موہن کھوکھر

موہن کھوکھر

کلاسیکی رقص کی دیگر اصناف

    کلاسیکی رقص کی دیگر اصناف

    ہندوستان کا کلاسیکی رقص ارتقاکی کئی منزلوں سے گزرا ہے۔ قدیم ہندوستان میں رقص ڈراما(ناٹیہ) کا لازمی جزو تھا جس میں غنائی اور ترنمی عناصر کو بہت زیادہ دخل تھا۔

    ویدک زمانے سے ہی رقص کا بذات خود الگ وجود رہا ہے۔ جس کے ساتھ "بھینئے" یا معنی خیز اشارات سے کام لیا جاتا تھا۔

    کلاسیکی رقص دراصل فنِ رقص کی وہ صنف ہے جس میں بھرت کے ناتیہ شاستر اور دیگر فنی کتابوں میں درج تکنیک اور طریقہ کار کو بدستور قائم رکھا گیا ہے۔

    ہندوستان کے کلاسیکی رقص کی چار مشہور قسمیں یہ ہیں۔ بھرت ناٹیم کتھا کلی، کتھک اور منی پور۔ یہ چاروں قسمیں اگرچہ متحد الاصل ہیں لیکن ان میں اپنے اپنے علاقے کا رنگ غالب نظر آتا ہے اور ہر ایک میں مشترکہ روایات کے کسی نہ کسی پہلو کو اہمیت دی جاتی ہے۔

    کلاسیکی رقص کی یہ چاروں قسمیں اس قدیم رقص کی نکھری ہوئی صورتیں ہیں۔ جو عوام کی زندگی اور کلچر سے وباستہ رہا ہے۔ رقص کی یہ قدیم اصناف اگرچہ اپنے اپنے علاقے کے باہر کم معروف ہیں۔ لیکن انہیں بھی کلاسیکی رقص کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ ان میں بڑی حد تک رقص اور ڈراما کے قدیم اصولوں کی پیروی کی جاتی ہے۔

    ہندوستانی کلاسیکی رقص کی یہ کم معروف اصناف زیادہ تر جنوبی ہند میں پائی جاتی ہیں۔ اور خاص کر کیرالا میں۔ ان میں سے اہم اصناف یہ ہیں:

     چکیار کوٹھو کڈیا ٹم، پاتھ کم، کرشنا ٹم، راماناٹم، موہنی ٹم اور تُلل تا مل ناڈ(مدارس) میں بھاگوت میلا ناٹک اور کرونجی آندھرا پردیش میں کوچی پوڈی اور کرناٹک (میسور) میں یُکشن گان کا رواج ہے۔

    اس قسم کے دور رقص اڑلسیہ میں بھی پائے جاتے ہیں وہ ہیں چھاؤ او۔ او۔ موڈیسی۔

    کوٹھو

    کیرالا کا چکیار کوٹھو رقص ایک بہت قدیم فن ہے اس کو چکیار کوٹھواس لئے کہتے ہیں کہ چکیا ر ذات کے لوگ ہی اس میں حصہ لیتے ہیں۔ یہ لوگ کیرالا میں مندروں کے پشینی خادموں میں سے ہوتے ہیں۔

    کوٹھو ایک قسم کا قدیم تفریحی رقص ہے۔جو اصولاً بعض مخصوص مندروں میں ہی ہو سکتا ہے۔ ان مندروں میں مستقل تھیٹر ہوتا ہے جس کو کوتھم بلم کہتے ہیں۔ یہ ایک قسم کا چھوٹا موٹا اسٹیج ہی ہوتا ہے جسے بڑی خوبصورتی کے ساتھ سجایا جاتا ہے۔

    چکیار ایک ماہر فن قصہ گو ہوتا ہے جو اپنے مخصوص انداز میں پُرانوں اور روزمیہ داستانوں کے واقعات بیان کرتا ہے۔ جب وہ کوئی قصہ بیان کرتا ہے تو اپنی ذہانت سے کام لے کر اس میں بہت سی تلمیحات شامل کر دیتا ہے۔ اور مسخرے پن کے ساتھ اپنے زمانہ کی سماجی اور سیاسی کمزوریوں کا بھی پردہ فاش کرتا ہے۔ اس کو اپنے اردگرد کی ہر ایک بات پر نکتہ چینی کرنے کی پوری آزادی حاصل ہوتی ہے۔

