز کشمیر، ستار اور طبلہ۔ یہ کشمیری اور فارسی کے دو ہے اور غزلیں گاتی تھیں اور ان اشعار کے معانی بھی ہاتھ پاؤں اور آنکھوں کی جنبشوں اور اشاروں سے واضح کرتی جاتی تھیں۔ ہر قدم پر وہ دائیں یا بائیں طرف اپنے پورے جسم کو جھکا لیتی تھیں۔

    حافظ کا لباس عام طور پر وہی وہتا تھا جو شمالی ہندوستان کی کلاسیکی رقاصائیں پہنتی تھیں۔ چُست اور تنگ بلاوز، کافی گھیر کا لہنگا جسے کمر کے گرد کس کر باندھ لیا جاتا تھا۔ مہیں ریشمی دوپٹہ سر اور کندھوں پر ہوتا۔ کشمیر کے روائتی زیورات جیسے بڑے کنڈلی آویزے تل زربالی اور نکلس پہنے ہوتی۔

    عام طور پر دو لڑکیاں ناچ میں حصہ لیتیں۔ رقص و موسیقی کے ساتھ شروع ہوتا اور حافظائیں سازوں کی دُھن پر ناچنا شروع کرتیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ، نیم دائرہ بناتی ہوئی اس سر ے سے اُس سرے تک چلی جاتیں۔ پاؤں کی حرکتوں کے لئے بڑی مہارت اور پُھرتی کی ضرورت ہوتی تھی۔ رقاصائیں جسم کے دوسرے حصوں کی طرح آنکھوں کو بھی حرکت میں لائیں جس کے لئے بڑی ماہرانہ قدرت ضروری ہے تا کہ مختلف جذبات و کیفیات کا اظہار ہو سکے۔

    حافظہ رقص مغل دورِ حکومت سے لے اُس صدی کی ابتدا تک عوام و خواص دونوں میں بہت مقبول رہا۔ حتیٰ کہ بعض ظالم و جابر پٹھان گورنر بھی ان کے حسن کے جادو سے نہ بچ سکے۔ مثلاً امیر خان جو ان شیر کے دربار میں رقاصاؤں کا ایک طائفہ رہتا تھا۔ جن کا خرچ سرکاری خزانے سے ادا ہوتا تھا۔ وہ اپنا زیادہ وقت ڈل کے پاس باغات میں گذارا کرتا اور اپنی پسندیدہ حافظہ کے دل فریب رقص و موسیقی سے لطف اندوز ہوتا۔

    اس طرح اس وادی کے سکھ گورنر بھی کشمیر کی ان خوش آواز مغنیوں کے سحر میں گرفتار تھے۔ ہمیں مور کرافٹ ہیوگل اور چیوکومونٹ کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت سبھی ان کے دلدادہ تھے۔ مالکِ تخت و تاج اور اُن کے درباری جن میں فرانسیسی افسران بھی شامل ہیں۔ کشمیری حافظاؤں کے بڑے بڑے طائفے اپنی اور اپنے مہمانوں کی وابستگی کے لئے رکھتے تھے۔ اس روایت کو ابتدائی دوگرہ حکمرانوں نے بھی باقی رکھا۔

    حافظہ رقص عوام میں بھی اتنا ہی مقبول تھا۔ عام طور پر آپس میں چندہ کر کے ان کا ناچ کرایا جاتا۔ گذشتہ صدی کے چندیورپین سیاحوں کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ اُن کی ذاتی زندگی بے داغ تھی اور انہیں جتنی عقیدت اپنے فن سے تھی اتنی ہی اپنے مذہب سے بھی تھی۔ بعد میں کچھ خرابیاں پیدا ہو گئیں۔ جس کی وجہ سے سماج کا اوپری طبقہ، فن کی سر پرستی سے دست کش ہو گیا اور یہی چیزان کے زوال کا موجب ہوئی۔

    بچہ نغمہ

    حافظہ رقص عام طور پر امیروں کی تفریح کا ذریعہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ عوم کی دل بستگی کے لئے ایک قسم کا ناچ وجود میں آیا۔ کم سن لڑکوں کو حافظہ رقص کی تعلیم دی جانے لگی۔ ان کے لمبے بال رکھے جاتے اور انہیں اس قسم کا لباس پہنچایا جاتا۔ ان لڑکوں کے ساتھ اتنے ساز اور ساز ندے نہیں ہوتے جو حافظ رقص کی خصوصیت ہے بلکہ صرف شہنائی اور ڈھولک بجانے والے ہوتے ہیں۔ ناچ او ر گانے کا یہ طریقہ بچہ نغمہ کہلاتا ہے۔ اور دیہات کے لوگوں میں بہت مقبول ہے۔ خصوصاً فصل کاٹنے کے بعد جب لوگوں کو فرصت ہو جاتی ہے تو جگہ جگہ بچہ نغمہ کی محفلیں ہوتی ہیں۔