    کوٹھو رقص ہمیشہ دن میں اور عام طور سے تیسرے پہرکیا جاتا ہے۔ ایک خصوصیت یہ ہے کہ دن میں بھی ایک بڑی شمع جس کو "نیل دِلکو" کہتے ہیں۔ پورے وقت جلتی رہتی ہے۔ یہ رقص عام طور سے کوئی تین گھنٹہ تک ہوتا ہے۔ چکیار ایک چھوٹے سے اسٹول پر بیٹھ کر مندر کے سب سے بڑے دیوتا کی حمد میں منتر پڑھنا شروع کرتا ہے اور اگر وہ چاہتا ہے تو دوسرے دیوی دیوتاؤں کی حمد بھی اس حمد میں شامل کر لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ کھڑے ہو کر واقعہ سے متعلق سنسکرت اشلوک پڑھتا ہے اور پھر آسان ملیالم میں اس کے معنی بیان کرتا ہے۔ اس بیان کے دوران میں وہ کہانی کے مختلف کرداروں کا رول خود ادا کرتا جاتا ہے۔ اور مختلف قسم کی حرکات اور اشارات سے کام لیتا ہے۔ بعض اوقات وہ پورے جسم کو حرکت میں لا کر ناچنے لگتا ہے۔ یہ ناچ بڑا سیدھا سادا ہوتا ہے۔

    دیگر لوازم

    رقص کے ساتھ ڈھول اور منجیرے بجائے جاتے ہیں۔ ڈھول جو "کڑوادو" کہلاتا ہے۔ تانبے کا بنا ہوتا ہے۔ ڈھول صرف چکیار کی سنگت کے لئے بجایا جاتا ہے اور نمبیار ذات کا کوئی فرد ہی اس کو بجاتا ہے۔ منجیرے کوئی عورت بجاتی ہے جس کو ننگیار کہتے ہیں۔ یہ عام طور سے ادا کار "چکیار" کی بیوی ہوتی ہے۔ ننگیار کا کام ذرا مشکل ہوتا ہے۔ کیوں کہ اُسے منجیروں پر چکیار کی سنگت کرنے کے علاوہ اس بات کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے کہ اس کے چہرے پر برابر سنجیدگی چھائی رہے۔ دیکھنے والے خواہ کتنے ہی قہقے لگائیں مگر اس کو برابر اپنی سنجیدگی قائم رکھنا ہوتی ہے۔ ننگیار چکیار کے دائیں جانب کھڑی ہوتی ہے اور نمبیار اپنا ڈھول لے کر بائیں جانب بیٹھتا ہے۔

    کتھا کلی رقاص کے مقابلے میں چکیار کی پوشاک اور میک اَپ معمولی ہوتا ہے۔ اس کا چہرہ روائتی طریقہ پر تین رنگ یعنی سفید، سُرخ اور سیاہ رنگوں سے رنگ دیا جاتا ہے۔ پیشانی، سینے اور بازو پر چندن لگایا جاتا ہے۔ گھٹنوں تک نیچا ایک گھاگھرا پہنا جاتا ہے اور اس کے اوپر اُتری یم باندھا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح کی جڑاؤ پٹی ہوتی ہے۔ ٹخنوں سے ذرا اوپر گھنگھرو باندھے جاتے ہیں اور بازوؤں پر جوشن وغیرہ ہوتے ہیں۔ سر پر ایک جڑاؤمکٹ پہنا جاتا ہے جو صافہ کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ یہ مُکٹ چکیار کے لئے عزت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ رقص کے دوران میں وہ کبھی اس مُکٹ کو اُتارتا نہیں۔ اگر کبھی مُکٹ اُتار دے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ دیکھنے والوں کی کوئی بات یا حرکت اسے بُری لگی ہے بس فوراً وہ اپنا رقص بند کر دیتا ہے اور پھر اُسے کوئی رضا مند نہیں کر سکتا۔ ایسی صورت شاذو نادر ہی پیش آتی ہے۔

     کُڈی یاٹم

    جب بہت سے چکیار مل کر  ڈراما، پیش کرتے ہیں تو اس کو "کُڈی یا ٹم" کہتے ہیں۔ جس کے معنی ہیں مل کر چنا۔

    اس میں سنسکرت ڈرامے پیش کئے جاتے ہیں۔ مردانہ کردار چکیار ادا کرتے ہیں اور زنانہ کردار نگیار۔

    کُڈی یا ٹم بڑے اہتمام کے ساتھ منعقد کیا جات اہے۔ اس کی شروعات میں بھی تین سے لے کر پانچ دن تک لگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد اصلی ڈراما شروع ہوتا ہے اور یہ بھی تین سے لے کر دس دن تک ہوتا رہتا ہے۔ پہلی رات کو "سوترنھار" اسٹیج پر آتا ہے وہ کچھ اشلوک پڑھتا ہے اور تھوڑا بہت رقص بھی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ اس رات کا کھیل ختم ہو جاتا ہے۔ دوسری رات کو ڈرامے کا ہیرو نمودار ہوتا ہے۔ اور کھیل دیکھنے والوں سے کہانی کا تعارف کراتا ہے۔ تیسری رات کو "وِدو شک" آتا ہے اور تین یا چار راتوں تک رقص اور موسیقی کے ذریعہ مقاصدِ زندگی، بیان کرتاہے۔ اس کے بعد ہی اصلی کھیل شروع ہوتا ہے۔

    کُڈی یا ٹم کے کردار خاموش رہتے ہیں۔ وہ اپنے "ابھینے" یعنی معنی خیز اشاروں سے ڈراما پیش کرتے ہیں اور موسیقار یا دُود شک' گاتے ہیں۔ ڈراموں کی زبان عام طور سے سنسکرت ہوتی ہے لیکن ودود شک ملیالم میں اس کا مطلب بیان کرتا ہے۔ اس میں رقص کم ہوتا ہے اور 'ابھینئے" کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ جو چہرے کے اُتار چڑھاؤ اور ہاتھوں کی حرکات سے ادا کیا جاتا ہے۔ اس میں میک اپ خاصا ہوتا ہے۔ پوشاک رنگ برنگی اور بھڑکیلی ہوتی ہے جو کتھا کلی سے بہت کچھ ملتی جلتی ہے۔

    پاٹھکم

    چکیار کوٹھو یا پوابندھ کوٹھو کے مماثل رقص کی ایک اور صنف بھی ہے۔ جسے'پاٹھکم' کہتے ہیں۔ اس میں نہ تو صرف گانا ہوتا ہے نہ محض رقص یا اداکاری بلکہ اس میں ان تینوں چیزوں کا ایک خوبصورت امتزاج پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے موضوعات زرمیہ داستانوں اور پُرانوں سے لئے جاتے ہیں۔ پاٹھکم کسی جگہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے اسٹیج یا پردے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ البتہ ایک شمع ضرور رکھی جاتی ہے۔

    یہ رقص پرار تھنا سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے عبد رقاص اپنے فن کے بارے میں پوری تفصیلات بیان کرتا ہے۔ اور پھر کلاسیکی ادب کے کچھ حصے پڑھ کر سُناتا ہے۔ اور ملیالم میں اس کی تشریح کرتا جاتا ہے ۔ اور ساتھ ساتھ حالیہ سماجی معاملات پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ اس میں کہیں کہیں رقص اور اداکاری کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے اور ہاتھوں کی حرکات سے خوب کام لیا جاتا ہے۔ پاٹھکم کے اداکار کی پوشکا اور میک ا بڑا سیدھا سادا ہوتا ہے۔

    کرشناٹم

    کیرالا میں کلاسیکی رقص کی ایک دوسری صنف "کرشنا ٹم "ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پندرھویں صدی ک وسط میں شروع ہوئی تھی۔ کرشناٹم رقص ڈراما کی ایک قسم ہے۔ جس میں کئی کردار ہوتے ہیں۔ اس ڈراما کا متن "کرشنا گیتی" کہلاتا ہے۔ جس کی زبان سنسکرت اور رسم الخط ملیالم ہوتا ہے۔