    واتل دھومل

    شری واردر جو نراج نے اپنے روزنامچوں میں تہواروں کے موقع پر ہونے والے لوک ناچوں کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔ پُرانے زمانے کے اس لوک ناچ کا نمونہ واتل خانہ بدوشوں کے رقص میں ملتا ہے۔ اس سلسلے کا پہلا تہوار 'دعوت گلاب' کے نام سے موسوم ہے۔ جو ہر سال موسم بہار میں نشاط باغ کے پاس منایا جاتا ہے۔ پھر ہر مہیںے کے بعد یہ تہوار مانسبل، شادی پورہ، انت ناگ اور چھ بل میں منایا جاتا ہے۔ یہ واتل رقاص لمبے لمبے جھنڈے لئے پھرتے ہیں جو میلے کا نشان ہوتا ہے اور میلے کی تاریخوں میں ان جگہوں پر پہنچ جاتے ہیں۔ وہ پیدل سفر کرتے ہیں اور راستہ بھر اپنے رقص کا مظاہرہ کرتے جاتے ہیں۔

    اس رقص میں تیس چالیس جوان شرکت کرتے ہیں۔ یہ لوگ چغہ اور مخرومی ٹوپی پہنے ہوئے ہوتے ہیں۔ جس میں کوڑی شیشے کے دانے اور چاندی کے گوشوارے وغیرہ ٹکے ہوئے ہیں۔ اس رقص کے ساتھ کئی ڈنکے ہوتے ہیں۔ رقص اس طرح شروع ہوتا ہے کہ رقاص جھنڈے کے چاروں طرف آہستہ آہستہ گھومتے ہیں اور ہر قدم ڈنکے کی چوٹ کے ساتھ اٹھتا ہے۔ رفتہ رفتہ رقص میں تیزی آ   جاتی ہے۔ ڈنگے والے اور رقاص دونوں اچھلتے کودتے، طرح طرح کی آوازیں نکالتے اور جسم کو زور سے جھٹکتے ہوئے جھنڈے کے چاروں طرف ۔۔۔زور سے گھومنے لگتے ہیں۔ جب یہ رقص نقطہ عروج پر پہنچ جاتا ہے تو ڈنکایک بیک بند ہو جاتا ہے اور رقاص اچانک کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک عجیب طرح کی خاموشی چھا جاتی ہے جوناچنے اور ناچ دیکھنے والوں کو محو کر لیتی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد ناچ پھر شروع ہو جاتا ہے۔ جب تک میلہ رہتا ہے ساری فضا دھمال کی آواز سے گونجتی رہتی ہے۔

    رُوف رقص

    لوک ناچ کی زیادہ دلاآویز قسم رُوف ناچ ہے جو اس وادی کے خاموش اور پُرسکون ماحول کے عین مطابق ہے۔ گانے کی ہلکی آواز اور رقاصاؤں کی سبک خرامی جہلم کی سُست روانی اور گرمیوں کی شام میں جھیل ڈال کے سناٹے اور خاموشی سے پوری طرح ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔

    رُوف عورتوں کا ناچ ہے۔ تہواروں اور فصل کاٹنے کے زمانے میں رُوف ناچنے والیوں کے رقص و موسیقی کی آواز سے ساری فضا گونج اُٹھتی ہے۔ دس یا پندرہ ناچنے والیوں کی دو ٹولیاں ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ دے کر یہ ایک زنجیر کی شکل بنا لیتی ہے۔ زرق برق لباس پہنے اور دل کش گیت گاتی ہوئی یہ رقص شروع کرتی ہیں۔ ایک قدم آگے بڑھتا ہے اور ایک قدم پیچھے اُٹھتا ہے۔   اس طرح سےدونوں ٹولیاں یکے بعد دیگرے رقص کرتی ہیں۔ ان کے ساتھ کوئی ساز یا باجہ نہیں ہوتا۔ یہ خود اپنے منہ سے اس طرح کی آوازیں نکالتی ہیں جو اس رقص کے لئے ساز کا کام دیتی ہیں۔ اس رقص میں واتل دھل کی طرح جوش و خروش ، اور زندگی نہیں ہوتی مگر اس سے بڑا سکون ملتا ہے اور اس کے گانے کی دل کش آواز بہت دنوں تک کانوں میں   گونجتی رہتی ہے۔