    یہ پورا ڈرا ما آٹھ رات میں ختم ہوتا ہے۔ بھگوان کرشن کی پیدائش سے لے کر ان کی وفات تک سارے واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔

    کرشنا ٹم نے ہی بعد کو فنی طور پر ترقی کر کے کیرالا کے مشہور و معروف کتھا کلی رقص کی صورت اختیار کر لی۔ اس میں بھی ہاتھوں کی حرکات اور چہرے کے اُٹار چڑھاؤ سے کام لیا جاتا ہے۔ مگر کتھا کلی کی طرح ترقی یافتہ صورت میں نہیں البتہ میک اپ پوشاک اور زیورات تقریباً کتھا کلی سے ملتے جلتے ہیں۔ اور اس کی موسیقی بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ کرشنا ٹم کے بیشتر اداکار روائتی انداز میں اپنے چہروں کو رنگتے ہیں۔ اور بعض اداکار مصنوعی چہرے بھی لگا لیتے ہیں۔ کرشنا ٹم کی بنیاد "گیت گوند" پر قائم ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے پہلے کیرالا میں ایک اور قسم کا رقص ڈراما موجود تھا۔ جو انیلی پدا ٹم "کہلاتا تھا۔ یہ بڑا سیدھا سادا ڈراما تھا جس میں صرف تین کردار یعنی "کرشن" "رادھا" اور "سکھی" ہوتے تھے۔

    "کرشنا ٹم" سے ہی راماناٹم پیدا ہوا جو بعد کو کتھا کلی کے نام سے مشہور ہو گیا۔

    تُلل

    کیرالا کا ایک اور مقبول عوام رقص تُلل ہے۔ یہ اٹھارویں صدی کے شروع میں عالم وجود آیا۔ اور یہ کنچین بمبیار نامی ایک شخص کے دماغ کی پیداوار ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ 'نمبیار' جو کہ اس وقت معمولی آدمی تھا۔ کوٹھو رقص میں ڈھول پر چکیار کی سنگت کر رہا تھا۔ اس کا فن ناقص تھا۔ جس پر چکیار کو غصہ آیا اور اس نے فوراً ناچنا بند کر دیا۔ اور ڈھول بجانے والے کو بری طرح سے ڈانٹنا شروع کیا۔ دیکھنے والوں نے نمبیار کا بھی مذاق اُڑایا۔ اس سے نمبیار کے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچی اور اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ اپنے فن میں کمال حاصل کر کے ان لوگوں کو منہ توڑ جواب دے گا۔ چناں چہ  اس نے دن رات محنت کر کے رقص کی ایک نئی صنف ایجاد کی اور پھر اُسی مندر میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا جہاں کچھ دن پہلے اس کی بے عزتی ہوئی تھی۔ اس وقت 'چکیار' بھی موجود تھا۔ نمبیار کا رقص اس قدر پسند کیا گیا کہ لوگوں نے چکیار کی طرف سے منہ موڑ لیا۔

    تُلل رقص ہمیشہ ایک شخص ہی کرتا ہے۔ اور یہ رقص عام طور سے مندر کے تہواروں میں ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی نجی طور پر بھی کیا جاتا ہے یہ رقص کوئی دو گھنٹے چلتا ہے۔ رقص کے ساتھ گانا بجانا بھی ہوتا ہے۔ ڈھول اور منجیرےبجائے جاتے ہیں۔ ڈھول چھوٹا سا ہوتا ہے جس کو "مڈلم" کہتے ہیں۔

    رقاص پہلے کچھ گاتا ہے اور اس کے بعد اشاروں سے اس گیت کی تشریح بیان کرتا ہے۔ اس کی اداکاری 'کتھا کلی رقص' سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ جَوں جُوں رقص کی رفتار تیز ہوتی جاتی ہے۔ رقاص گانا چھوڑ کر اپنی توجہ رقص پر مرکوز کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھی گانا جایر رکھتے ہیں۔ بعض اوقات رقاص اداکاری بھی چھوڑ دیتا ہے اور تیزی کے ساتھ ناچنے لگتا ہے۔

    اس کے علاوہ جو دیگر اصناف کم معروف کلاسیکی رقص کے ضمن میں آتی ہیں وہ تاس ناڈ، احمدھرا، میسور، اڑیسہ اور بہار میں پائی جاتی ہیں۔ ان میں بھاگوت میلاناٹک ، کُرونجی، موہنی اٹم، کوچی پوڑی، ایکش گان اور چھاؤ شامل ہیں۔

    بھاگوت میلا

    بھاگوت میلا ناٹک ایک قسم کا رقص ڈراما ہے جس کو تقریباً تین سو سال پہلے تیرتھ نرائن نینی نامی ایک جوگی نے تیار کیا تھا۔ اس نے پُر ان کے موضوعات پر کئی رقص ڈرامے تیار کئے تھے۔ جو مندروں میں کھیلے جاتے تھے آج جس صورت میں بھاگو ت میلا پایا جاتا ہے اس کو ڈیڑھ سو سال پہلے موسیقی اور رقص کے مشہور ماہر وینگٹارام شاستری نے مرتب کیا تھا۔ یہ ڈرامے وشنوی مندروں کے تہواروں پر کھیلے جاتے تھے۔ زمانے کی ناقدری کی وجہ سے اس فن کو بڑا نقصان پہنچا ہے اور آج یہ صرف میلا ٹور نامی گاؤں میں باقی رہ گیا ہے۔ جو تنجور سے دس میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہ گاؤں ہمیشہ سے فن کا گہوارہ رہا ہے۔

    جہاں تک رقص کا تعلق ہے۔ اس رقص ڈرامہ کی تکنیک بھرت ناٹیم کے اصولوں کے مند ہے ۔ جسم کی حرکات و سکنات مختلف قسم کے انداز اور چہرے کے اُتار چڑھاؤ میں بھی انہیں اصولوں کی پیروی کی جاتی ہے۔ اس کی موسیقی کرناٹک کی خالص کلاسیکی روایات کی حامل ہے۔ اس میں حصہ لینے والے سب مرد ہوتے ہیں۔

    اس ڈرامے کو بالکل اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسا رَمُصنف نے لکھا ہے موسیقار گیت گاتے ہیں اور رقاص اپنی حرکات و سکنات سے اس کی تشریح کرتے ہیں۔ رقاص بھی دھیمی آواز میں گائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات گانوں کے علاوہ مکالمے بھی ہوتے ہیں جن کے ساتھ ساتھ رقاص اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتا ہے۔

    سالہا سال سے یہ ڈرامے ایک ایسے اسٹیج پر ہوتے ہیں۔ جو سڑک پرنڈیال بنا کر تیار کر لیا جاتا تھا۔ شمعیں اورمشعلیں جلا کر روشنی کی جاتی تھی۔ اسٹیج پر پودے نہیں ہوتے تھے۔ البتہ اب اسٹیج کی نئی تکنیک سے بھی کام لیا جانے لگا ہے۔

    آج کل بھاگوت میلہ میں جو پوشاک استعمال کی جاتی ہے اس میں نئی اور پُرانی روایات کا امتزاج ملتا ہے۔

    کُرونجی

    کُرونجی ایک طرح کا بیلے Ballet   ہے جس میں پانچ سے لے کر آٹھ عورتیں حصہ لیتی ہیں کرونجی ایک ادبی تخلیق ہوتی ہے۔ یہ ایک منظوم ڈرامہ ہے جس میں رقص کے لئے گنجائش ہوتی ہے۔ کُرونجی کی تکنیک وہی ہوتی ہے جو بھرت ناٹیہ کی مختلف اصناف میں استعمال ہوتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ "ساور ناچ" میں صرف ایک عورت رقص کرتی ہے اور بھاگوت میلہ ناٹک میں مرد بھی حصہ لیتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا رقص ڈرامہ ہے۔ اس کے مقابلے میں کُرونجی ایک قسم کا بیلے Ballet ہے اور اس میں صرف عورتیں ہی شریک ہوتی ہیں۔