    بکت ناچ

    یہ ایک ایسا ناچ ہے جو جوان لڑکے اور لڑکیاں گلیوں اور صحنوں میں محض اپنی خوشی کے لئے ناچتے ہیں۔ ناچنے والوں کا ایک ایک جوڑا بن جاتا ہے۔ اور وہ اپنے دائیں ہاتھ سے دوسرے کا بایاں ہاتھ اور بائیں ہاتھ سے دایاں ہاتھ تھام لیتے ہیں پھر وہ چکر لگانا شروع کرتے ہیں۔ سراور جسم پیچھے کو جُھکا رہتا ہے اس کے ساتھ کوئی باجا نہیں بجایا جاتا ہے۔ ناچنے والے خود ہی گاتے جاتے ہیں اور ان کا یہ گیت بڑا دل کش اور موزوں ہوتا ہے۔ رفتہ رفتہ ناچ میں تیزی آ جاتی ہے اور ناچنے والے اتنی تیزی سے چکر کاٹنا شروع کر دیتے ہیں کہ بعض وقت تو ان کی شکلوں کو پہنچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔

    ہندوؤں میں پُرانا رقص شیورائری و سرجن کے تہوار کی شکل میں اب بھی زندہ ہے۔ یہ تہوار گھاٹ پر یاندی کے کنارے منایا جاتا ہے۔ جہاں عورتیں پُوجا کرنے کے بعد اپنا چہرہ اوپر اٹھائے ہوئے سات بار چکر لگاتی ہیں۔ اس طرح یگیہ پویت(جنیورسم) کے خاتمے کے بعد جب بچہ سنکلپ بھینٹ کرنے ندی کنارے جاتا ہے تو گھر کی مالکن اپنے مکان کے احاطے میں خوشی و مسرت سے ناچ اٹھتی ہے کہ اپس کا لڑکا اب براہمنوں میں شامل ہو گیا۔

    لداخ کا نقلی چہروں والا ناچ

    قومی اور لوک ناچوں پر اس علاقے کے جغرافیائی حالات کا اثر پڑتا ہے جہاں یہ نشوونما پاتے ہیں۔ چوں کہ لداخی اُونچے پہاڑوں اور ویران چوٹیوں کے درمیان گھر سے گویا دُنیا کی چھت پر رہتے ہیں۔ اس لئے ایک طرف وہ فطرت کے پُجاری ہیں اور دوسری طرف خوف زدہ بھی۔ اور ان دونوں چیزوں کا اظہار وہ اپنے مشہور نقلی چہروں والے ناچ اور نقالی سے کرتے ہیں۔ ان کے ناچ میں شواموں (تانبے کا لمبا بگل) کی بھرپور اور گونج دار آواز گونج اٹھتی ہے۔ ان کے گول ڈنکے زور زور سے بجائے جاتے ہیں اور اس طرح وہ ان گپھاؤں میں روز کی عبادت کرتے ہیں جو اس علاقے میں بہ کثرت موجود ہیں۔ چند مشہور بدھ خانقاہوں میں جو سالانہ میلے لگتے ہیں اس موقع پر ان کا یہ علاقائی اور تمثیلی ناچ ایک لازمی جذو کی حیثیت رکھتا ہے۔

    لداخ کے "لامارقص" میں عام طور پر بُرائی پر اچھائی کی فتح دکھائی جاتی ہے۔ جمیس کے مقام پر جون میں یہ ڈراما دکھایا جاتا ہے اور لداخ کے مختلف حصوں کے علاوہ بہت سے لوگ لاہول کشمیر کی وادی اور جموں سے بھی آتے ہیں۔

    یہ رقص خانقاہوں کے وسیع صحن میں شروع ہوتا ہے اور صبح سے لے کر رات گئے تک ہوتا رہتا ہے۔ اس میں کئی ایکٹ ہوتے ہیں جس میں خیر کو شرپر فتح یاب دکھایا جاتا ہے۔ سارے اداکار اور موسیقار لاما ہوتے ہیں۔ رقص بگلوں منجیروں اور گول ڈنکوں کو بجانے کے ساتھ شروع ہو جاتا ہے۔ پندرہ، بیس رقاص اسٹیج پر آتے ہیں وہ سیاہ ہیٹ پہنچے اپنے بغل میں ایک برتن لیے ہوئے ہوتے ہیں جس سے وہ مقدس پانی چھڑ کتے ہیں۔ اس کے بعد دوسری جماعت آتی ہے جن کی آدھی شکل انسانوں کی اور آدھی راکھششوں کی ہوتی ہے، اور وہ اپنی بے ڈھنگی جنبشوں اور حرکتوں سے ایک انسانی روح (جس کا جسم اسٹیج پر پڑا رہتا ہے) پر اپنے بُرے اثرات ڈالتے ہیں تا کہ اس کی نجات نہ ہو۔ ٹھیک اس وقت جب کہ روح اس بدی کی طاقت کے آگے سرنگوں ہوا چاہتی ہے۔ ناچنے والوں کی ایک دوسری جماعت آتی ہے جو بلکے رنگ کے چغے پہنے اور بھلے لگنے والے چہرے لگائے ہوتی ہے۔ وہ بدی کی ان طاقتوں سے جنگ کرتے ہیں اور انہیں مار بھگاتے ہیں۔