    سوہنی اٹم

    تامل ناڈکے سا   حدناچ یا ڈیسی اتم کی طرح کیرالا میں ایک اور رقص ہوتا ہے جس کو موہنی اٹم کہتے ہیں۔ اس میں صرف عورتیں حصہ لیتی ہیں۔ کہتے ہیں پہلے مرد بھی شریک ہوا کرتے تھے۔ تکنیک کے اعتبار سے مُوہنی اٹم، بھرت ناٹیہ سے بہت کچھ ملتا جلتا ہے۔ ہان اس میں بھرت ناٹیہ کا ساوقار اور ٹھہراؤ نہیں پایا جاتا۔ موہنی اٹم میں نہ تو زیادہ اچھل کود ہوتی ہے اور نہ زور زور سے پیر مارے جاتے ہیں۔ موہنی اٹم کی حرکات و سکنات زیادہ تر بھرت ناٹیہ کی طرح ہوتی ہیں۔ لیکن اس میں 'کتھا کلی' کے اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ بھرت ناٹیہ کی طرح موہنی اٹم میں 'نرت' یعنی خالص رقص اور نرتیہ یعنی اشاراتی رقص ہوتا ہے۔

    بھرت ناٹیہ کی طرح موہنی ۔۔۔۔۔۔۔بھی کرنا ٹکی موسیقی سے کام لیا جاتا ہے۔لیکن گیتوں کی زبان ملیالم ہوتی ہے۔ یہ رقص کسی وقت اور کہیں بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے کسی اسٹیج یا پردے وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی میک اپ اور پوشاک بھی سادہ ہوتی ہے رقاصائیں سفید جیکٹ اور ساری پہنچتی ہیں۔ بالوں کا جُوڑا باندھ لیتی ہیں اور اس میں چنیلی کے پھول لگاتی ہیں۔ چہرہ پر ہلکا سا پاؤڈر لگایا جاتا ہے۔ آنکھوں اور ابروؤں کو سنوارا جاتا ہے اور ہونٹوں پر سُرخی لگائی جاتی ہے۔ رقاصائیں کیرالا کے روائتی زیورات پہنتی ہیں۔

    یکشن گان

    ہندوستان کے کلاسیکی رقص کی ایک اور قسم یکشن گان ہے۔ جو اپنے علاقے کے باہر بہت کم معروف ہے۔ یہ بھی ایک طرح کا رقص ڈرامہ ہے۔ جو صدیوں سے کرناٹک(میسور) میں مروج ہے۔

    بنیادی طور پر یکشن گان لوک ناچ ہی ہے۔ البتہ اس نے اپنے ہمسایہ علاقے تامل ناڈا ور کیرالا سے متاثر ہو کر رقص اور ڈرامہ کی کلاسیکی روایات کو اپنانے کی کوشش کی ہے۔ اس میں رقاص گیت گاتے ہیں۔ مکالمے بولتے ہیں اور اداکاری اور رقص کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کی زبان عام طور سے آسان ہوتی ہے۔ پھر بھی کہیں کہیں بلند پایہ شاعری کے نمونے ملتے ہیں۔ یوں تو یکش گان ڈرامے سال میں کسی وقت بھی گئے جا سکتے ہیں۔ لیکن عام طور سے فصل کی کٹائی کے بعد یعنی فروری اور مارچ اور دیوالی اور شیوراتری ر ہی اسٹیج کئے جاتے ہیں۔ یکش گان کسی جگہ بھی ہو سکتا ہے مگر عموماً یہ مندر کے صحن یا اس کے قریب کسی کُھلی جگہ کھیلا جاتا ہے۔ اس ڈرامے کے اداکار مرد ہوتے ہیں جن کی اپنی منظم جماعتیں ہیں جو منڈلی کہلاتی ہیں۔ ہر ایک منڈلی کا ایک 'بھاگوتار' ہوتا ہے۔ جو ڈرامے کا پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور منتطم ہوتا ہے۔ ان ڈراموں کے موضوعات رامائن اور مہابھارت سے لئے جاتے ہیں۔ البتہ تہور اور بہادری کے قصوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ پہلے تو سماجی موضوعات پر ڈرامے لکھنے کی ممانعت تھی۔ لیکن پچھلے 75سال سے ایسے موضوعات بھی شامل ہونے لگے ہیں۔