    جب نیکی کی طاقتیں واپس چلی جاتی ہیں تو راکھشش اور بھوت اسٹیج پر پھر آ جاتے ہیں۔ سفید و مزبل جسم کھوپڑی کی شکل کے نقلی چہرے لگائے لانبی انگلیاں اور انگوٹھے بنائے تا کہ انسانی پنجر کی طرف نظریں اٹھیں۔ سفید اور چپست لباس پر سُرخ ڈورے ہوتے ہیں جن کا مقصد ہڈیوں کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔

    وہ اس انسانی لاش کے گرد دیوانہ وار رقص شروع کر دیتے ہیں اور اپنے شیطانی خنجر ہوا میں لہراتے اور دھمکاتے ہیں۔ پاگلوں کی طرح چیختے ہیں اور پھر چھپٹے ہیں اور خنجرلہراتے ہیں۔ بعض مرتبہ کوئی فقیر یا سنیاسی کوئی منتر یا انسوں پڑھ کر پھونکتا ہے اور یہ بد روحین غائب ہو جاتی ہیں۔ لیکن پھر نمودار ہو جاتی ہیں۔ اور اپنے خنجر کو ہوا میں لہرانے لگتی ہیں۔

    اس کے بعد بارہ سنگھ کے سراور نیلے چہرے والا دوزخ کا خدا اپنی تلوار کے ساتھ نمودار ہوتا ہے اور لاش کے اوپر کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی تلوار لہراتا ہے۔ گویا اس لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے لیکن ہر مرتبہ کسی بزرگ شخص کی مداخلت سے اپنی کوشش میں ناکام رہتا ہے۔

    اس کے بعد گنز و مزاح شروع ہو جاتا ہے۔ ایک موٹا مسخرا اسکول ماسٹر کے بھیس میں داخل ہوتا ہے جو مشکل سے چل سکتا ہے اور اس کے پیچھے گلابی چہرے لگائے بہت سے اسکول کے بچے شور مچاتے ہوئے اسٹیج پر آتے ہیں وہ ایک جگہ بیٹھ جاتا ہے اور ان بچوں کو پڑھانا شروع کرتا ہے۔ مگر بچے اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان بچوں کو اپنی چھڑی سے مارنا چاہتا ہے۔ مگر ہمیشہ اس سے غلطی ہو جاتی ہے اور یہ شریر بچے پٹنے سے بچ جاتے ہیں۔ یہ مذاق بہت دیر تک چلتا رہتا ہے اور تماشہ بینوں کا ہنستے ہنستے بُرا حال ہو جاتا ہے۔ خصوصاً اس وقت تو خوف قہقہہ لگایا جاتا ہے۔ جب ان میں سے کوئی لڑکا ماسٹر سے چھڑی چھین لیتا ہے اور اس کو ہی بھگا دیتا ہے۔

    جموں کا بھنگڑہ رقص

    مختلف جغرافیائی حالات کی وجہ سے جموں نے رقص و موسیقی و مصوری میں اپنی علیحدہ انفرادیت قائم کر لی ہے۔ ڈوگرہ بہادروں کے لئے بھنگڑہ جیسے جان دار اور پُر جوش ناچ کے علاوہ اور کوئی رقص پسندیدہ نہ ہو سکتا تھا۔ میلے اور تہواروں کے موقع پر صرف مرد اس رقص میں حصہ لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ صرف ڈھول زور زور سے بجایا جاتا ہے اور دیکھنے والا بھی مست ہو کر ناچنے لگتا ہے۔

    جموں کی وادیوں میں رہنے والوں نے رقص کا اپنا ایک انوکھا طریقہ نکالا ہے۔ وہ کیمپ کے آگے جلتی ہوئی آگ کے اردگرد ناچتے ہیں۔ کافی آگ روشن کی جاتی ہے اور ناچنے ولاے رنگین لباس پہنے "ڈھول اور سنکھ کی۔ تال پر آگ کے چاروں طرف گھومتے ہوئے رقص کرتے ہیں۔