    یکش گان شروع ہونے سے پہلے دو آدمی اسٹیج کے سامنے ایک پردہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ڈرامے کے خاص خاص کردار اس پردے کے پیچھے آ کرناچتے ہیں اور دیوتاؤں کی پُوجا کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ لوگ ایک ایک کر کے سامنے آتے ہیں اور ذرا سی دیر رقص کر کے اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پھر ڈرامہ شروع ہوتا ہے۔ جو نہایت پرزور ہوتا ہے۔ ڈرامے میں حصہ لینے والے مکالمے بولتے ہیں اور کبھی کبھی گاتے بھی ہیں اور ہاتھوں کی حرکات اور چہرے کے اُتار چڑھاؤ سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ، 'بھاگوتا' کے ساتھ مل کر گاتے ہیں۔ گیت ، راگ اور تال میں ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی لوک دھنیں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ اس میں مردنگ اور چنیڈایہ دو ساز بجائے جاتے ہیں۔

              اداکاروں کی پوشاک بڑی رنگین اور خوبصورت ہوتی ہے۔ یہ لوگ اکثر جڑاؤ کوٹ اور زیورات پہنتے ہیں۔ سر پر طرح طرح کے مُکٹ رکھتے ہیں۔ ان کے چہرے اپنے اپنے کردار کے مطابق رنگے جاتے ہیں۔

    اوڈیسی اورچھاؤ

    اڑلیہ کا اوڈیسی رقص صدیوں پُرانا ہے۔ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ یہ رقص پہلے، اودرا ماگدھی، یا صرف" اودرا" کہلاتا تھا، بھرت ناٹیہ کی طرح یہ بھی مندروں میں پُوجا کے لئے اور عام تفریح کے لئے کیا جاتا تھا۔ مندروں میں دیوداسی طبقہ کی عورتیں یہ رقص کرتی تھیں۔ تیرھویں صدی سے پوری سے پوری کے جگن ناتھ مندر میں ہر رات کو بھگوان کو صلاتے وقت یہ رقص کیا جاتا تھا چوں کہ اس رقص میں دیو داسی عورتیں ہی حصہ لیا کرتی تھیں۔ اس لئے آئندہ دو صدیوں میں یہ بڑا بدنام ہو گیا۔ اور اس کے ساتھ ہی ناچنے والے لڑکوں کا ایک طبقہ پیدا ہوا جو زنانہ پوشاک پہن کر ناچتے تھے اور 'اکھاڑو بیلا' یا گوٹی پوا کہلاتے تھے۔ پندرھویں صدی کے بعد اس رقص کو مناسب سر پرستی نہیں ملی اور اس لئے یہ عدم توجہی کا شکار ہو گیا۔ اب قدیم ہندوستانی اصناف رقص کے ساتھ اس کا بھی احیاء ہو رہا ہے۔

    تکنیک کے اعتبار سے اُوڈیسی کا بھرت ناٹیہ سے گہرا تعلق ہے۔ اور اس میں بھرت ناٹیہ شاستر اور ابھینئے درپن اور بعض دیگراڑ یہ فنی کتابوں میں درج اصولوں کی پیروی کی جاتی ہے۔ یہ رقص نت راج اور گن پتی کی حملہ سے شروع ہوتا ہے۔ اس رقص کے ساتھ گیت گائے جاتے ہیں اور ڈھول بجتے ہیں۔ اداکاری میں ہاتھوں کی حرکت کے علاوہ چہرے کے مختلف حصوں جیسے آنکھ، ابرو، ہونٹ اور ناک سے بڑا کام لیا جاتا ہے۔ ا سکی بعض حرکتیں کتھا کلی کی تکنیک کے مطابق ہوتی ہیں اور "گھومیری" کا طریقہ کتھک جیسا معلوم ہوتا ہے۔ اوڈیسی کی موسیقی کا خالص کلاسیکی ہوتی ہے۔ اور پوشاک اور زیورات بہت کچھ ایسے ہوتے ہیں جسے بھرت ناٹیہ کے رقاص پہنتے ہیں۔ کلاسیکی رقص کی ایک دوسری صنف 'چھاؤ' ہے۔ جس کو سرائے کیلا اور کھر سوان کے لوگوں نے جنم دیا ہے۔ یہ علاقے اب بہار پردیش میں شامل ہیں۔ صدیوں تک سرائے کیلا کے راجہ نہ صرف فنِ رقص کے بڑے سر پرست رہے بلکہ خود بھی بڑے اچھے رقاص تھے۔

    اگرچہ 'چھاؤ' سال میں کسی وقت بھی ہو سکتا ہے لیکن "چیتر پرو"یعنی نوروز کے موقعہ پر اس کی دھوم دھام ہوتی ہے۔ اس وقت رقص کے مخصوص مقابلے ہوتے ہیں او ر راجہ خود جج ہوتا ہے اور انعامات تقسیم کرتا ہے۔

    سراے کیلا میں چُیتر پرو، اردھنا ریشور کی کوشنودی کیلئے ہوتا۔ پرارتھنا سے یہ تہوار شروع ہوتا ہے اس کے بعد ایک رقاص "اردھنا ریشور" کے بھیس میں دریا کے کنارے سے ناچتا ہوا شیو کے دوسرے مندر میں جاتا ہے۔ رقاص سُرخ پوشاک پہنے ہوتا ہے۔ اس کے سر پر دریا کے متبرک بانی کلسہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ڈھول اور مُرلی بجائی جاتی ہے اور دونوں طرف رضا کار مشعلیں لئے ہوئے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ محل کے پا سمندر پر پہنچ کر یہ رقص ختم ہو جاتا ہے۔ پانی کا کلسہ یہاں دفن کر دیا جاتاہے۔ جو کلسہ پچھلے سال دفن کیا گیا تھا اس کو نکال لیا جاتا ہے۔ اس کلسہ میں جتنا پانی باقی پایا جاتا ہے اس کو دیکھ کر آئندہ سال کے بارے میں پیشین گوئیاں کی جاتی ہیں۔ پہلی رات کا یہ رقص "جاتر گھٹا" کہلاتا ہے۔ اس قسم کے ناچ دوسری تیسری اور چوتھی رات کو بھی ہوتے ہیں جو بالترتیب 'برندابن' گویا بھار اور کایکا گھٹان کہلاتے ہیں ہر رات کو ابتدائی رسوم کے بعد رقص کے مقابلے بھی ہوتے ہیں۔

    "چھاؤ" رقص میں صرف مرد حصہ لیتے ہیں اور وہی زنانہ کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ رقاص پانچ یا آٹھ سال کی عمر سے اس فن کی تربیت حاصل کرنا شروع کرتے ہیں اور پانچ چھ سال تک ریاض کرتے رہتے ہیں۔ ا سکی تکنیک بڑی حد تک ناٹیہ شاستر اور ابھینئے درپن پر قائم ہے۔ لیکن بہت سے اصول و قواعد مقامی طور پر بھی وضع کئے گئے ہیں۔

    اس کی موسیقی بڑی سادہ ہوتی ہے رقص کے دوران میں موسیقار عام طور سے اسٹیج کے ایک طرف کھڑے ہوتے ہیں۔ مرونگ ، ڈھول، نگاڑا، ہنجیرے بانسری وغیرہ ساز بجائے جاتے ہیں۔

    رقاص کی پوشاک اور زیورات بہت سادہ ہوتے ہیں۔ مردانہ کردار ادا کرنے والا رقاص عموماً دھوتی، پٹکہ ہار اور مُکٹ پہنتا ہے۔ جو لوگ زنانہ رول ادا کرتے ہیں وہ پوری آستین کی جیکٹ پہنتے ہیں یا ایک کپڑے سے اپنے جسم کا اوپری حصہ ڈھک لیتے ہیں۔